عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں کی مضبوطی میں کمی آنا ایک فطری عمل ہے، تاہم 50 سال کی عمر کے بعد یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کیلشیم اور وٹامن ڈی ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے بنیادی غذائی اجزا ہیں، لیکن عمر کے ساتھ ان کی قدرتی پیداوار اور جذب ہونے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
خصوصاً خواتین میں Menopause کے دوران اور اس کے بعد ہڈیوں کی خرابی تیزی سے بڑھتی ہے، ماہرین کے مطابق خواتین آخری ماہواری کے بعد تقریباً پانچ سال تک ہر سال اوسطاً 3 فیصد ہڈیوں کی مضبوطی کھو دیتی ہیں، جس کی بڑی وجہ جسم میں ایسٹروجن ہارمون کی کمی ہے، اس کے بعد بھی ہڈیوں کی کمزوری تقریباً 1 فیصد سالانہ کی رفتار سے جاری رہتی ہے۔
دوسری جانب مردوں میں بھی 50 سال کی عمر کے بعد ہڈیوں میں خرابی کا عمل بتدریج شروع ہو جاتا ہے۔
کمزور ہڈیاں گرنے کی صورت میں فریکچر کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں، جبکہ وٹامن ڈی کی کمی پٹھوں کی طاقت اور توازن کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے گرنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں، ماہرین کے مطابق 70 اور 80 سال کی عمر میں ہیپ فریکچر سب سے زیادہ عام ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سپلیمنٹس کا زیادہ استعمال ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا، حد سے زیادہ کیلشیم گردوں، دل اور دیگر اہم اعضا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اسی طرح وٹامن ڈی کی بہت زیادہ مقدار بھی گرنے اور فریکچر کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے، اس لیے سپلیمنٹس کا استعمال اعتدال اور ضرورت کے مطابق کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔
نیشنل اکیڈمیز آف سائنسز کے مطابق51 سے 70 سال کے افراد کو روزانہ 15 مائیکروگرام وٹامن ڈی اور 1000 سے 1200 ملی گرام کیلشیم (عمر اور جنس کے مطابق) درکار ہوتا ہے۔ 70 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے روزانہ 20 مائیکروگرام وٹامن ڈی اور 1200 ملی گرام کیلشیم ضروری ہے۔
کیلشیم کے بہترین ذرائع میں دودھ، دہی اور دیگر ڈیری مصنوعات شامل ہیں، جو افراد خوراک سے مطلوبہ مقدار پوری نہیں کر پاتے، ان کے لیے 500 ملی گرام کیلشیم سپلیمنٹ تجویز کیا جاتا ہے۔
وٹامن ڈی کے لیے سورج کی روشنی سب سے مؤثر ذریعہ ہے، تاہم سرد علاقوں یا سردیوں کے موسم میں، خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کو روزانہ 800 سے 1000 آئی یو وٹامن ڈی لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔