طعن و تشنیع نہ رُکے توبات کہاں بنے؟ حکومت بھی مذاکرات پر زوردے رہی ہے اور اپوزیشن بھی خواہش رکھتی ہے مگر مذاکرات کیلئے جو ساز گار ماحول درکارہے وہ فریقین کی بیان بازی اور زبان درازی کے باعث دستیاب نہیں۔ کوئی اس حقیقت کو تسلیم کرنےپر تیار ہی نہیں کہ ملکی و بین الاقوامی حالات جس تیزی سے رُخ بدل کر آپ کی جغرافیائی سرحدوں تک آگئے ہیں، خصوصاً وینزویلا میں امریکی کارروائی اور وینزویلین صدر کو اٹھائے جانے کے بعد ایران پر امریکی حملے کا بڑھتا خطرہ ، ٹرمپ کی ایران میں پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں مداخلت کی دھمکیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دنیا بھرسے جنگیں ختم کرنے کا بیانیہ ایک دھوکہ تھا۔ اب دنیا نئی جنگوں ، جغرافیائی تبدیلیوں، مفادات کے ٹکراؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ ٹرمپ سے جس عالمی امن و سکون کی توقعات تھیں، سب سراب ثابت ہوئیں ۔ بظاہر ٹرمپ مودی سرکار کو آنکھیں دکھا رہے ہیں، بھارت پر ٹیرف کی شرح پانچ سو فی صد تک بڑھانے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے جس کا واحد مقصد بھارت کو روس سے سستے تیل کی خریداری روک کر پیوٹن کو دباؤ میں لانا ہے۔ ایران میں مہنگائی کوجواز بنا کر جو پُرتشدد ہنگامے ہو رہے ہیں ٹرمپ ان ہنگاموں پر تیل چھڑک رہے ہیں اور افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیاجارہا ہے کہ وہ بگرام ایئر بیس امریکہ کو واپس کردے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان حالات میں پاکستان متاثر نہ ہو۔ ان حالات میںہم ٹرمپ سے دوستی کی جو توقعات لگائے بیٹھے ہیں،سب فریب ہی دکھائی دےرہی ہیں۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ سیاسی جنگ و جدل اور داخلی انتشار میں اُلجھتےجارہے ہیں اورمذاکرات کی رٹ بھی لگائے ہوئے ہیں۔ کوئی ایک فریق عقل و دانش سے کام لیتے ہوئے دوسرے فریق کو راستہ دینے کو تیار نہیں۔ حکومت اورریاستی ادارےملک کو داخلی و خارجی بحرانوں سے نکالنے کی اپنے تئیں کامیاب تدبیریں کررہے ہیں اور یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ تمام سیاسی قوتیں موجودہ نظام کو قبول کرکے آگے بڑھتے ہوئے ریاست کی موجودہ حکمت عملی پر اجتماعی آمین کہیں لیکن یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔ ریاستی، حکومتی و سیاسی فریقین کے درمیان کھلے عام بیان بازی، سخت جملوں کا تبادلہ، ایک دوسرے کی حکمت عملی پر شدید تنقید سے ہم من حیث القوم اپنا وقار کھو رہے ہیں۔ وقت ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔ تیز رفتار ترقی کی امید کو بریک لگنے کے خدشات موجود ہیں۔ حکومت اور ریاستی اداروں نےملکرجو بوجھ اپنے کندھوں پراٹھار کھا ہے وہ ایک بڑے سیاسی فریق کی ہٹ دھرمی، جارحانہ سیاسی حکمت عملی اور اس کے سوشل میڈیا جنگجوؤں کے ریاست مخالف ایجنڈ ے کے باعث بڑھتا جا رہاہے۔ ریاست بارہا اس سیاسی فریق کو انتباہ کرچکی ہے کہ جب تک وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے ساتھ کھڑا نہیں ہو گا اسےکوئی رعایت ملنے کی گنجائش نہیں۔ ریاست 9مئی کے واقعات میں ملوث کرداروں کو معافی دینے ، کسی مفاہمت و مصالحت کی روا دار نہیں۔ 9 مئی والی جماعت خیبرپختونخوا میں حکومت چلا رہی ہے۔ ان کا بیانیہ بدستور اپنے بانی کی پیروی میں افغان طالبان حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد تنظیموں سے مذاکرات پر اٹکا ہوا ہے۔ وہ علانیہ ریاست کے بیانیے کو چیلنج کررہے ہیں۔ انہیں اپنے صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف کسی قسم کا ملٹری آپریشن قبول نہیں۔ حیران کن طورپروفاقی حکومت سے سیاسی ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں نہ ہی ریاستی بیانیے کے ساتھ چل رہے ہیں، اُلٹا اپنے صوبے میںافغان مہاجرین کی آڑ میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف بھی کوئی حتمی کارروائی کی سوچ نہیں رکھتے۔ یقیناً سہیل آفریدی ہی میرے مخاطب ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ ان صوبے میں کون کون اپنی جانیں بچانےکیلئے دہشت گردوں کو بھتہ دیتاہے؟وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جو اپنا تفصیلی رد عمل دیا انتہائی افسوس ناک بلکہ شرمناک ہے کہ وہ 80 ہزار پختونوں کی قربانیاں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ اگر ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر سہیل آفریدی کے شدید رد عمل اور افغان طالبان حکومت کے ترجمان کے بیان کو ملا کر پڑھیں تو دونوں کا بیانیہ سمجھنے میں آسانی ہوگی ، جس میں ترجما ن پاک فوج کی حالیہ پریس کانفرنس کے مندرجات کو یکسر مسترد کیا گیا ہے۔ وہ اپنی صفوں میں جھاڑو پھیرنے کو تیارنظرنہیں آتے۔ افغان طالبان حکومت ،بھارت گٹھ جوڑ ،پاکستان مخالف بین الاقوامی قوتوں کے ایک دوسرے سے روابط اور اس کے ممکنہ نتائج و اثرات بارے تو تاریخ ہی طے کرے گی کہ کون کس کا دوست اور دشمن تھا؟ اور کس کس نے سہولت کار کے طورپر پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں میں کردار ادا کیا؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گردوں کے سپرد کر دیا جائے؟ کیا عوام کو یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا کہ پاکستان کے اندر اورباہر منشیات کے گھناؤنے کاروبار میں کون ملوث ہے؟ انہیں مالی معاونت کن ذرائع سے حاصل ہو رہی ہے؟ ماضی و حال کی تاریخ گواہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں ناقص سکیورٹی کے باعث پُورے ملک میں منشیات و اسلحہ کی سمگلنگ ہوتی ہے۔ دہشت گرد موقع ملتے ہی وہاں سے سندھ اور پنجاب میں آکر کارروائیاں کرتے ہیں۔ انہیں مقامی سیاسی عناصر کی مکمل پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ سہیل آفریدی کا رد عمل، ریاستی اداروں سے تعاون نہ کرنے کی حکمت عملی ان کی حکومت کے خلاف ایک مکمل چارج شیٹ ہے جس کا شدید رد عمل ضرور آئے گا۔