وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے مقام پر درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی سے شہری اور ماحول دوست حلقوں میں تشویش کی لہر ہے تو دوسری طرف وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ ایک بھی ماحول دوست درخت نہیں کاٹا گیا اور کاٹے گئے ایک درخت کے متبادل کے طور پر تین درخت لگائے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں چک شہزاد پارک روڈ پر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی زمین سے ماحول دوست درختوں کو بلا اجازت کاٹنے کے معاملے پر تحفظ ماحولیات ایجنسی نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو نوٹسز جاری کر دیے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی زمین سے ہاؤسنگ سوسائٹی کی لنک روڈ کے لیے 2 ایکڑ رقبے سے ماحول دوست درخت کاٹے گئے، اس حوالے سے سی ڈی اے سمیت کسی متعلقہ ادارے سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔
تحفظ ماحولیات ایجنسی نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو درخت کاٹنے پر نوٹس جاری کر دیا ہے کہ بلا اجازت ایسا کیوں کیا؟
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے این آئی ایچ کی زمین سے بغیر اجازت درخت کاٹنے کا نوٹس لیا گیا ہے۔
ترجمان ای پی اے ڈاکٹر زیغم کا کہنا ہے کسی بھی جگہ پر تعمیراتی کام کے لیے انوائرنمنٹ اسسمنٹ کروانا لازم ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر ماحولیات مصدق ملک نے جیو نیوز کو بتایا ہے کہ کسی بھی گرین ایریا پر تعمیرات نہیں ہو رہیں، جس ہاؤسنگ سوسائٹی کی لنک روڈ کے لیے این آئی ایچ کی زمین سے درخت کاٹے گئے ہیں، وہ سوسائٹی اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے مطابق قانونی ہے تاہم انوائرنمنٹ اسسمنٹ نہ کروانے پر جرمانہ ہو سکتا ہے۔