• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مودی کے دورے کے بعد اسرائیل کو ایران پر فضائی حملے کا موقع ملا: اسرائیلی سفیر کا انکشاف

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

اسرائیل کے سفیر ریووین آزر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حملے اُس وقت کیے گئے جب بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اسرائیل سے روانہ ہوئے۔

بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیلی سفیر نے کہا کہ مودی کے دورے کے دوران حملے کا کوئی حتمی منصوبہ موجود نہیں تھا، 2 دن بعد سیکیورٹی کابینہ نے کارروائی کی منظوری دی جس کے بعد 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے۔

خامنہ ای کی حملے میں شہادت

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای تہران میں اپنے کمپاؤنڈ پر حملے کے دوران شہید ہو گئے، حملے میں ان کے اہلِ خانہ کے کئی افراد بھی شہید ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں 700 سے زائد افراد جان سے گئے ہیں۔

حملے کی تیاری برسوں سے جاری تھی

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سفیر کا کہنا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں اور قیادت کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے اسرائیل نے برسوں میں اربوں ڈالرز خرچ کیے اور جدید ٹیکنالوجی تیار کی تاکہ ایرانی فضائی دفاعی نظام کو عبور کیا جا سکے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ ابراہام معاہدوں کے بعد اسرائیل، امریکا کے سینٹکام اور خطے کے بعض ممالک کے ساتھ فضائی نگرانی اور فوجی تعاون میں اضافہ ہوا جس نے اس آپریشن کو ممکن بنایا۔

واضح رہے کہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران میں عبوری قیادت قائم کر دی گئی ہے جس میں آیت اللّٰہ علی رضا اعرافی، صدر مسعود پزشکیان اور چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی شامل ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ایران کی اسمبلی آف ایکسپرٹس نے نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے تاہم سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے تصادم کے خطرے سے دوچار دکھائی دے رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید