اس وقت پاکستان کی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں شور بہت ہے، حرکت بہت ہے، جلسے جلوس، لانگ مارچ، بیانات اور الزامات کی بھرمار ہے، مگر سمت واضح نہیں۔ تحریکِ انصاف کی حالیہ سرگرمیاں، لانگ مارچ، خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی لاہور آمد، اور دوسری جانب تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے تحت محمود اچکزئی اور دیگر سیاسی قائدین کی سرگرمیاں، بظاہر ایک متحرک سیاسی منظرنامہ دکھاتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ سب ایک گہرے سیاسی تعطل کی علامت ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ سڑکوں پر لوگ نہیں نکل رہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان سڑکوں کا اختتام کہاں ہے، اور یہ مارچ کس دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف بظاہر سادہ اور واضح ہے۔ وہ کہتی ہے کہ سیاسی جماعتوں سے سیاسی مذاکرات ہو سکتے ہیں، سیاسی مقدمات پر بات ہو سکتی ہے۔ لیکن جیسے ہی بات نو مئی کے واقعات کی طرف جاتی ہے، معاملہ یکسر بدل جاتا ہے۔ یہاں حکومت خود کو فریق ہی نہیں مانتی۔ اس کا کہنا ہے کہ نو مئی کے مقدمات میں نہ مسلم لیگ ن مدعی ہے، نہ پیپلز پارٹی، نہ کوئی اور سیاسی جماعت۔ ان مقدمات کی مدعی ریاستِ پاکستان ہے، اور ریاست یہاں ایک سیاسی حکومت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ریاستی ادارے کے طور پر سامنے آتی ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں تحریکِ انصاف کی سیاست آ کر رک جاتی ہے۔ حکومت صاف کہتی ہے کہ جن مقدمات میں ہم مدعی ہی نہیں، ہم ان پر کیسے بات کر سکتے ہیں؟ یہ وہ مقدمات ہیں جو ریاستی تنصیبات پر حملوں، فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنے کے الزامات سے جڑے ہیں۔ یوں تحریکِ انصاف ایک عجیب و غریب خلا میں پھنس چکی ہے۔ ایک طرف وہ حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے، دوسری طرف حکومت کہتی ہے کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سیاسی خلا ہے جسے اگر درست حکمتِ عملی سے نہ بھرا جائے تو یہ جماعت کو مزید کمزور کرتا چلا جاتا ہے۔ اس خلا کو تحریکِ انصاف اس وقت سڑکوں کی سیاست سے بھرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض دباؤ بڑھا کر ریاستی نوعیت کے مقدمات کو سیاسی بنایا جا سکتا ہے؟ جدید دنیا میں، جدید ریاستوں میں، اس کا جواب نفی میں ہی ملتا ہے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ پاکستان کوئی قبائلی معاشرہ نہیں جہاں جتھا بنا کر ریاست پر حملہ آور ہوا جائے اور پھر چند دن کے دباؤ کے بعد معاملات طے پا جائیں۔ یہ ایک جدید ریاست ہے، جس کے اپنے قوانین ہیں، ادارے ہیں، اور ایک مخصوص ریڈ لائن ہے۔ اگر کوئی سیاسی جماعت اس ریڈ لائن کو عبور کرتی ہے تو پھر معاملہ سیاست سے نکل کر ریاستی ردعمل کی طرف چلا جاتا ہے۔ نو مئی کے واقعات اسکی اہم مثال ہیں۔تحریکِ انصاف کی ایک بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ اب تک یہ طے نہیں کر سکی کہ وہ مزاحمت کی سیاست کرنا چاہتی ہے یا مفاہمت کی۔ مزاحمت اور مفاہمت دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ سہیل آفریدی کا یہ جملہ کہ ’مزاحمت ہوگی تو مفاہمت ہوگی‘ بظاہر پرکشش لگتا ہے، مگر عملی سیاست میں مفاہمت کا راستہ مزاحمت کی شدت کم کرنے سے نکلتا ہے، نہ کہ اسے بڑھانے سے۔ اگر روز ایک نیا مارچ ہو، ہر دوسرے دن ریاستی رِٹ کو چیلنج کیا جائے، اور زبان و بیان میں تلخی بڑھتی جائے، تو پھر مفاہمت کے دروازے بند ہوتے چلے جاتے ہیں۔
تحریکِ انصاف اس وقت جس کیفیت سے گزر رہی ہے، اسے سیاسی لوڈشیڈنگ کہنا غلط نہ ہوگا۔ کبھی وہ مکمل مزاحمت کی طرف جاتی ہے، کبھی مذاکرات کی بات کرتی ہے، کبھی سڑکوں پر نکلنے کا اعلان، کبھی پس پردہ رابطوں کی امید۔ یہ غیر یقینی کیفیت نہ صرف کارکنوں کو کنفیوژ کرتی ہے بلکہ ریاست اور حکومت دونوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ پارٹی کے پاس کوئی واضح، طویل المدتی حکمتِ عملی موجود نہیں۔ سیاست میں وقتی دباؤ کبھی کبھار فائدہ دے سکتا ہے، مگر مستقل حل کے لیے ایک واضح سمت درکار ہوتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ تحریکِ انصاف کے پاس اس وقت ایسے سیاسی دماغ کم ہوتے جا رہے ہیں جو نظام کی نفسیات کو سمجھتے ہوں۔ سیاست صرف نعرے لگانے، جلسے کرنے اور سوشل میڈیا ٹرینڈز چلانے کا نام نہیں۔ سیاست طاقت کے مراکز کو سمجھنے، ان کے ساتھ درست فاصلے پر کھڑے ہونے، اور ٹکراؤ کے بجائے تدریجی دباؤ ڈالنے کا فن ہے۔ تحریکِ انصاف کو آج ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے، نہ کہ ہر دوسرے دن ایک نیا لانگ مارچ لانچ کرنے کی۔ پرویز الٰہی جیسے سیاستدان ہوں یا شاہ محمود قریشی جیسے تجربہ کار لوگ، یہ وہ چہرے ہیں جو بات چیت کا راستہ کھول سکتے ہیں، اگر پارٹی واقعی کسی حل کی خواہاں ہو۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی کی مجموعی فضا جذباتی سیاست کے گرد گھوم رہی ہے، جہاں ہر نیا قدم پچھلے قدم سے زیادہ تیز اور زیادہ سخت ہونا چاہیے، چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔
آخرکار سوال یہی ہے کہ تحریکِ انصاف چاہتی کیا ہے؟ اگر وہ واقعی نظام کے اندر رہتے ہوئے سیاسی ریلیف چاہتی ہے تو اسے اپنی سیاست کا لہجہ، انداز اور حکمتِ عملی بدلنی ہوگی۔ اسے یہ ماننا ہوگا کہ ریاستی ریڈ لائن عبور کرنے کے بعد معاملات سڑکوں پر حل نہیں ہوتے۔ اگر وہ مکمل مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے تو پھر اسے اس کے نتائج کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا، کیونکہ ایسی سیاست میں وقتی جوش تو ملتا ہے، مگر طویل المدتی نقصان بھی ہوتا ہے۔
اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ دراصل دباؤ بڑھا کر چیزوں کو سموٹنے کی ایک کوشش ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے معاملات اس طرح نہیں سُلجھتے۔ ریاستیں دباؤ سے نہیں، حکمت سے نمٹتی ہیں۔ سیاستدان اگر اس حکمت کو نہ سمجھیں تو وہ خود کو ایک ایسے دائرے میں قید کر لیتے ہیں جہاں نہ آگے کا راستہ نظر آتا ہے، نہ پیچھے واپسی ممکن رہتی ہے۔ تحریکِ انصاف آج اسی دائرے میں کھڑی ہے، اور اگر اس نے بروقت اپنی سمت درست نہ کی تو یہ سیاسی لوڈ شیڈنگ مستقل اندھیرے میں بدل سکتی ہے۔