امریکی فورسز نے بھارتی ریاست ہماچل پردیش سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ مرچنٹ نیوی افسر ریکشِت چوہان کو اٹلانٹک میں روسی پرچم والے تیل بردار جہاز سے گرفتار کر لیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریکشت چوہان کو روسی کمپنی نے اپنے پہلے سمندری مشن کے لیے وینیزویلا بھیجا تھا۔
ٹینکر کو 7 جنوری کو امریکی فورسز نے بندرگاہ کے قریب طویل سمندری جانج پڑتال کے بعد روکا تھا جس کے بعد سے ریکشت سے بھارت کا رابطہ منقطع ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ریکشت چوہان کی شادی 19 فروری کو طے تھی۔
بھارتی مرچنٹ نیوی افسر کے اہل خانہ نے بھارتی وزیراعظم اور بیرونی امور کے وزیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو محفوظ طریقے سے بھارت واپس لایا جائے۔
ریکشت کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسی بحری جہاز پر گوا اور کیرالا سے تعلق رکھنے والے دو دیگر بھارتی افسر بھی موجود تھے۔
بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ روسی ٹینکر پر کل 28 افراد موجود تھے جن میں تین بھارتی، 22 یوکرینی، 6 جارجیائی اور 2 روسی شامل تھے۔
روسی عملے کے دو افراد کو بعد میں آزاد کر دیا گیا جبکہ باقی افراد تاحال امریکا کی حراست میں ہیں۔