حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے خاصی توجہ حاصل کی، جس میں سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کو بیرونِ ملک ایک شخص کی جانب سے زبانی بدتمیزی اور اشتعال انگیزی کا سامنا کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ بظاہر ایک فرد کا جذباتی ردِعمل لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو گزشتہ چند برسوں سے دانستہ طور پر بیرونِ ملک پاکستان کی منتخب قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے منظم انداز میں پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس عمل کو سیاسی اختلاف کا نام دے کر دراصل پاکستان کے وقار، اس کی جمہوری روایات اور اس کے آئینی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سعید غنی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ کوئی منفرد یا اچانک پیش رفت نہیں۔ ماضی قریب میں مسلم لیگ (ن) کے متعدد رہنما، جن میں سابق وزرائے اعظم، وفاقی وزراء اور سینئر سیاسی شخصیات شامل ہیں، لندن، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں اسی نوعیت کے ہنگاموں اور بدتمیزی کا سامنا کر چکے ہیں۔ ان واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک مشترک عنصر نمایاں ہوتا ہے’چند مخصوص سیاسی گروہوں کی جانب سے بیرونِ ملک پاکستانی سیاست کو نفرت، تضحیک اور انتشار کے ذریعے زندہ رکھنے کی کوشش‘۔تحریکِ انصاف اور ایم کیو ایم لندن سے وابستہ عناصر کا طرزِ عمل اس حوالے سے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایم کیو ایم لندن کا ماضی اس امر کا گواہ ہے کہ کس طرح غیر ملکی سرزمین کو پاکستان کے خلاف سیاسی سرگرمیوں، اداروں پر حملوں اور ریاستی بیانیے کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ دوسری جانب تحریکِ انصاف جو خود کو ’’تبدیلی‘‘ کا علمبردار کہتی رہی، شکست کے بعد بیرونِ ملک احتجاج کو اس حد تک لے گئی کہ پاکستان کے سفارتی مشنز، قومی پرچم اور ریاستی نمائندوں کو نشانہ بنانا معمول بنتا چلا گیا۔ یہ وہ سیاست ہے جس میں ذاتی انا اور اقتدار کی ہوس، قومی مفاد پر حاوی نظر آتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کوئی فرد یا گروہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما سے اختلاف رکھتا ہے یا نہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کی روح ہے، اور پاکستان پیپلز پارٹی شاید وہ واحد جماعت ہے جس نے اختلافِ رائے کی قیمت سب سے زیادہ ادا کی۔ مگر اختلاف اور دشمنی میں فرق ہوتا ہے۔ منتخب نمائندوں کو بیرونِ ملک ہراساں کرنا، انہیں سرِعام تضحیک کا نشانہ بنانا، اور پھر ان وڈیوز کو اس انداز میں پھیلانا کہ پاکستان ایک غیر سنجیدہ اور غیر مستحکم ریاست نظر آئے،یہ سب سیاسی اختلاف نہیں بلکہ دانستہ ریاست دشمنی کے زمرے میں آتا ہے۔
سعید غنی کا رویہ اس پورے واقعے میں نہایت متوازن، شائستہ اور ذمہ دارانہ رہا۔ انہوں نے نہ تو اشتعال میں آ کر کوئی ردِعمل دیا اور نہ ہی معاملے کو بڑھانے کی کوشش کی۔ یہ وہی سیاسی بلوغت ہے جو پیپلز پارٹی کی پہچان رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری تک، پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ یہ اصول اپنایا کہ سیاست کی جائے گی مگر ریاست کے وقار پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ قید و بند، مقدمات اور الزامات کے باوجود پیپلز پارٹی نے کبھی پاکستان کے خلاف غیر ملکی دارالحکومتوں میں مہم نہیں چلائی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کراچی سمیت پورےسندھ کے مسائل پر اختلافِ رائے رکھنے والے بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ سعید غنی جیسے رہنما انتظامی معاملات، سیاسی مکالمے اور بحرانوں میں ایک سنجیدہ اور ذمہ دار آواز کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان پر تنقید کی جا سکتی ہے، پالیسیوں سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر ان کی نیت، ان کے طرزِ گفتگو اور ان کے ریاستی شعور پر سوال اٹھانا ناانصافی ہے۔ بیرونِ ملک ان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ حلقے دلیل کی سیاست سے محروم ہو چکے ہیں۔
یہ لمحہ فکریہ ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک محدود تعداد خود کو پورے ملک کا نمائندہ سمجھنے لگی ہے۔ انہیں یہ احساس نہیں کہ ان کے اقدامات کا اثر صرف کسی ایک جماعت یا رہنما تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پوری ریاستِ پاکستان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ جب غیر ملکی میڈیا میں ایسی وڈیوز گردش کرتی ہیں تو نقصان صرف پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) کا نہیں ہوتا، بلکہ پاکستان بطور ریاست سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔پیپلز پارٹی ہمیشہ سے وفاق کی علامت رہی ہے۔ یہ جماعت صوبوں کو لڑانے نہیں، جوڑنے پر یقین رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پیپلز پارٹی کی قیادت، بشمول سعید غنی، اختلاف کے باوجود مکالمے کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ اس کے برعکس، وہ عناصر جو بیرونِ ملک احتجاج کو اپنی سیاست کا مرکز بنا چکے ہیں، دراصل اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے اندر عوامی حمایت کھو چکے ہیں۔
یہ کالم کسی فرد کے دفاع یا کسی دوسرے پر حملے کے لیے نہیں، بلکہ ایک اصولی مؤقف کے اظہار کے لیے ہے۔ سیاست ہو، مگر پاکستان کے اندر۔ اختلاف ہو مگر آئین کے دائرے میں۔ احتجاج ہو، مگر قومی وقار کے ساتھ۔ بیرونِ ملک اپنے ہی ملک کے منتخب نمائندوں کو تضحیک کا نشانہ بنانا دراصل اس جمہوریت کی توہین ہے جس کے ثمرات کا دعویٰ یہ عناصر خود کرتے ہیں۔سعید غنی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل امتحان اقتدار میں نہیں، بلکہ رویّے میں ہوتا ہے۔ اشتعال کے جواب میں صبر، گالی کے جواب میں خاموشی اور نفرت کے مقابلے میں شائستگی،یہی وہ اقدار ہیں جو پیپلز پارٹی کو دیگر جماعتوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ آج جب پاکستان کو اندرونی و بیرونی چیلنجز درپیش ہیں، ہمیں نفرت اور انتشار نہیں بلکہ برداشت، مکالمے اور ریاستی شعور کی ضرورت ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ گواہ ہےجو سیاست دان پاکستان کو ساتھ لے کر چلے، وہی وقت کی کسوٹی پر پورا اترے اور جو عناصر اپنی سیاست کے لیے پاکستان کو استعمال کرتے رہے، وہ خود تاریخ کے حاشیوں میں گم ہو گئے۔