• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بانی پی ٹی آئی کو جیل میں کیا کیا سہولتیں دستیاب؟ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل میں سہولیات پر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی گئی، رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں کمپاؤنڈ سات سیل پر مشتمل ہے،‏ بانی ناشتے میں کھجور، اخروٹ، شہد، کافی، دلیہ، لسی، گرم دودھ، چیا سیڈز لیتے ہیں، دوپہر کے کھانے میں دیسی مرغ، مٹن بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں کمپاؤنڈ 7 سیل پر مشتمل ہے، ان کے سیل کے سامنے 57 فٹ لمبی اور 14 فٹ چوڑی راہدری ہے، ان کے کمپاؤنڈ سے ملحق 35/37 کا لان ہے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی لان میں بیٹھ کر کتابیں، اخبارات پڑھتے ہیں اور دھوپ سینکتے ہیں۔

رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے 7 سیل پر مشتمل کمپاؤنڈ میں 30 سے 35 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، ‏بانی پی ٹی آئی کو ورزش کےلیے سائیکلنگ مشین اور دیگر جم کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔

بانی پی ٹی آئی ناشتے میں کھجور، اخروٹ، شہد، کافی، دلیہ، لسی، گرم دودھ، چیا سیڈز لیتے ہیں۔ بانی ناشتے میں مسمی اور انار کا جوس بھی پیتے ہیں۔

دوپہر کے کھانے میں دیسی مرغ، مٹن، سلاد، مکس اچار، آلو چپس، انڈہ فرائی، مکس دال فراہم کی جاتی ہے جبکہ وہ شام میں بادام، کشمکش، پسا ہوا ناریل، دودھ، کھجور، کیلا، سیب کا شیک پیتے ہیں۔

بانی پی ٹی آئی کو صبح سے لے کر شام تک قدرتی روشنی اور تازہ ہوا کی رسائی دی جاتی ہے، ‏بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں محفوظ ماحول میں رکھا گیا ہے، ‏بانی پی ٹی آئی کو بہتر کلاس مہیا کی گئی ہے۔

 پنجاب حکومت نے 11 اگست 2023 کو بانی کو بہتر سہولتیں دینے کی منظوری دی تھی: وفاقی حکومت

دوسری جانب وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو کتابیں بھی فراہم کر دی گئی ہیں، 24 اگست 2023 کو عدالتی حکم پر اٹک جیل سہولتوں کی رپورٹ  بھی چیمبر میں جمع کروادی تھی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریٹائرمنٹ کے باعث آرڈر جاری نہیں کیا تھا، اٹک جیل میں بانی پی ٹی آئی کو بہتر کلاس فراہم کرنے کا نوٹیفکیشن رپورٹ کیساتھ لف ہے۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے پنجاب حکومت نے 11 اگست 2023 کو بانی پی ٹی آئی کو بہتر سہولتیں دینےکی منظوری دی تھی۔ فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

قومی خبریں سے مزید