• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یار تم نے اپنا گھر بہت خوبصورت بنایا ہے! ’’بھئی تم جانتے ہو، اس پر میری کتنی دولت اور کتنا وقت صرف ہوا ہے! ‘‘

اس کا نقشہ تم نے کہاں سے حاصل کیا تھا؟ ’’حاصل کیا تھا؟ تمہارا دماغ چل گیا ہے۔ یہ نقشہ ایک بین الاقوامی شہرت کے ماہر تعمیرات سے بنوایا تھا۔ دس لاکھ روپے تو صرف اس کی فیس ادا کی تھی! ‘‘

دس لاکھ روپے صرف نقشے کی فیس کے طور پر ادا کئے تھے ؟’’ ہاں اس میں حیرانی کی کون سی بات ہے، تم جانتے ہو اس مکان کی تعمیر پر کتنی لاگت آئی ہے‘‘

کتنی لاگت آئی ہے؟ ’’چلو چھوڑو، تم سن کر بے ہوش ہو جاؤ گے بس اتنا جان لو کہ اس میں جو کچھ تمہیں نظر آ رہاہے، وہ سب کا سب امپورٹڈ سٹف ہے ! ‘‘

کیا تم اس گھر میں خوش ہو ؟’’کیا مطلب؟ خوش کیا بہت خوش ہوں!‘‘

یہ تو تم بھی جانتے ہو کہ تم نے یہ گھر رزق حلال سے نہیں بنایا !’’ہاں جانتا ہوں۔ مگر پھر؟‘‘

کیا تمہارا ضمیر تمہیں ملامت نہیں کرتا؟’’ضمیر؟ ضمیر انسان کو گناہوں سے روکتا نہیں ! بس ان گناہوں کا مزا کر کرا کرتا ہے سو کبھی کبھی میرا مزا بھی کر کرا ہو جاتا ہے ! ‘‘

اگر تم کبھی اینٹی کرپشن والوں کی نظروں میں آگئے ؟ ’’ تو کیا ہو گا؟‘‘

پکڑے جاؤ گے اور کیا ہو گا! ’’تم بھی بہت بھولے آدمی ہو۔ کوئی اور بات کرو‘‘

کیا تم نے کبھی سوچا کہ اتنے کرو فر سے رہنے کے باوجود معاشرہ تمہیں اچھی نظروں سےنہیں دیکھتا ؟’’کون سا معاشرہ؟ ‘‘

ارے بھئی، وہی معاشرہ جس میں تم رہتے ہو۔ جس میں تمہارے عزیز و اقرباء تمہارے محلےدار اور تمہارے دوست احباب بھی شامل ہیں ۔ ’’یہ سب لوگ تو مجھے دیکھ کر سجدے میں چلے جاتے ہیں۔ ‘‘

یہ سب کچھ اوپر اوپر سے ہے اندر سے وہ لوگ تمہیں پسند نہیں کرتے ! ’’اندر کی بات جب تک اندر ہی رہے اس سے ہمیں کیا نقصان پہنچتا ہے ؟ ‘‘

اچھا چلو ضمیر کو بھی چھوڑو، اینٹی کرپشن والوں کو بھی چھوڑو معاشرے کو بھی چھوڑو۔ تم یہ بتاؤ کہ مذہب پر ایمان رکھتے ہو !’’ہاں ہر مہینے باقاعدگی سے گیارہویں شریف کا ختم پڑھواتا ہوں ‘‘

لیکن اگر تمہارے رزق میں حرام کی ملاوٹ ہے تو یہ نذر و نیاز تمہارے کسی کام نہیں آئےگی۔’’یار تم کیوں مجھے خوفزدہ کرنے پر تل گئے ہو ؟ ‘‘

میں تمہیں خوفزدہ نہیں کر رہا۔ صرف بطور دوست اپنا فریضہ انجام دے رہا ہوں۔ تم جانتے ہو کہ قبر جو پہلے ہی تنگ ہوتی ہے، ایسے لوگوں کے لئے اور زیادہ تنگ ہو جائے گی ۔’’ اور .... اور کیا ہو گا؟‘‘

اور یہ کہ دوزخ کے فرشتے ایسے بد بختوں کو جلتے ہوئے الاؤ میں پھینک دیں گے اور جب انکے جسم جل کر راکھ ہو جائیں گے تو انہیں نیا جسم عطا کیا جائے گا اور اس کے بعد دوبارہ الاؤ میں ڈال دیاجائے گا اور یہ عمل کروڑوں سال تک جاری رہے گا ۔’’کیا تم یہ سچ کہہ رہے ہو ؟‘‘

میں نے اس معاملے میں جھوٹ بول کر خود جہنم کی آگ میں جلنا ہے؟ تم اب عمر کے آخری حصے میں ہو۔ طرح طرح کے عوارض میں گرفتار ہو کسی بھی وقت سانس تمہارا ساتھ چھوڑ سکتی ہے کیوں چند لمحوں کی آسائش کے لئے خود کو کروڑوں سال کے عذاب میں ڈالتے ہو۔قارون کتنا امیر آدمی تھا؟ لیکن جب وہ مرا تو اس کا مال دولت اس کے کام نہیں آیا اس وقت وہ پڑا دوزخ کی آگ میں جل رہا ہو گا !’’ تم نے میری آنکھیں کھول دی ہیں۔ تم میرے محسن ہو۔ مجھ سے اب اس گھر میں ایک لمحے کے لئے بھی نہیں بیٹھا جا رہا تم مجھے بتاؤ میں کیا کروں؟ ‘‘

خدا کا شکر ہے کہ تم نے میری باتوں کو دھیان سے سنا اور ان کا اثر بھی قبول کیا۔ اب تم اس عذاب سے اس صورت میں نکل سکتے ہو کہ اپنے رزق حلال میں سے ایک چھوٹی سی کٹیا خرید کر یا کرائے پر لے کر اس میں رہو یقین جانو تمہیں اس کٹیا میں زیادہ سکون ملے گا!’’اور موجودہ گھر کو کیا کروں؟‘‘

یہ تم میرے نام کر دو، میں تمہاری خاطر سارے عذاب سہ لوں گا آخر حق دوستی تو ادا کرناہی پڑتا ہے۔

تازہ ترین