• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاست میں اگر تلخی کے بجائے تدبر، اور محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کے راستے پر چلا جائے تو نہ صرف ماحول بدلتا ہے بلکہ قومی وحدت کا تصور بھی مضبوط ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کی کراچی آمد اور سندھ حکومت، بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ان کا پُروقار اور خوش دلی سے کیا گیا استقبال محض ایک رسمی حکومتی سرگرمی نہیں تھا بلکہ یہ اس سیاسی سوچ کا اظہار تھا جسکی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹونے رکھی اور جسے محترمہ بے نظیر بھٹو نے جمہوری جدوجہد کے ذریعے زندہ رکھا۔ یہ واقعہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل صوبوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے میں نہیں بلکہ انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے میں ہے۔گزشتہ کچھ عرصے سے ملکی سیاست میں جو کشیدگی، الزامات اور نفرت کا بیانیہ غالب رہا ، اس نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ایسے میں جب ایک صوبے کے وزیرِ اعلیٰ دوسرے صوبے کے دارالحکومت آتے ہیں اور وہاں کی حکومت سیاسی اختلافات کے باوجود کھلے دل کے ساتھ ان کا استقبال کرتی ہے تو یہ ایک انتہائی مثبت پیغام ہے۔ کراچی جیسے شہر میں، جہاں ماضی میں لسانی اور سیاسی تقسیم کو ہوا دی جاتی رہی، یہ منظر خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اس شہر کو صرف سندھ کا دارالحکومت نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی شہ رگ اور تمام اکائیوں کا مشترکہ اثاثہ سمجھا ہے، اسی سوچ کا عکس اس استقبال میں بھی نظر آیا۔ پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی ستون مفاہمت ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس نے آمریت کے سائے میں بھی جمہوری قوتوں کو ساتھ بٹھانے کی کوشش کی، جو چاروں صوبوں کو آئینی حقوق دلانے کیلئے اٹھارہویں ترمیم جیسے تاریخی اقدامات کی محرک بنی، اور جس نے ہمیشہ وفاق کو مضبوط بنانے کیلئے صوبائی خودمختاری کو ضروری قرار دیا۔ آج جب خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کراچی آئے تو پیپلز پارٹی نے یہ ثابت کیا کہ اختلافِ رائے کے باوجود احترام اور تعاون کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ یہی رویہ دراصل وفاق پاکستان کی روح ہے۔کراچی میں ہونے والی ملاقاتوں اور بیانات میں یہ بات واضح رہی کہ مسائل خواہ پانی کے ہوں، معیشت کے ہوں، دہشت گردی کے ہوں یا مہنگائی کے، ان کا حل مشترکہ سوچ اور باہمی تعاون میں ہے۔ پیپلز پارٹی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ایک صوبے کا استحکام دوسرے صوبے کے استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ اگر خیبر پختونخوا میں امن ہوگا تو اسکے اثرات سندھ اور بالخصوص کراچی پر بھی مثبت ہونگے، اور اگر سندھ معاشی طور پر مضبوط ہوگا تو پورا پاکستان اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے پیپلز پارٹی اپنی سیاست کا محور بناتی آئی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حالیہ برسوں میں بعض سیاسی قوتوں نے صوبوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی، کبھی وسائل کی تقسیم پر شکوک و شبہات پیدا کیے گئے اور کبھی لسانی یا علاقائی جذبات کو ہوا دی گئی۔ ایسے ماحول میں پیپلز پارٹی کا طرزِ عمل ایک متبادل سیاسی کلچر کی نمائندگی کرتا ہے۔

کراچی میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کا استقبال اس بات کا ثبوت تھا کہ پیپلز پارٹی نفرت کی سیاست کے بجائے رابطے اور بات چیت پر یقین رکھتی ہے۔ یہ وہ سیاست ہے جو وقتی فائدے کے بجائے طویل المدت قومی مفاد کو ترجیح دیتی ہے۔اس استقبال کی علامتی اہمیت بھی کم نہیں۔ کراچی وہ شہر ہے جہاں ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم نے نہ صرف شہر کا امن متاثر کیا بلکہ قومی معیشت کو بھی نقصان پہنچایا۔ آج اسی شہر میں مفاہمت، مسکراہٹ اور باہمی احترام کا منظر دیکھنا اس بات کی امید دلاتا ہے کہ ہم بطور قوم اپنی غلطیوں سے سیکھ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ سیاست کا اصل مقصد اقتدار نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے، اور یہ بہتری صرف اس وقت ممکن ہے جب سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو دشمن کے بجائے شریکِ سفر سمجھیں۔پیپلز پارٹی کی قیادت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ وفاق کو مضبوط بنانے کیلئے دلوں کو جوڑنا ہوگا۔ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کی آمد پر سندھ حکومت کا رویہ دراصل اسی فلسفے کی عملی شکل تھا۔ یہ پیغام دیا گیا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر صوبوں کے درمیان احترام اور تعاون ناگزیر ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف سیاسی درجہ حرارت کو کم کرتے ہیں بلکہ عوام میں یہ احساس بھی پیدا کرتے ہیں کہ انکے مسائل پر سیاستدان سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔آج جب ملک کو معاشی دباؤ، سیکیورٹی چیلنجز اور سماجی مسائل کا سامنا ہے، تو مفاہمت کی سیاست وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اگر ہم واقعی پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ذاتی اور جماعتی انا سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کرنے ہوں گے۔ کراچی میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کا استقبال اسی سوچ کی ایک جھلک تھا، جو یہ بتاتا ہے کہ سیاست نفرت کا نام نہیں بلکہ امید کا استعارہ بھی ہو سکتی ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ صرف سندھ کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جماعت ہے۔ اس کا سیاسی وژن صوبوں کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرنا ہے۔ کراچی میں آج جو منظر دیکھنے کو ملا، وہ اگرچہ ایک دن کا واقعہ تھا، مگر اس کے اثرات دیرپا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ دیگر سیاسی قوتیں بھی مفاہمت، برداشت اور احترام کے اس راستے کو اپنانے کا حوصلہ پیدا کریں۔ یہی راستہ پاکستان کو آگے لے جا سکتا ہے، اور یہی وہ سیاست ہے جسکی بنیاد پیپلز پارٹی نے رکھی اور جسے وہ آج بھی اپنی پہچان بنائے ہوئے ہے۔

تازہ ترین