• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریڈیو پاکستان حملہ کیس: عدالت نے تفتیشی افسر کو طلب کرلیا

انسداد دہشت گرددی عدالت (اے ٹی سی) پشاور کی خصوصی کورٹ میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت میں ملزمان اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (پی سی بی) کے وکیل پیش ہوئے، اس موقع پر پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ پیش کی گئی۔

عدالت نے رپورٹ کی اصل پولیس کو واپس کردی جبکہ نقل فائل پر لگادی اور اگلی پیشی پر تفتیشی افسر کو پیش کرنے کا حکم دیا۔

دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد انعام یوسفزئی کی بطور اسپیشل پراسیکیوٹر تقرری کا اعلامیہ پیش کیا گیا، جس پر پی سی بی کے وکیل نےاعتراض اٹھایا۔

وکیل نے کہا کہ محمد انعام یوسفزئی اس کیس میں 2 ملزمان کے وکیل رہے ہیں، بطور اسپیشل پراسیکیوٹر ان کی تقرری غیر قانونی ہے۔

عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد انعام یوسفزئی کو نوٹس جاری کیا اور اگلی پیشی پر اے اے جی کو طلب کرلیا۔

اس موقع پر پراسیکیوشن نے کہا کہ 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر مشتمل مظاہرین نے دھاوا بول دیا تھا، مظاہرین نے عمارت کو آگ لگائی اور نجی اور سرکاری املاک کو جلایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تھانہ شرقی پولیس نے 80 سے زیادہ ملزمان کو نامزد کیا، جن میں صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، ارکان اسمبلی فضل الہٰی، آصف خان اور پی ٹی آئی کے کارکن شامل ہیں، 9 ملزمان تاحال رپورش ہیں۔

اے ٹی سی پشاور کی خصوصی عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 26 جنوری تک ملتوی کردی۔

قومی خبریں سے مزید