• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ونزویلا کے صدر مدورو کے خلاف امریکی کارروائی اور پاکستان میں مبینہ اُسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن میں بظاہر کوئی فرق نہیں۔ جس طرح ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کے بیٹے کو اُسامہ بتا کر کارروائی میں حکومت ِوقت کی آشیر باد نظر آتی تھی بعینی اسی طرح ونزویلا میں حکومتی اکابرین اور فوجی قیادت کی ملی بھگت نظر آتی ہے۔جس دیدہ دلیری سے امریکہ نے آپریشن کر کے ایک ملک کے صدر کو مع اہلیہ زدوکوب کر کے اغوا کیا وہ اس سے پہلے دیکھا نہ سنا ۔24 اپریل 1980 کو امریکہ نے ایران میں اسی طرز کا آپریشن" ایگل کلا"کیا تھا جس کی نگرانی براہِ راست امریکی صدر جمی کارٹر نے کنٹرول سینٹر سے کی۔ پانچ عدد سی ـ 130 جہاز، آٹھ ہیلی کاپٹر، ائیر ریفیول ٹینک، ایئر کرافٹ کیریئر اور 130 فوجیوں سے خوار زان کے" دشتِ لوط" میں 600 میل اندر جا کر امریکی سفارت خانے سے یرغمالی چھڑانے کا منصوبہ تھا۔ آپریشن کے آغاز میں ہی ایک ہیلی کاپٹر کے ہیڈرالک میں خرابی پیدا ہوگئی تو دوسرے کا پر ٹوٹ گیا، تیسرا ریت کے طوفان کے باعث اڑ نہ سکا، چوتھا اسی ریت کے طوفان میں ٹینکر سے ٹکرا گیا جس سے ٹینکر بھی تباہ ہو گیا جبکہ پانچواں ریت ہی میں دھنس گیا،بِنا لڑے آٹھ فوجی ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔ یوں اپنے پانچ ہیلی کاپٹر اور لاشیں چھوڑ کر، مشن کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے آپریشن ختم کیا گیا۔ امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی، حکمتِ عملی اور تیاری سب دھری کی دھری رہ گئی۔ اُدھر ایرانی اگلے روز سو کر اٹھے تو انہیں پتہ لگا کہ اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی کی مدد انہیں کیسے آئی! آیت اللّٰہ خمینی کے الفاظ ہیں کہ " اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہماری مدد کو فرشتے اتارے". جبکہ امریکی کہتے ہیں کہ "ہم پر جہنم کے دروازے کھل گئے اور جو کچھ غلط ہو سکتا تھا اس روز ہوا"۔ افسوس کہ امریکہ سمیت دنیا میں کسی نے اس واقعے سے کوئی سبق نہ سیکھا اور اب بھی سب تکبر سے بھرے اسی ظلم ،جبر و بربریت کی ڈگر پر گامزن ہیں۔

ٹرمپ جس طرح تمام بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ہی رائج کردہ اصولوں پر مبنی نظام کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ امریکی اور ذاتی مفادات کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو بزورِ طاقت ہٹا دیں گے۔ ان کے لئے حق سچ ،جمہوریت، انسانیت، انسانی حقوق، عالمی انصاف سب بے معنی باتیں ہیں۔ یہ الفاظ تو مغرب نے کمزور طاقتوں کو غلط فہمی میں رکھ کر، اپنا مطمعٔ نظر حاصل کرنے کے لیے وضع کیے تھے۔ اب امریکہ اپنی معیشت کو ڈوبتا اور نئی عالمی طاقتوں کو ابھرتا دیکھ کر اپنی اصلیت پر آگیا ہے۔ وہ تمام اصول جو دنیا کے لیے مشعلِ راہ کے طور پر متعارف کرائے گئے تھے، پسِ پشت ڈال دیے ہیں۔ یورپ ہو یا نیٹو، اپنے مفادات کو زک پہنچنے کا اندیشہ ہے تو ٹرمپ نے سب ہی کو بیچ منجھدھار میں چھوڑ دیا۔ اسکے باوجود 36 ٹریلین ڈالر کی مقروض امریکی معیشت دن بدن تباہی کے دہانے کے قریب تر ہو رہی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں متبادل کرنسی متعارف ہونے پر ڈالر کی قدر کھونے کا خوف، نئے معاشی اتحاد و حکمتِ عملی سے دنیا کی واحد قوت امریکہ کے مقام کو چیلنج کرتیں نئی قوتیں، امریکہ کے لیے بھیانک خواب بن چکی ہیں۔ ایسے میں تمام اصولوں اور اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صدر ٹرمپ امریکہ کو دوبارہ عظیم الشان بنانے کے مشن پر نکلے ہیں۔ امریکہ اب عظیم الشان نہیں رہا تو اس کی بنیادی وجہ امریکہ اور مغرب کا جمہوریت کے نام اپنے زر خریدوں کے ذریعے بلواسطہ نوآبادیاتی نظام برقرار رکھنا ہے۔ وہ دوسرے ملکوں کے حکمرانوں کو بزورِ طاقت، انکےقریبی لوگوں کو لالچ وطمع سے خرید کر، زبردستی اٹھا سکتے ہیں ،معاشی پابندیاں لگا کر، تنگی دے کر، متنفر عوام کے ذریعے رجیم چینج کرا سکتے ہیں۔ برادر ممالک کو آپس میں لڑوا کر جغرافیہ تبدیل کر سکتے ہیں،نقشوں پر نئی لکیریں کھینچ سکتے ہیں۔ بلیک میل اور ناجائز ہتھکنڈوں سے کمزور حکمرانوں سے اپنے مرضی کے فیصلے کرا سکتے ہیں۔ تاہم جب بھی داؤ لگا یہ سب ملک امریکہ سے دشمنی کریں گے۔ وہ اس کی بے رحم طاقت کے خوف سے کچھ دور تو ساتھ چل سکتے ہیں لیکن موقع پاتے ہی اس کے چنگل سے آزاد ہو جائیں گے۔ آج دنیا کو چین اور روس متبادل نظام کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کے داعی ہیں جہاں قوموں اور ملکوں کے حقوق غصب نہیں کیے جائیں گے، نہ ان کے وسائل پر امریکہ اور یورپ کے اجارہ داری ہوگی۔ ترقی پذیر ممالک کی فیصلہ سازی میں اہمیت ہوگی، تجارت کے بہتر مواقع اور رقوم کی ادائیگی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار کے لیے بہتر ذرائع ترسیل کی پیشکشیں ہیں۔جبکہ روس معاشی تعاون کےنسبت جغرافیائی سیاسی متبادل نظام کا خواہاں ہے، جہاں وہ امریکہ اور یورپی پابندیوں اور اجارہ داری سے نجات، ملکوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی یقین دہانی اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کی حکمتِ عملی کا اعادہ کرتا ہے۔ اس لیے وہ تیل، گیس، جوہری توانائی، اناج اور کھادوں کی بروقت اور با اعتماد ترسیل کی یقین دہانی کے علاوہ مغربی منڈیوں سے ہٹ کر لمبے عرصے کے مناسب قیمت پر معاہدوں کی پیشکش کرتا ہے۔ دونوں ممالک مغربی معاشی نظام کے متبادل ایک متوازن منصفانہ عالمی نظام کو متعارف کرانا چاہتے ہیں جبکہ مغرب اور امریکہ کو یہ کسی طور قبول نہیں۔

اب یہ نظاموں کی جنگ ہے جو وقتی طور پر امریکی فتح کی صورت میں نظر آ سکتی ہے لیکن جلد یا بدیر اسے اپنے منطقی انجام کو پہنچنا ہوگا۔ ظلم،جبر اور ناانصافی کا نظام کچھ عرصہ تک تو چل سکتا ہے لیکن بہرحال اسے دھڑن تختہ ہونا ہے۔ ہزاروں سال پرانی اس دنیا نے بہت اونچ نیچ دیکھی ہے، چشمِ فلک نے بہت سی سپر طاقتوں کو مٹی کا ڈھیر بنتے اور گمنامی کے اندھیروں میں گم ہوتے دیکھا ہے۔امریکہ کا انجام اس سے کیسے مختلف ہوسکتا ہے!ایران میں اسرائیل اور امریکہ کی سازش سے رجیم چینج آپریشن جاری ہے۔اگر یہ خدانخواستہ کامیاب ہوا تو حزب اللّٰہ اور حماس دوبارہ اسرائیل

کے نشانے پر ہوں گے۔ اُدھر امریکہ، کیوبا اور گرین لینڈ پر قبضہ کر کے اپنے منہ پر کالک ملے گا کہ کس بنیاد پر اس نے عراق کا کویت پر قبضہ ناجائز قرار دے کر لاکھوں بے گناہ عراقیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے تھے۔ تاہم روس اور چین کا بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں کڑا امتحان ہے۔اگر دونوں نے اپنا کردار بھرپور اور جاندار طریقے سے ادا نہ کیا تو دنیا لمبے تاریک دور میں داخل ہو جائے گی جس میں جنگل کا قانون ہوگا اور درندگی راج کرے گی۔ کمزور و مظلوم شکار ہوگا اور ظالم و طاقتور شکاری! جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے فرمایا : وہ آگ جو پیدا نہیں اسے اپنی خاک سے طلب کر، کسی اور کی تجلّی اس قابل نہیں کہ اس کا تقاضا کیا جائے۔

؎ ز خاکِ خویش طلب آتشے کہ پیدا نیست

تجلیٔ دگرے درخوَرِ تقاضا نیست

تازہ ترین