جب میں سات برس کی تھی چار آنے پاکٹ منی ملتی تھی تو میں نے اسی زمانے میں اخبار پڑھنا اور خریدنا شروع کردیا تھا۔ ان 80برسوں بعد حجت تمام کرنے کیلئے اخبار خریدنا بند کررہی ہوں ۔ وجوہات کئی ہیں ، مثلاً اخبار میں خبریں کم اور اشتہار اور وہ بھی بی بی مریم کے صفحات بھرے اشتہار، مع ملکوں اداروں، تاجروں کے کئی کئی صفحات پرمبنی سپلیمنٹ ، اس کی بھی رقم مجھے دینی پڑتی ہے اخبار کے بیچ صفحے پر کچھ اغوا یا اموات کی خبروں کے بعد ، اخبار ختم ہوجاتا ہےتو آج سے دل پر ایک اور پتھر ، اخبار نہیں خریدوں گی۔
ٹی وی دیکھنا اسلئے چھوڑ دیا تھا کہ جب سے نئے چینل کی فوج ظفر موج آئی تھی کہ ہر چینل کےایک دوسرے پر بے شرمی کے الزامات، دلکش کہانیاں اور لڑکیوں سے متعلق ناممکن واقعات یا کہانیاں، برملا صبح شام آتی تھیں اوپر ایسے فراڈ اور ناقابل بیان بولیاں، ٹیبل پر بیٹھ کر کیمروں کے سامنے نوٹوں کا لین دین تو پھر اپنی پیاس کیسے بجھانی تھی۔ بی بی سی اور دنیا بھر کے چینل پر الٹا دینے والے واقعات کے باوجود، اپنے وقت کے کھپانے کی کوشش کرتی رہی۔
اب سے کوئی 35برس پہلے ٹی وی کے اچھے دنوں میں ایک شام نغمہ گونجا ’’میرا لونگ گواچا‘‘ پروڈکشن خواجہ نجم کی، راتوں رات دبئی سے کاپیاں بازار میں اور سارا انڈیا پاکستان گارہا تھا ’’لونگ گواچا‘‘، یہ بھی کریڈٹ پی ٹی وی کا تھا کہ سب لوگ ترنم سے لیکر، پنجابی کے شادی بیاہ کے گیت دونوں ملکوں میں ایسے سنے جاتے کہ لگتا ہی نہیں تھا یہ دو ملکوں کے ہیں ۔قربتوں کی کہانیاں ادب میں بھی پھیلی ہیں ۔
نفرتوں کی آندھیوں میں سب کچھ غارت ہوگیا نہ میوزک نہ ڈرامہ نہ مزاح کہ معین اختر اور حسینہ معین ساری مسکراہٹیں اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔ اب کیا تھا ہرچینل پردن رات سربراہوں کی تقریریں ان سے متعلق تعریفیں تبصرے ، مزاح کے نام پر کھسرے نما مرد اور عورتیں غلط زبان و بیان بیہودہ حرکات ذو معنی لفظیات۔ پی ٹی وی پر جب تک فرخ بشیر، خواجہ، اختر وقار عظیم اور منیزہ ہاشمی رہے، عزت اور شان رہی ، پھر جو ہوتا رہا اس میں پوری قوم گواہ ہے کہ نعیم بخاری کی جھلک تک نہ تھی، سیاست کے نام پر مضحکہ خیز کردار اور سیاسی مبصر صرف وہ جن کو آموختہ دیکھ کر کہا جاتا، جاؤ اور خبردار۔ مثلاً جس پروگرام کی تازہ جھلک دکھانے والی ہوں اس میں بڑی آزادیاں لی گئیں اور شعر پڑھتے ہوئے کہتے ’’آئے کچھ ابرکچھ ، آئے لطف کہ‘‘ یہ گانے والا پورا مصرعہ گارہا ہے کہ ’’آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے‘‘، ان تمام حماقتوں کے باوجود ، ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ایسا چلا کہ ہر گاؤں اور ہرشہر سے وہ چھپے گلوکار نکال لایا جو اپنی گلیوں میں بنجارے بنے پھرتے تھے، اب72چینل ایک طرف، یہ پروگرام یوٹیوب سے لیکر ہر سگریٹ کی دکان، قصائی کے اڈے اور کافی شاپ میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سن کر نہال اور خود ججز کو بے ساختہ جسم ہلاتے دیکھ کر سب جھومتے مگر کہیں کوئی بدتہذیبی کا اشارہ نہیں تھا انہی لڑکے لڑکیوں کے علاوہ پندرہ سال کی بچیاں اور سندھ کے گاؤں سے سر پر دوپٹہ اوڑھے جوگر پہنے کلاسیکی گائیکی کو اوپر اٹھاتی لیکن ... ’’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘‘، اور پندرہ سالہ فریال گاتی’’چاندنی راتیں، سب جگ سوئے ہم جاگیں ...سننے والوں اور ججز کی آنکھیں محبت میں چھلک پڑتیں ۔
ان سارے فنکاروں میں ایک بھی بے استادہ یا اسٹریٹ سنگر نہیں تھا۔ سر تال کی پہچان کو پہلے ہی پرکھ کر منتخب کیا گیا تھا۔ مجھے بھٹو صاحب کے زمانے سے قائم سارے موسیقی اور دیگر فنون کے اداروں پر شرم یوں آتی رہی کہ وہاں نغمہ و فن کو فالتو سمجھ کر ہر اولیت روٹی کو دی گئی۔ یہ الگ بات کہ وہ بھی نہیں ملی۔ ان اداروں میں استاد فتح علی خان، بزمی صاحب اور استاد شوکت طبلے پر ایسے سکھاتے تھے کہ غیر ممالک سے عورت، مرد، فنکار سیکھنے آتے تھے۔یہ مت کہیں کہ کوئی رہا نہیں ۔ آخر یہ شعلہ جوالہ ، آہستہ آہستہ سروں کو اپنا پہناوا دے رہے تھے۔ جو آشکارا ایسے ہوئے جیسے یکدم مسرت نذیرکہ جو 25سال پہلے فلمیں چھوڑ چکی تھی اور کینیڈا میں بیٹھی تھی۔
اب جب کہ انڈین آئیڈل کی نقل میں پاکستان آئیڈل ایک کمپنی کی طرف سے شروع کیا گیا ۔ دل چاہتا ہے کہ ایسے پروگرام اور ایسی آوازوں کو فروغ دینے کیلئے وہ ساری کمپنیاں جو کولڈ ڈرنک اور رنگت سفید کرنے والی کریمیں بیچ رہی ہیں وہ ان فنکاروں کو اپنائیں مگر ایسے نہیں کہ فنکار شروع تو ہوا ’’کِنے کنے جانا بلو دے گھر‘‘ پھر وہ اپنا گھر بھی بھول گیا، یہ نیا موقع ہے سارے اداروں کیلئے کہ ان فنکار ہیروں کو گود میں بھرلیں ، انہیں تھرپار کر میں دوبارہ گم نہ ہونے دیں انکے استادوں کو بھی اپنائیں ۔ اس ملک کی فنکارانہ جست کو وہ رنگ دیں جو ’’ہم دیکھیں گے‘‘ کی شکل میں پھیلا تھا ۔ آج کی رات یا آج جانے کی ضد نہ کرو، کتنے نئے گانے والے کالجوں،محلوں اور کوٹھیوں سے نکلیں گے۔ یہ کام حکومتیں نہیں کرسکتیں ملٹی میڈیا لوگوں کے ساتھ مل کر کمانے کایہ ہنر اختیار کریں، مجھے کامیابی کی پوری امید ہے۔