• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران میں کرنسی کی قیمت کے مسائل کے سبب بد امنی کے دوران دو بار ایرانی افراد سے ورچوئل مخاطب ہونے کا موقع ملا ۔ امام خمینی انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشن اینڈ ریسرچ ، سپریم کونسل فار دی کلچرل ریوولیشن اور دی کلئیر پاتھ نے تو مختلف ایرانی یونیورسٹیز کے طلبا سے اپروچز ان پولیٹکل سائنس کے موضوع پر تنہا مجھے ہی مقرر مدعو کر رکھا تھا جبکہ دوسری تقریب اینول کانفرنس آن مقاومتی اکانومی کے حوالے سے شفٹنگ گلوبل آرڈر ، پاکستان اور ایران کا باہمی تعاون کے حوالے سے پینل ڈسکشن تھی۔میں نے ان دونوں میں اپنی گزارشات پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ پاکستان کی خارجہ حکمت عملی تمام تر مسائل کے باوجود کثیر الجہتی اصول پر مرکوز رہی ہے اور پاکستان نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ کم از کم سرد جنگ کے بعد کسی نام نہاد بلاک میں شامل ہونے کی بجائے تمام طاقتوں سے اپنے روابط کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کرتا رہے ۔ مثال کے طور پر پاکستان نے چین سے قریبی تعلقات استوار کر رکھے ہیں ، دفاعی و اقتصادی تعاون بہت بڑھ گیا ہے۔ سی پیک جیسا بڑا منصوبہ جاری ہے مگر ساتھ ساتھ پاکستان امریکہ سے بھی اپنے تعلقات کو بہتر کرنے اور برقرار رکھنے کی سعی میں جتا ہوا ہے ، امریکہ سے ہمارا تجارتی توازن بھی خسارے کی بجائے مثبت ہے ۔ چلو یہ تو بڑی طاقتوں کی سیاست ہے مگر پاکستان نے مسلم دنیا میں بھی اس توازن کو برقرار رکھا ہوا ہے ، پاکستان نے سعودی عرب سے ابھی حال ہی میں دفاعی اسٹرٹیجک معاہدہ کیا ہے جبکہ بالکل اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ بھی تشکر پاکستان کے نعروں سے گونج رہی تھی ۔ پاک ایران تعلقات کے حوالے سے ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان سے بہتر تجارت کی غرض سے ہم اپنی جانب مارکيٹس قائم کر چکے ہیں جب کہ ڈی جی خانہ فرہنگ لاہور آغا مسعودی نے کہا کہ موجودہ دور میں وہی ممالک کامیاب ہیں جو اپنے ہمسایہ ممالک پر اعتماد کرتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے معیشت کو ثقافت سے جدا نہ سمجھیں، اور خطے کے اندر باہمی تعاون کو مہنگے اور غیر یقینی ماورائے خطہ پر انحصار کا مؤثر نعم البدل بنائیں۔ بات درست ہے جیسا کہ پاکستان جنوبی ایشیا ، وسطی ایشیا ، مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہے اور باہمی رسائی میںپل کی حیثیت رکھتا ہے ۔چنانچہ پاکستان کے حوالے سے صرف ایک طرف جانے کی توقع رکھنا عبث ہے ۔ ایران میں جاری حالیہ مظاہروں کو صرف کرنسی کے اتار چڑھاؤ تک محدود سمجھنا درست نہیں۔ اس کو سمجھنے کیلئے وینزویلا کی ماضی قریب کی تاریخ کا مطالعہ کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے اور ابھی امریکہ کے صدر وینزویلا کو’’ چک ‘‘لینے کے اقدام نے تو معاملہ کو اور بھی کھول دیا ہے ۔ ان حالات پر میں نے گزشتہ سے پيوستہ کالم میں عرض کیا تھا کہ’’ جب صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور صدارت کے آغاز میں کینیڈا ، گرین لینڈ ، پاناما کینال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا تو یہ صرف انکی سیمابی طبیعت کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ امریکہ اپنی ترجیحات کو از سر متعین یا بیان کر رہا تھا اور اسکا تازہ ترین مظہر ہم وینزویلا میں دیکھ رہے ہیں۔موجودہ ’’چکے‘‘گئے صدر سے قبل جب ہیوگو شاویز 1998 میں اقتدار میں آئے تو کچھ عرصے بعد بائیں بازو کے نظریات کی جانب راغب ہونا شروع ہو گئے ، صنعتیں قومیانے لگے تو انکو اقتدار سے بیدخل کرنے کیلئے اپریل 2002 میں فوجی بغاوت برپا کرائی گئی جو چند روز میں ہی ناکام بھی ہو گئی ۔ اس صورت حال پر ايلن ووڈز نے’’ دی وینزویلین ریوولیشن اے مارکسٹ پرسپیکٹو‘‘ کے عنوان سے کتاب میں تحریر کیا کہ’’ اس منصوبے کی پیدائش اور پرورش امریکہ میں ہوئی تھی ۔ بش انتظامیہ ، جو شاویز کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھنا چاہتی تھی ، وینزویلا کی تیل کی صنعت پر چور دروازے سے قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ وہ کیراکس میں قائم ہونیوالی نئی حکومت کو ’’ امداد‘‘دینا چاہتی تھی وہ بھی تیل کی صنعت کے نام پر’’ مگر اس سب سے قبل ہیوگو شاویز کی حکومت کو کمزور کرنے کی غرض سے وہاں کی تیل کی صنعت کی گئی انتظامیہ پی ڈی وی ایس اے کے ذریعے بڑے پیمانے پر ہڑتالیں منظم کروائی گئی تھیں ، ان ہڑتالوں کا واحد مقصد تیل کی پیداوارکو سابقہ پوزیشن پر بحال کرکے امریکہ کیلئے اس کو تیل مہیا کرنے والا سب سے بڑا ملک بنانا تھا ۔ اب اس صورتحال کو ایران کی موجودہ صورتحال سے ملا کر دیکھتے ہیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ کرنسی کی گراوٹ جو حقیقی معنوں میں ایک مسئلہ بھی ہے کا استعمال ایران میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور اس کو مخفی رکھنے کی بجائے دھڑلے سے بغیر کسی نام نہاد اقوام متحدہ کی اجازت کے فوجی مداخلت کرنے کی دھمکی بھی دی جا رہی ہے ۔ ایران کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے داخلی مسائل پر پورے ٹھنڈے دل کے ساتھ از سر نو غور کرے ۔ حالات کا پریشر تو ہر وقت ہی ہوتا ہے مگر اسکا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور’’ نہيں‘‘کہنے کی جرات ہونی چاہئے جب بشار الاسد کے خلاف مسلح کارروائی شروع کی گئی تو اس کی حمایت عالمی طاقتيں اور دیگر کچھ مسلمان ممالک کر رہے تھے مگر اس وقت نواز شریف نے طاقت کے زور پر حکومتوں کو گرانے کی حکمت عملی کی مخالفت کی سوچ کا برملا اظہار کیا ، پھر یمن کی جنگ میں تو پاکستان کو اس میں زبردستی گھسیٹنے کی کوششیں شروع ہو گئیں مگر نواز شریف حکومت نےاس تمام صورتحال سے پاکستان کو محفوظ رکھا اور بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ یہ کتنا صائب فیصلہ تھا ۔ قطر اور سعودی عرب باہمی تنازعات میں چلے گئے اور جو کچھ یو اے ای اور سعودی عرب کے مابین اب چل رہا ہے کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں۔ اسلئے موجودہ گلوبل ورلڈ آرڈر میں کثیر الجہت حکمت عملی ،جو تنازعات سے دور رکھے ،ہی درست رویہ ہے ۔ ورنہ حالات سے مفادات کشید کر لئے جاتے ہیں ۔

تازہ ترین