سراب ایک ایسا بصری فریب ہے جو حقیقت کے برعکس کسی چیز کو موجود دکھاتا ہے جو حقیقت میں وجود نہیں رکھتی ۔عربی زبان کا یہ لفظ جس کا مفہوم وہ پانی جو حقیقت میں نہ ہو، لیکن دور سے پانی کی مانند نظر آئے، اپنی ذومعنویت کے باعث ہماری زندگیوں ، ادب اور شاعری میں خاص اہمیت رکھتاہے۔یہ عموما ریگستانوں اور گرم موسموں میں دور دراز کے تپتے دشوار راستوں پر پیاس کی تڑپ کو دلاسہ دیتا زندگی پر چھاؤں رکھتا ہے۔ادب میں سراب ان خواہشات، خوابوں یا امیدوں کے استعارے کیلئے بولا جاتا ہے جو دل کو لبھاتی تو ہیں، مگر ان کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔جیسے جھوٹی امید، ادھورے خواب اور بعض اوقات خود محبت بھی سراب ثابت ہوتی ہے جب اُسکی روشنی دل تو بہلائے مگر ہاتھ نہ آئے۔ غور کیا جائے تو ہم سب کے احساس میں کئی ریگستان سُلگتے رہتے ہیں ۔اس لئے سراب ہم سب کی زندگی کے ساتھ سائے کی طرح موجود رہتا ہے ، یہ خواہشات کا شکاری ہے، ہروقت تعاقب میں رہتا ہے، کبھی موجود کو گمان بنا دیتا ہے اور کبھی ناموجود کو آنکھوں کے سامنے ایسے لہرا دیتا ہے کہ بندہ ہکابکا رہ جاتا ہے ، یقین کو ڈگمگانے سے بچاتااور خوش فہمیوں کو تجسیم کرتا سراب نہ مکمل دھوکاہے نہ مکمل سچ ۔علی مینائی کے اپنے شعری مجموعے کے عمدگی سے تراشے سر ورق پر کندہ ’سراب سُخن ‘کے عنوان نے چونکا دیا ، ایک لطیف حیرت اس جزیرے کے دیدار پر اصرار کر رہی تھی مگر اشتیاق کو ذرا توقف کی تھپکی دےکر خالد شریف کے مختصر فلیپ سے آنکھیں چار کیں تو لفظ لفظ کئی مدھر خوشبوؤں ، انوکھے ذائقوں اور تہذیبی حوالوں سے مزین دکھائی دیا تو سراب سُخن کو محبت سے پڑھنا اور دل میں اُتارنا واجب ہوگیا۔
نیلم احمد بشیر نے دسمبر کے آخری دنوں میں جس محبت سے علی مینائی کیلئے تقریب کا اہتمام کیا، وہ بلاشبہ لاہور کی ادبی فضا میں ایک خوشگوار یاد کی طرح محفوظ ہو گئی ۔شہر بھر کے نامور ادیب، شاعر اور دانشور اُس شام ایک چھت تلے جمع ہوئے ۔امیر مینائی سے علی مینائی تک قائم تہذیبی ربط اور ادبی احترام کے اس منظر میں جو مرکزِ توجہ بنا، وہ تھا علی مینائی کا کلام اور اُجلی شخصیت۔میں نے خود اُن کی کتاب کو کئی زاویوں سے پرکھا۔ سب سے پہلے جس چیز نے دل کو چھوا، وہ ان کے کلام میں رچی بسی شعری جمالیات تھی ۔ایک اعلیٰ شاعرانہ جمال اور لطافت جو ان کی غزلوں میں گہرائی اور سلاست کے ساتھ سرایت کیے ہوئے ہے، دل کو کھنچتی ہے۔علی مینائی کی شاعری پر فارسی کلاسیکی ادب کا گہرا اثر دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر تشبیہات اور استعاروں میں ، لیکن جب وہ مختصر بحر میں غزل کہتے ہیں، تو ایک جداگانہ اسلوب کے ساتھ سامنے آتے ہیں ، سہل ممتنع میں لپٹا ہوا، رومانوی لطافت سے بھرپور اظہاربہت خوبصورت احساس دلاتا ہے۔امیر مینائی سے پہلا تعارف نصاب کی کتابوں کے ذریعے ہوا، مگر یہ محض ایک تعارف نہ رہااُن کے اشعار احساس میں کچھ اس طرح اترے کہ ایک روحانی و ادبی تعلق بن گیا۔ اب اُن کے پڑپوتے، علی مینائی کے توسط سے یہ رشتہ نئی جہتوں اور محبت کے تازہ دھاگوں میں بندھ گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک صدی پرانا چراغ نئی روشنی کے ساتھ پھر سے جل اٹھا ہو۔
ایک مصنوعی ذہانت (AI) کا ماہر ہوتے ہوئے وہ جذبات کی نزاکتوں کو جس خوبصورتی سے تولتے ہیں، وہ حیرت انگیز ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف دل کو چھو لیتی ہے، بلکہ روح کو بھی سرشار کر دیتی ہے اور ذہن میں کئی سوال ابھارتی ہے۔اس مجموعے میں صرف رومان ہی نہیں، بلکہ علم، سماجی شعور، اور بدلتے موسموں کی آنکھوں میں رکھے اجنبی سوالات بھی شامل ہیں۔یہ کتاب صرف پڑھنے کیلئے نہیں، محسوس کرنے کیلئے بھی ہے۔ پڑھیں، رکیں، سوچیں اور پھر لطف لیں۔
ترے پہلو سے اٹھنا چاہتا ہوں
مگر تیرا اشارہ چاہتا ہوں
خموشی کی زباں ہی میں ہے ممکن
میں جو کچھ تجھ سے کہنا چاہتا ہوں
میں چشمہ پتھروں کی سرزمیں کا
کسی دریا سے ملنا چاہتا ہوں
………
پوشیدہ رازِ لطفِ بہاراں اسی میں ہے
جو ہے زبانِ گل پہ وہی میرے جی میں ہے
ناگفتہ کب رہا ہے کوئی مدعائے دل
جو گفتگو میں آ نہ سکا خامشی میں ہے
دیکھوں تو دشمنِ دل و جاں ہےوہ چشمِ ناز
سوچوں تو راحتِ دل و جاں بھی اسی میں ہے
………
گماں کو سوئے یقین لے کے جا بھی سکتا تھا
وہ سُن کے بات مری مسکرا بھی سکتا تھا
یہ اس کا ظرف کہ خود اس نے بے وفائی کی
وہ چاہتا تو مجھے آزما بھی سکتا تھا
تیری نظر کی مسیحائی کا ہے ڈر ورنہ
میں اپنا زخمِ تمنا دکھا بھی سکتا تھا
کی ایک عمر اسے پانے کی آرزو جس کو
میں آرزو نہیں کرتا تو پا بھی سکتا تھا
اسی نے مجھ کو فسانہ سنا کے ٹال دیا
جو چاہتا تو حقیقت بتا بھی سکتا تھا
ملے پیامِ شکایت کوئی تو سوچتا ہوں
وہ جس نے یاد کیا ہے بھلا بھی سکتا تھا