• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے اکثر مقبول سیاستدانوں کی ایک ہی کہانی ہے۔ اس کہانی میں صرف کردار بدل جاتے ہیں۔ یہ سیاستدان جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو زیادہ عرصہ جیل میں گزارتے ہیں یا پھر جلا وطن رہتے ہیں۔ جب یہ سیاستدان کسی نہ کسی مفاہمت یا خاموش معاہدے کے ذریعہ حکومت میں آجاتے ہیں تو پھر اپنی مفاہمت کے قیدی بن جاتے ہیں۔ یہی اس سسٹم کا کمال ہے جس میں مقبول سیاستدان وزیراعظم بنکر بھی کسی کا قیدی نظر آتا ہے۔ آج پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا۔ فرحت اللّٰہ بابر کی محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں نئی کتاب SHE WALKED INTO FIRE پڑھتے ہوئے بار بار احساس ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک سابق وزیراعظم کی کہانی نہیں بلکہ کئی سابق وزرائے اعظم کی کہانی ہے۔ بابر صاحب نے کچھ عرصہ قبل صدر آصف علی زرداری کے پہلے دور کے متعلق کتاب لکھی تھی جس میں انہوں نے صدر مملکت کے ترجمان کی حیثیت سے اپنے مشاہدات بیان کئے تھے۔ اُنکی دوسری کتاب اُن ایام کے بارے میں ہے جو انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کے تقریر نویس اور پھر اُن کے ترجمان کی حیثیت سے گزارے۔ یہ عرصہ 1988ءسے 2007ء پر محیط ہے اور اس دوران شہید بی بی زیادہ عرصہ اپوزیشن میں رہیں ۔ یہ دراصل مائنس بینظیر فارمولے کی آنکھوں دیکھی کہانی ہے۔ اس کتاب میں فرحت اللّٰہ بابر نے کچھ ایسے تاریخی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے جو شہید بی بی کی کہانی کو مکمل کرتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی شہادت سے صرف ایک رات قبل اپنی آخری کتاب RECONCILIATIONمکمل کی اور 27 دسمبر 2007 ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر شہید کر دی گئیں ۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو 1951 ء میں شہید کیا گیا تھا اور اسی راولپنڈی شہر میں ایک اور وزیر اعظم ذوالفقار علی ؤبھٹو کو 1979 ء میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ میں نے فرحت اللّٰہ باہر کی کتاب کے مطالعے کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو کی آخری کتاب بھی ساتھ کھول لی ۔ کچھ واقعات کا ذکر شہید بی بی نے مختصر مختصر کیا تھا ۔ بابر صاحب نے کئی واقعات کی پوری تفصیل بیان کر ڈالی ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی آخری کتاب کا موضوع بہت وسیع ہے۔ انہوں نے یہ کتاب پاکستان کے حالات سے شروع کی، جہاں اُنہوں نے جمہوریت کی بحالی کیلئے ایک ملٹری ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ڈائیلاگ شروع کیا لیکن یہ ڈائیلاگ صرف ایک ڈکٹیٹر کے ساتھ نہیں تھا۔ ڈکٹیٹر کے پیچھے ہمیشہ کی طرح امریکا بھی کھڑا تھا۔ یہ ڈائیلاگ امریکا میں شروع ہوکر پاکستان پہنچا اور اس ڈائیلاگ کا آغاز فرحت اللّٰہ بابر کے ذریعہ ہوا جسکا ذکر محترمہ بے نظر بھٹو نے اپنی کتاب میں نہیں کیا لیکن ڈائیلاگ کی ساری تفصیل بابر صاحب نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے ۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب شہید بی بی نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں مجھے بتایا تھا کہ وہ کچھ عرصے کیلئے بچوں کیساتھ دبئی شفٹ ہو رہی ہیں۔ان دنوں نواز شریف وزیر اعظم تھے اور آصف زرداری جیل میں تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس ملک قیوم کے ذریعہ آصف زرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف فیصلہ حاصل کیا جانیوالا تھا۔ شہید بی بی کو یہ پریشانی تھی کہ اگر وہ بھی گرفتار ہو گئیں تو انکے بچوں کی تعلیم کا کیا ہوگا ؟ وہ بچوں کیلئے محفوظ رہائش اور تعلیم کا بندو بست کرنے دبئی شفٹ ہو گئیں ۔ کچھ ہی عرصے کے بعد انہیں جلاوطنی پر مجبور کرنیوالے نواز شریف کو بھی سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا ۔ نائن الیون کے کچھ عرصے کے بعد جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے امریکا میں مقیم ایک پاکستانی کے ذریعہ محترمہ بے نظیر بھٹو سے ڈائیلاگ کیلئےرابطہ کیا ۔ شہید بی بی نے خود یہ ڈائیلاگ شروع نہیں کیا بلکہ فرحت اللّٰہ بابر کو ڈائیلاگ کیلئے امریکا بھیجا ۔ بابر صاحب نے اپنی کتاب میں اس ڈائیلاگ کی اہم تفصیلات بیان کی ہیں ۔ ڈائیلاگ کا آغاز دسمبر 2001ء میں ہوا ۔فرحت اللّٰہ بابر کی بیان کردہ تفصیلات کو سامنے رکھیں تو دسمبر 2001ء میں امریکا نے پیپلز پارٹی کو بتا دیا تھا کہ 2002 ء میں الیکشن تو ہو جائینگے لیکن پاکستان میں جمہوریت نہیں آئیگی۔ جی ہاں ! یہ پہلے بھی ہو چُکا ہے کہ الیکشن تو ہو گئے، پارلیمنٹ بھی موجود تھی لیکن جمہوریت لاپتہ تھی ۔ فرحت اللّٰہ بابر کو امریکا میں کہا گیا کہ نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو ناصرف الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ شہید بی بی 2007 تک جلا وطن رہیں گی۔ یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ آصف زرداری بھی جیل میں رہیں گے اور اگر محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف سے تعاون نہ کیا توپیپلز پارٹی کو توڑ دیا جائیگا۔ فرحت اللّٰہ بابر یہ پیغام امریکا سے لیکر چلے اور دبئی پہنچے ۔ شہید بی بی کو یہ پیغام دیدیا ۔ شہید بی بی نے امریکا اور جنرل پرویز مشرف کے اس مشترکہ پیغام پر سرنڈر کرنے سے انکار کردیا۔ ڈائیلاگ کا اگلا راؤنڈ اسلام آباد میں فرحت اللّٰہ بابر اور جنرل پرویزکے قریبی ساتھی طارق عزیز کے درمیان ہوا ۔ پھر شہید بی بی کو چیرمین سینیٹ بنانے کی پیشکش کی گئی ۔ انہوں نے انکار کر دیا ۔ پھر 2002ء کا الیکشن ہو گیا۔ پیپلز پارٹی کو توڑ دیا گیا ۔ 2002ء سے 2007 ء تک جنرل مشرف کے پاس فری ہینڈ تھا ۔ موصوف بھر پور امریکی حمائت اور ایک ربڑ سٹمپ پارلیمنٹ کے ذریعہ پاکستان کو آگے لیجانے کی بجائے مزید کئی سال پیچھے لے گئے۔ 2007 ءکی وکلاء تحریک کے دباو میں جنرل مشرف نے دوبارہ محترمہ بینظیر بھٹو سے ڈائیلاگ شروع کیا لیکن یہ ڈائیلاگ بھی ایک دھوکہ تھا۔ جنرل مشرف وردی اُتارنے اور الیکشن کرانے پر راضی تو ہو گئے لیکن مائنس بینظیر اور مائنس نواز شریف فارمولے کیساتھ آگے بڑھنا چاہتے تھے ۔ شہید بی بی راضی نہ تھیں ۔وہ مشرف کی مرضی کے خلاف پاکستان آئیں اور شہید کر دی گئیں۔ اس کتاب میںایسے کئی واقعات موجود ہیں جب شہید بی بی اپنے خاوند پر تنقید کرنے والوں سے ناراض ہو جایا کرتی تھیں۔ ایک صحافی سے اتنی ناراض ہو گئیں کہ بابر صاحب سے کہا یہ کبھی انٹرویو مانگے تو اسکی جھوٹی خبر مجھے یاد دلائیے گا۔ فرحت اللّٰہ بابر نے اپنی کتاب میں ایک جگہ میرا بھی ذکر کیا ہے جب مجھے 1994 ء میں ایک آبدوز سکینڈل کی سٹوری لکھنے پر نوکری سے نکال دیا گیا تو شہید بی بی نے مجھے ایک اہم سرکاری عہدہ پیش کیا۔ میں نے شکریہ کے ساتھ معذرت کر لی اور کہا کہ یہ وقتی طوفان ہے۔ یہ میرا صحافتی زوال نہیں ہے اور یہ مشکل وقت میں گزار لوں گا۔بابر صاحب نے میرے انکار کے بارے میں لکھا ہے کہ شہید بی بی اس انکار پر بہت خوش ہوئی تھیں۔ بابر صاحب کی اس کتاب میں جمہوریت عدلیہ اور میڈیا کے علاوہ امریکا کے کردار کے بارے میں بیان کردہ کئی واقعات کی آج کے واقعات سے بہت مماثلت نظر آتی ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے افسوس بھی ہوتا ہے کہ جس جمہوریت کی بحالی کیلئے شہید بی بی نے اپنی جان قربان کردی وہ ابھی تک بحال نہیں ہوئی۔ یہاں الیکشن تو ہو جاتا ہے مائنس ون بھی ہو جاتا مائنس ٹو بھی ہو جاتا لیکن جمہوریت پھر بھی نہیں آتی اور جمہوریت کے نام لیوا کوئی سبق بھی نہیں سیکھتے۔

تازہ ترین