• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سالِ گزشتہ رُونما ہونے والے حالات و واقعات، غم و خوشی کے لمحات گردشِ لیل و نہار کے طے شدہ نظام کے مطابق اب قصّہ ٔ پارینہ ہوچکے۔ روز و شب کے تغیّر کے اس عمل میں جہاں بہت کچھ بدلا، تاریخ نے کروٹ لی، وہیں ہر شعبۂ زندگی سے وابستہ کئی جیّد، قدآور نابغہ ٔروزگار ہستیاں، روشن و درخشندہ ستارے بھی ہم سے رخصت ہوگئے۔ سو، سالِ رفتہ داعئ اجل کو لبّیک کہنے والی اِن ہی اہم، نام وَر شخصیات کا مختصر تذکرہ ذیل میں پیشِ خدمت ہے۔

2025ء میں داغِ مفارقت دے جانے والی اہم قومی شخصیات

سرور بھٹی( 13جنوری) پاکستانی فلم ساز، سرور بھٹی، دل کا دورہ پڑنے کے سبب لاہور میں انتقال کرگئے۔ اُنہوں نے متعدد مقبول اور بلاک بسٹر فلمیں پروڈیوس کیں، جن میں ’’مولا جٹ، چن وریام اور بازارِ حُسن‘‘ سمیت دیگر شامل ہیں۔

پرنس کریم آغا خان (4 فروری) اسماعیلی برادری کے رُوحانی پیشوا اور49ویں امام، پرنس کریم آغا خان 88 سال کی عُمر میں پرتگال کے دارالحکومت، لزبن میں انتقال کرگئے۔

مشکور رضا (3 فروری) بین الاقوامی شہرت کے حامل ممتاز مصوّر، کیلی گرافک آرٹسٹ، مشکور رضا طویل علالت کے بعد 79برس کی عُمر میں کراچی میں انتقال کرگئے۔ غیرمعمولی مہارت کے سبب اُنہیں تمغۂ حُسنِ کارکردگی، پرائیڈآف پرفارمینس اور تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔

نواب یوسف تالپور( 18فروری) سابق رکنِ قومی اسمبلی، نواب یوسف تالپور 82برس کے عُمر میں کراچی میں انتقال کرگئے۔ وہ 1993ء سے2024ء تک چھے بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور مختلف اہم سیاسی و پارلیمانی امور میں نمایاں کردار ادا کیا۔

خواجہ شمس الدین عظیمی (21 فروری) سلسلۂ عظیمیہ کے سربراہ، روحانی اسکالر، خواجہ شمس الدین عظیمی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ روحانی علوم، پیرا سائیکالوجی اور سیرتِ طیبہ پر70سے زائد کتابوں کے مصنّف تھے۔

عطیہ شرف(10مارچ) ماضی کی معروف اداکارہ، عطیہ شرف83برس کی عُمر میں جہلم میں خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ وہ مرحوم اداکار، خیام سرحدی کی اہلیہ تھیں۔

نصیر سومرو(17مارچ)پاکستان کے قد آور ترین شخص، نصیر سومرو طویل علالت کے بعد55برس کی عُمر میں شکارپور میں انتقال کر گئے۔

حافظ حسین احمد (19مارچ) جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما اور معروف سیاست دان، حافظ حسین احمد74برس کی عُمر میں انتقال کرگئے۔ اُن کا تعلق بلوچستان کے ضلع مستونگ کے ایک دینی و سیاسی خانوادے سے تھا۔ وہ ایک زیرک،حاضر جواب، نظریاتی سیاست دان اور پارلیمانی رہنما تھے۔

نجم الدین شیخ (28مارچ)سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین اے شیخ85برس کی عُمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔ اُنھوں نے اپنے چار دہائیوں پر مشتمل شان دار سفارتی کیریئر کے دوران جرمنی، کینیڈا، امریکا اور ایران میں بطور سفیر خدمات انجام دیں۔

پروفیسر سیّد ہارون احمد (3 اپریل)معروف ماہرِ نفسیات، پروفیسر سیّد ہارون احمد طویل عرصہ فالج کے عارضے میں مبتلا رہنے کے بعد کراچی میں انتقال کرگئے۔ 2022ء میں پی اے ایم ایچ نے مُلک میں سماجی علوم، انسانی حقوق، نفسیات اور ذہنی صحت کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں اُنھیں ’’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘‘ سے نوازا۔

تاج حیدر(8اپریل) سینیٹر تاج حیدر مختصر علالت کے بعد 83برس کی عُمر میں کراچی میں انتقال کرگئے۔ اُن کا شمار پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں ہوتا تھا۔ ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں 2012ء میں ستارئہ امتیاز سے نوازا گیا۔

پروفیسر خورشید احمد (13اپریل)جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر، ممتاز ماہرِ معیشت اور سینیٹر پروفیسر خورشید احمد 93برس کی عُمر میں برطانیہ کے شہر لیسٹر میں وفات پاگئے۔ وہ معاشی امور کے ماہر اور کئی کتابوں کے مصنّف تھے۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی (21اپریل)معروف پاکستانی قانون دان اور سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، سرمد جلال عثمانی75برس کی عُمر میں کراچی میں انتقال کرگئے۔

ذاکر حسین (21اپریل)عالمی شہرت یافتہ پاکستانی شیف، ذاکر حسین 58برس کی عُمر میں گُردوں کے عارضے میں مبتلا ہونے کے سبب کراچی میں انتقال کرگئے۔ انھوں نے طویل عرصے تک نجی چینل پر کوکنگ شو کی میزبانی کے فرائض انجام دیے اور ناظرین کو کئی ذائقے دار کھانوں کی تراکیب سے روشناس کروایا۔

پروفیسر ساجد میر (3 مئی) مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے امیر، سینیٹر پروفیسر ساجد میر 86 برس کی عُمر میں سیال کوٹ میں انتقال کرگئے۔ وہ 1994ءمیں پہلی بار سینیٹر منتخب ہوئے، اور لگاتار 6بار ایوان بالا کے رکن اورکئی اہم کمیٹیوں کے چیئرمین بھی رہے۔

کمال اظفر(26مئی)سابق گورنر سندھ ،کمال الدین اظفر 95برس کی عُمر میں کراچی کے مقامی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ انھوں نے سینیٹر اور وفاقی وزیر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں۔

عائشہ خان (13جون) سینئر ٹی وی اداکارہ عائشہ خان76برس کی عُمر میں کراچی میں انتقال کرگئیں۔ وہ اداکارہ خالدہ ریاست کی بڑی بہن تھیں اور ڈراموں میں شان دار اداکاری اور بہترین کارکردگی کی وجہ سے جانی جاتی تھیں۔ تاہم، کئی برسوں سے تنہا زندگی بسر کررہی تھیں، اُن کی زندگی کے آخری لمحات بے حد الَم ناک تھے۔ گوشہ نشینی کے عالم میں ایک ہفتے تک کسی کو اُن کی موت کی خبر تک نہ ہوسکی۔

بریگیڈیئر امتیاز (18جون) انٹیلی جینس بیورو (آئی بی ) کے سابق سربراہ بریگیڈیر ریٹائرڈ، امتیاز احمد طویل علالت کے بعد90برس کی عُمر میں دارِفانی سے کُوچ کرگئے۔ اُنھوں نے طویل عرصہ آئی ایس آئی سے وابستہ رہنے کے دوران افغان جہاد میں بھی اہم عسکری خدمات انجام دیں۔

عبدالستار بچانی (5جولائی) پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما، عبدالستار بچانی78سال کی عُمر میں کراچی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کرگئے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی اور ایم آر ڈی تحریک کے اہم کردار تھے، متعدد بار ایم این اے اور ایم پی اے بھی منتخب ہوئے۔

افتخار سدپارہ (18جولائی) پاکستانی کوہ پیما، افتخار سد پارہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے۔ ٹو کی مہم جوئی کے دوران برفانی تودے کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے۔

یاسمین طاہر (19جولائی) ریڈیو پاکستان کی معروف صداکارہ یاسمین طاہر 88برس کی عُمر میں لاہور میں انتقال کر گئیں۔ ان کے والد معروف ڈراما نگار،امتیاز علی تاج اوروالدہ حجاب امتیاز علی ممتاز ادیبہ اور برِعظیم کی پہلی مسلم خاتون پائلٹ کا اعزاز رکھتی تھیں۔

میاں محمد اظہر(22جولائی) سینئر سیاست داں، مسلم لیگ (ق) کے بانی اور سابق گورنر پنجاب، میاں محمد اظہر81برس کی عُمر میں انتقال کرگئے۔ وہ تحریک ِانصاف کے رہنما حماد اظہر کے والد تھے۔

عامر محمود (27اگست) صحافی و مدیر عامر محمود، کراچی میں انتقال کرگئے۔ وہ ایسوسی ایشن آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (اے پی این ایس) کے سابق صدر اور سی پی این ای کے سابق سیکریٹری جنرل ، مرحوم محمود ریاض کے بیٹے اور ابنِ انشاء کے بھتیجے تھے۔

انور علی (یکم ستمبر) پاکستان شوبز کے سینئر اداکار، انور علی طویل علالت کے بعد 71برس کی عُمر میں خالقِ حقیقی سے جاملے۔ انھوں نے تھیٹر اور پی ٹی وی کے درجنوں مقبول ڈراموں میں شان دار کردار ادا کیے۔

سیّد محمد صوفی (14ستمبر) سینئر صحافی سیّد محمد صوفی علالت کے باعث80برس کی عُمر میں وفات پاگئے۔ وہ جیونیوز اور روزنامہ جنگ سمیت کئی اخبارات اور رسائل سے منسلک رہے اور آزادئ صحافت کی تحریک میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

وزیر محمد (13اکتوبر) پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر وزیر محمد95سال کی عُمر میں برمنگھم میں انتقال کرگئے۔ وہ پاکستانی کرکٹ کے’’ محمد برادران‘‘ میں سے ایک تھے۔ انھوں نے 1952ء سے1959ءکے دوران پاکستان کے لیے 20ٹیسٹ میچز میں، دو سنچریوں اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے 801رنز بنائے۔ وہ بھارت کا اولین دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کا بھی حصّہ تھے۔

آغا سراج درانی (15اکتوبر) سندھ اسمبلی کے سابق اسپیکر ،پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، آغا سراج 72 برس کی عُمر میں کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے۔ اُن کا شمار پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ چار دہائیوں سے زائد پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے۔ تین بارصوبائی وزیر اور2بار سندھ اسمبلی کے اسپیکر رہے۔

آفتاب شعبان میرانی (یکم نومبر) ضلع شکارپور سےتعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے سینئر ترین رہنما،سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ، آفتاب شعبان میرانی 85برس کی عُمر میں کراچی میں انتقال کرگئے۔ وہ وفاقی وزیر برائے دفاع بھی رہے۔

ڈاکٹر عارفہ سیّدہ زہرا (10نومبر) ممتاز ماہرِ تعلیم، دانش وَر، محقّق، سماجی رہنما اور خواتین کے حقوق کی علَم بردار پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا 88برس کی عُمر میں لاہور میں داغِ مفارقت دے گئیں۔ وہ سات زبانوں پر عبور رکھتی تھیں اور تعلیم، تاریخ اور سماجی علوم میں نمایاں خدمات کے لیے جانی جاتی تھیں۔

عرفان صدیقی (10نومبر) سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (نون) کےپارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔ وہ مارچ2021ء میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔ صحافت، تدریس، سیاست میں طویل خدمات پراُنھیں 2014ء میں ہلال ِامتیاز سے نوازا گیا۔

نسیم درّانی (4 دسمبر) پاکستان رائٹرز گلڈ کے سابق سیکریٹری اورادبی ماہنامہ ’’سیپ‘‘ کے بانی و مدیر، صدارتی ایوارڈ یافتہ سینئر صحافی و ادیب نسیم درّانی مختصر علالت کے بعد87برس کی عُمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔

پیر ذوالفقار احمد نقش بندی (14دسمبر) معروف روحانی شخصیت، عالمِ دین اور سلسلۂ نقش بندیہ کےصوفی بزرگ، پیر ذوالفقار احمد نقش بندی72برس کی عمر میں جھنگ میں وفات پاگئے۔

منظور وٹو(16دسمبر) سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما میاں منظور احمد وٹو 95برس کی عُمر میں اوکاڑہ میں وفات پاگئے۔وہ تین بار وزیرِ اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے اور ایک بار اسپیکر پنجاب اسمبلی بھی رہے۔ ان کا تعلق پنجاب کے شہر حویلی لکھا سے تھا۔

ڈاکٹر منظور احمد(23دسمبر) ماہرِ تعلیم اور جامعہ کراچی کے سابق ڈین آف آرٹس، ڈاکٹر منظور احمد علالت کے باعث 91 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔

ڈاکٹر شمشاد اختر(27دسمبر) اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر، ڈاکٹر شمشاد اختر 71برس کی عمر میں حرکتِ قلب بند ہونے سےکراچی میں انتقال کر گئیں۔ اُنہوں نے اسٹیٹ بینک کے علاوہ ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور نگراں حکومتوں میں بھی اہم عہدوں پر کام کیا۔

روحانہ اقبال(28دسمبر) معروف بیوٹیشن روحانہ اقبال کراچی میں انتقال کر گئیں۔ انھوں نے بیوٹی سیلون انڈسٹری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

اہم بین الاقوامی شخصیات

٭منوج کمار(بھارتی اداکار) (4 اپریل)

٭ پوپ فرانسس (21 اپریل)

٭ولید بن خالد بن طلال(سعودی شہزادہ) (19 جولائی)

٭ہَک ہوگن (ریسلر) (24 جولائی)

٭رابرٹ ریڈ فورڈ (ہالی وُڈ اداکار) (16 ستمبر)

٭ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ (مفتیٔ اعظم، سعودیہ) (23 ستمبر)

٭ گووردھن اسرانی(بھارتی اداکار) (20 اکتوبر)

٭ دھرمیندر (بھارتی اداکار) (24 نومبر)

٭ڈی ایس ڈی سلوا(سری لنکن کرکٹر) (16 دسمبر)

٭خالدہ ضیاء (بنگلادیش کی سابق وزیراعظم) (30 دسمبر)

سنڈے میگزین سے مزید