کراچی (نیوز ڈیسک) سات گھنٹے سے کم نیند عمر گھٹا سکتی ہے، نئی تحقیق میں انکشاف، ناکافی نیند کو قبل از وقت موت سے جوڑا گیا، معیاری نیند دل، دماغ اور مدافعتی نظام کیلئے ضروری قرار، عوام نیند کو معمولی مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ اسے صحت مند طرزِ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں، ماہرین کا مشورہ، اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی (OHSU) کی ایک نئی سائنسی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص مسلسل سات گھنٹے سے کم نیند لیتا ہے تو اس کی زندگی کا دورانیہ کم ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے SLEEP Advances میں شائع ہوئی ہے، جس میں نیند کے دورانیے اور معیار کو انسانی صحت اور طویل عمر سے براہِ راست جوڑا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق مناسب اور گہری نیند نہ صرف جسم کو آرام دیتی ہے بلکہ دل، دماغ اور مدافعتی نظام کو بھی درست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ناکافی نیند دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپے، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے، جو بالآخر قبل از وقت موت کا سبب بن سکتے ہیں۔ مطالعے میں شامل سائنس دانوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جو افراد باقاعدگی سے سات سے آٹھ گھنٹے معیاری نیند لیتے ہیں، ان میں جسمانی سوزش کم، یادداشت بہتر اور بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کم یا خراب نیند لینے والے افراد میں وقت کے ساتھ صحت کے مسائل جمع ہوتے چلے جاتے ہیں، جو عمر گھٹنے کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین صحت نے اس تحقیق کی روشنی میں عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نیند کو معمولی مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ اسے صحت مند طرزِ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔ سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کرنا، سونے سے پہلے موبائل اور اسکرین کے استعمال میں کمی، کیفین سے پرہیز اور پُرسکون ماحول میں نیند لینا طویل اور صحت مند زندگی کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا ہے۔