پاکستان میں اس وقت اگر کسی شعبے کی پیداوار میں کمی نہیں آئی، کسی صنعت کو بجلی کی بندش، گیس کی قلت، آئی ایم ایف کے دبائو ، سیاسی ہلچل یا بجٹ خسارے نے متاثر نہیں کیا، تو وہ ہے بچوں کی پیدائش۔ یہاں کارخانے بند ہو سکتے ہیں، ملیں خاموش ہو سکتی ہیں، برآمدات سکڑ سکتی ہیں، مگر آبادی بڑھنے کا عمل نہ رکا ہے اور نہ ہی اس کے ر کنے کے کوئی آثار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ واحد صنعت ہے جو مکمل خودکار نظام پر کامیابی سے چل رہی ہے، جسکے لیے نہ کسی اجازت نامے کی ضرورت ہے، نہ کسی پالیسی کی، نہ کسی بجٹ کی اور نہ ہی ریاستی نگرانی کی۔ بس حالات جیسے بھی ہوں، بچے پیدا ہوتے رہتے ہیں، اور ریاست ہر نئی پیدائش پر ایسے چونکتی ہے جیسے یہ سب کسی اچانک قدرتی حادثے کا نتیجہ ہو۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کے بقول تقریباً 25 کروڑ سے زائد آبادی والے پاکستان میں ہر سال 62 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں ایسے میں ترقی کیسے ہوسکتی ہے؟ پاکستان اس وقت جن بڑے چیلنجوںسے دوچار ہے، ان میں مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران تو نمایاں ہیں، مگر ایک ایسا مسئلہ بھی ہے جو خاموشی سے ان تمام بحرانوں کی ماں بنتا جارہا ہے اور وہ ہے پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ۔ یہ وہ بحران ہے جو نہ صرف ریاستی وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کو بھی بے معنی بنا رہا ہے۔بین الاقوامی اداروں کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا میں آبادی کے اعتبار سے ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ آبادی کی رفتار میں بظاہر کمی کے باوجود مجموعی تعداد میں ہر سال لاکھوں افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، جو قومی معیشت، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر پر ناقابلِ برداشت دبائو ڈال رہا ہے۔ کل آبادی کے دبائو کی ایک بڑی وجہ آبادی کا نوجوان ہونا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگلے دو سے تین عشروں تک روزگار، تعلیم، رہائش، ٹرانسپورٹ اور صحت کی سہولتوں پر دبائو مسلسل بڑھتا رہے گا۔ہر سال لاکھوں بچے اس نظام میں شامل ہو رہے ہیں، ایسے نظام میں جو پہلے ہی تعلیم، صحت، روزگار اور رہائش کے بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔اگر سادہ زبان میں بیان کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے ریاست اس رفتارسے شہری سہولتیں میسر نہیں کر پا رہی۔ پاکستان کی آبادی کی کثافت اس وقت تقریباً 333 افراد فی مربع کلومیٹر ہے، جو زمین، پانی، توانائی اور عوامی خدمات پر شدید دبائو کی عکاسی کرتی ہے۔ شہروں میں یہ دبائو اور بھی سنگین ہو چکا ہے۔ ماہرین معیشت خبردار کر رہے ہیں کہ اگر معیشت کی رفتار آبادی کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہوئی تو جین زی، جو کسی بھی ملک کیلئے ترقی کا سنہری موقع بن سکتی ہے، بدامنی، بے روزگاری اور سماجی عدم استحکام میں تبدیل ہو جائیگی۔ سالانہ لاکھوں نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، مگر معیشت ان کیلئے روزگار پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بے روزگاری، مایوسی، ذہنی دبائو اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوجوانوں کو آبادی کا سرمایہ کہا جاتا ہے، مگر اس سرمائے کو استعمال کرنے کیلئے جو منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے، وہ کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ ہر بجٹ میں یہی کہا جاتا ہے کہ وسائل محدود ہیں اور حالات مشکل ہیں۔ آبادی کے مسئلے پر بات کرتے ہی ہمارے معاشرے میں عجیب سی خاموشی چھا جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کا تعلق کسی نظریے سے نہیں، بلکہ انسانی فلاح سے ہے۔ غربت، بھوک اور بے روزگاری یہ نہیں پوچھتیں کہ بچہ کس سوچ کے تحت پیدا ہوا ، وہ صرف یہ دیکھتی ہیں کہ ریاست اس کے لیے کیا کر سکتی ہے۔اس ساری صورتحال میں اب یہ سوال ناگزیر ہو چکا ہے کہ آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے کیا کیا جا سکتا ہے۔بنیادی ضرورت یہ ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کو محض محکمہ صحت کا ذیلی مسئلہ سمجھنے کے بجائے قومی ترقی کا مرکزی ستون تسلیم کیا جائے۔پاکستان میں خواتین کی آبادی تقریباً مردوں کے برابر یعنی 12 کروڑ نوے لاکھ شمار کی جارہی ہے۔عالمی تجربہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ جہاں خواتین زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی ہیں، وہاں شرحِ پیدائش خود بخود کم ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو محض سماجی مسئلہ نہیں بلکہ آبادی کے مسئلے کے حل کی کنجی سمجھنا ہوگا۔بنیادی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں تک آسان رسائی بھی ضروری ہے۔ آبادی کے مسئلے کو دینی رہنمائوں اور مقامی کمیونٹی لیڈرز کے ساتھ مکالمے کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ سیاست اور آبادی کے معاملے میں ٹکرائو کے بجائے مکالمہ، اور مخالفت کے بجائے فہم پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب یہ بات واضح ہو جائے گی کہ خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد زندگی کو بہتر بنانا ہے، نہ کہ کسی نظریے کو چیلنج کرنا، تو مزاحمت خود بخود کم ہوسکتی ہے۔ اگر موجودہ روش جاری رہی تو تاریخ شاید یہی لکھے گی کہ پاکستان میں کارخانے بند تھے، معیشت دبائو میں تھی، ریاست بے بس تھی، مگر ایک آبادی کی صنعت پوری رفتار سے چلتی رہی۔یہ صورت حال ایک واضح پیغام دیتی ہے اگر ریاست نے فوری، سنجیدہ اور غیر سیاسی بنیادوں پر آبادی سے متعلق پالیسی فیصلے نہ کئے تو آنے والی دہائیاں بحرانوں کی دہائیاں ثابت ہوں گی ۔