وطن عزیز کے ذرائع ابلاغ پر سیاسی اور ’’عالمی امور‘‘کی اس قدر بہتات ہے کہ حقیقی مسائل آنکھوں سے اوجھل ہو کر رہ گئےہیں،بلاشبہ سیاسی امور اہم ہیں،صوبوں کے گورننس مسائل بھی اجاگر ہونے چاہئیں،ایران افغانستان،ویزویلا،سوڈان،متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے جڑے ہوئے عالمی حالات پر بھی گفتگو کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن عوام کے حقیقی مسائل پر بات کرنا بہت ضروری ہے،خصوصی طور پر صحت کے مسائل اس قدر تشویشناک ہوتے جارہے ہیں کہ انکے اعداد و شمار چکرا دینے کیلئے کافی ہیں خصوصاً پاکستان میں گردوں کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں، غیر صحت مند طرزِ زندگی، ناقص غذا، آلودہ پانی، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور مناسب طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان بیماریوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریباً 20 فیصد آبادی کسی نہ کسی طرح گردوں کے مسائل کا شکار ہے اوران میں سےبیشتر کو بیماری کا علم ہی نہیں ۔ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی اور شعور کی عدم موجودگی کے باعث مریضوں کی تشخیص دیر سے ہوتی ہے،اگر ان بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں، ڈائلسز یا گردے کی پیوند کاری کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے ترقی پزیر ممالک کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں گردوں کے امراض کا بوجھ اب عالمی صحت کا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ 1990ءمیں تقریباً 378 ملین افراد اس مرض میں مبتلا تھے، جو 2023ء تک بڑھ کر 788 ملین تک پہنچ گئے یعنی تقریباً ہر دس میں سے ایک بالغ شخص اس بیماری سے متاثر نظر آیا۔اس مرض کی وجہ سے ہر سال قریب 1.48 ملین افراد موت کا شکار ہو رہے ہیں۔پاکستان میں گردوں کے امراض کی شرح بھی بہت تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ تازہ ترین پاکستان رینل رجسٹری 2024 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریباً 17 ملین افراد یعنی بڑی تعداد میں لوگ گردوں کے مرض کا شکار ہیںاور پاکستان دنیا بھر میں گردوں کے مریضوں کے اعتبار سے آٹھویں نمبر پر ہے۔ عالمی اور مقامی رپورٹس اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہیں کہCKD کی ابتدائی مراحل میں ((Chronic Kidney Diseaseکی علامات اکثر غیر محسوس رہتی ہیں، جسکی وجہ سے بہت سے مریض وقت پر تشخیص اور علاج نہیں کروا پاتے۔ پاکستان میں ڈائیلسز کے مراکز اور گردے ٹرانسپلانٹ کی سہولیات بڑے شہروں تک محدود ہیں۔ دیہات میں مریضوں کو علاج کیلئے طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ اسکا علاج مہنگا اور لمبے عرصے تک چلتا ہے۔ڈائیلسزکا ماہانہ خرچہ 30سے 50 ہزارروپے تک ہوتا ہے جو غریب خاندانوں کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ گردے کی پیوند کاری پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں جو غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ملک بھر میں صرف 200 تربیت یافتہ نیفرولوجسٹس ہیں جو آبادی کے تناسب سے ناکافی ہیں۔ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتے پاکستانیوںکیلئے باقاعدہ چیک اپ ایک خواب ہے۔ دیہاتی علاقوں میں جڑی بوٹیوں پر انحصار اور طبی مشوروں سے گریز بیماریوں کو مزید بڑھا دیتا ہے پاکستان میں متعدد غیر سرکاری تنظیمیں سماجی خدمت کے مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔غریب اور نادار بچوں کو مفت تعلیم دینےکیلئے مسلم ہینڈز انٹرنیشنل،آنکھوں کے علاج کو ایک منظم ادارہ جاتی شکل دینے کیلئے المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ نے آنکھوں کی تمام بیماریوں کے مفت علاج کیلئے ایک شاندار ہسپتال لاہور میں بنا رکھا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں کام کر رہا ہے۔خون کی بیماریوں کے علاج کیلئے فاطمید فاؤنڈیشن، سماجی خدمت کے دیگر مختلف شعبوں میں،ضیاء الامت فاؤنڈیشن،الخدمت فاؤنڈیشن سمیت کئی ادارے اپنے ڈونرز کی مدد سے اس شعبہ میں مصروف عمل ہیں گزشتہ دنوں مجھے معروف دانشور اور شاعر ڈاکٹر ظفر اقبال نوری،ڈاکٹر حمزہ اور خواجہ صفدر امین کی معیت میں ایبٹ آباد جانے کا موقع ملا جہاں،سعودی عرب،امریکہ اور آسٹریلیا میں موجود تارکین وطن نے اپنی مدد آپ کے تحت گردوں کے مرض کے علاج کیلئے ایک سٹیٹ آف دی آرٹ’پاکستان کڈنی سینٹر‘کے نام سے ایک بڑا ادارہ کھڑا کر دیا ہے۔اس کا وزٹ کر کے مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس دور دراز علاقے میں لاہور اور اسلام آباد جیسی معیاری سہولیات مستحق مریضوں کیلئے مفت دستیاب تھیں۔اس کڈنی سینٹر میں ایک سی ٹی سکین یونٹ کا افتتاح کیا گیا۔اس افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے مجھے ڈاکٹر ظفر اقبال نوری اور ڈاکٹر خلیل الرحمٰن نے مدعو کیا تھا۔یہ دونوں ڈاکٹر راولپنڈی میڈیکل کالج میں ہم جماعت تھے اور اب انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم عمل ہیں۔افتتاحی تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے راقم نے ڈاکٹر حضرات سے گزارش کی وہ علاج سے پہلے احتیاط کے کلچر کو فروغ دیں۔یہ کام حکومتی اور نجی سطح پر ہونا چاہیے۔عوام کو بیماری کی طرف لے جانے والے عوامل سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم شروع کی جائے۔حکومت ناقص خوراک،غیر معیاری پانی اور غیر صحتمند سرگرمیوں پر سخت اقدامات کرے جبکہ سول سوسائٹی، ڈاکٹرز، اور این جی اوز اس حوالے سے شعور کی بیداری کیلئے کام کریں،سیر اور واک کے کلچر کو فروغ دیں،پہلے گردوں کا مرض صرف بڑی عمر کے لوگوں کو لاحق ہوتا تھا لیکن پاکستان کڈنی سینٹر میں کئی بچے ڈائیلسز کے تکلیف دہ عمل سے گزر رہے تھے۔گردوں کے امراض کا علاج،پیچیدہ،مہنگا اور طویل المدت ہے،غریب آدمی کیلئے ٹرانسپلانٹیشن اب بھی ایک خواب ہے۔ملک بھر کتنے ہی کڈنی سنٹر بنا دیے جائیں لیکن جب تک مرض کی وجوہات کا تدارک نہیں ہوگا یہ مرض بڑھتا جائیگا۔ ان وجوہات کا تدارک حکومت اور سول سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔