• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غالب فلم میں مرز ا غالب کہتے ہیں،جس شاعرکا کلام بالاخانے کی مغنیہ گادے اس کو بڑا شاعربننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اسی طرح کسی مزاحمت میں دکاندار شامل ہوجائیں تواسکوانقلاب بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔احتجاجی مظاہرے ایران میں ہوتے رہتے ہیں۔اس بار شدت اسی لیے زیادہ ہے کہ تہران کے بازاریوں نے دکانوں کو تالے لگادیے ہیں۔بازاریوں کالینز بہت زیادہ نظریاتی نہیں ہوتا۔انکی مزاحمت پیٹ کے گرد گھومتی ہے۔ انکا سوال اقتصادی ایجنڈے کیساتھ جڑا ہوتا ہے۔1971ءکے انقلاب کا سہرا بھی بازاریوں کے سر جاتا ہے،مگرتب بازاریوں کےمنہ میں تقدس والے دانت زیادہ تھے۔اب والے بازاریوں میںبھی اکثریت کےرجحانات مذہبی ہیں،مگر سیاسی مذہبیت سے یہ اکثریت باہرآچکی ہے۔اب وہ ولایت فقیہ جیسے تصور کوچیلنج کررہے ہیں۔لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بے قراری سے رضا پہلوی کا انتظارکررہے ہیں۔انکا انتظارصرف ہارڈ کور لبرلز کر رہے ہیں۔ وہ بھی اسلئے کہ معاملات کو وہ سیاست کا لینز لگا کر نہیں دیکھتے۔ یہی نفسیات فرقہ پرستوں کی بھی ہوتی ہے۔ سیاسی طور پر سوسائٹی اکثرتین حصوں میں بٹی ہوتی ہے۔ روایت پسند، اصلاح پسند اور رجعت پسند۔ سیاسی ذہن ان تینوں حصوں کو ایک لڑی میں پرونے کیلئے ون پوائنٹ ایجنڈ اسیٹ کرتا ہے۔ اصلاح پسند طبقے کو وہ بطور خاص ٹارگٹ کرتاہے۔ ہارڈ کور لبرل اس صلاحیت سے محروم ہوتا ہے۔ وہ جلدی میں ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے اصلاح پسندوں کا بڑا حلقہ آم کی طرح ٹوٹ کر سیدھا انکی جھولی میں گر جائے۔ ایسا نہیں ہوتا تو پھر باہر سے کوئی طاقت آئے اور ہمارے حریف کو بم سے اڑا دے۔ تیسرا کوئی پائیدار راستہ ہم اختیار نہیں کرینگے۔ ایران میں جاری احتجاج سے کوئی ہمہ جہت لیڈر ابھی تک ابھر کر سامنے نہیں آیا۔ رضاپہلوی اور نیتن یاہو اسی لئے بہت جلدی میں ہیں۔رضا پہلوی روز اپنی سی وی اپڈیٹ کرکے وائٹ ہاوس کوای میل کرتےہیں۔روز ہی تازہ شیو کرکے ٹائی سیدھی کرتے ہیں کہ آج انٹرویو کیلئے کال آجائے گی۔ ایک ٹویٹ کے ذریعے تو انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ نوکری نہیں دینی تومت دو، انٹرویو تولے لو۔ ہارڈ کور لبرلز اور نیتن یاہو نے انکو شارٹ لسٹ کردیا ہے مگر صدر ٹرمپ اور بازاریوں کی طرف سے ابھی انکار ہے۔ نیتن یاہو چاہتا ہے کہ پہلوی کو فائنل کرکے انقلاب کو فورا ً کوئی علامتی چہرہ دیدیا جائے۔ پہلوی کا غم یہ ہے کہ مجھے جوائننگ لیٹر ملنے سے پہلے کوئی دوسرا امیدوار سامنے نہ آجائے۔ صدر ٹرمپ کو لگتاہے کہ رضا شاہ پہلوی اس انقلاب کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ رضا شاہ پہلوی کا نام فائنل کر دیا گیا تو بازاریوں کی بڑی تعداد لوٹ کر گھروں کی طرف چلی جائیگی۔ فائدہ اسی حکومتی سیٹ اپ کو پہنچ جائے گا جس کی بربادی کے آسمانوں میں مشورے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ خدشہ درست ثابت ہو رہا ہے۔ اسرائیل کی پسندیدگی کی وجہ سے رضا پہلوی ایرانی مزاحمت کاروں کی اکثریت کیلئے ناپسندیدہ ہوگئے ہیں۔ پھر ایک غلطی خود ٹرمپ نے یہ کر دی کہ ایرانی حکومت کو حملے کی دھمکی دیدی۔ ساتھ ہی اسرائیل نےکہاقدم بڑھاو ہم تمہارے ساتھ ہیں، جیسا بیان بھی اونچے سروں میں داغ دیا۔یہ بیانات مظاہرین کے حق میں دیئے گئے مگر مظاہرین میں ہی موجوداصلاح پسندوں کوان بیانات نے مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ وہ مزاحمت جاری رکھنا چاہتے ہیں مگر اب ان کو مزا نہیں آرہا۔ ان کے سر پہ لٹکا ہوا یہ سوال گہرا ہوتا جارہا ہے کہ کیا ہم مہروں کے طور استعمال ہورہے ہیں؟ اگر بدلاو آجاتاہے توکیا ہم اپنے مقاصد حاصل کرپائینگے۔ کی ہم پھر سے دائروی منطق کے شکار ہونے جارہے ہیں؟ان سوالات نے ولی فقیہ کے مردہ گھوڑے میں روح پھونک دی ہے۔سڑکیں پہلے سے زیادہ بھرگئی ہیں، مگراب سڑکوں پرصرف '’’تااخوند کفن نشود، ایں وطن وطن نشود‘‘جیسے مزاحمتی نعرے ہی نہیں گونج رہے، 'مرگ بر اسرائیل جیسے روایتی نعرے بھی لگ رہے ہیں۔روایتی نعرے لگانے والوں میں ایک تعداد انکی بھی ہے جو ٹرمپ کی دھمکی سے کچھ دیر پہلے تک’ 'برائے زن زندگی آزادی‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ایران کی مارکسی تنظیم تودہ پارٹی نے 71ء کے انقلاب میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا تھا۔کچھ موقعوں پراس پارٹی نے انقلاب کولیڈ بھی کیا تھا۔ مگر انقلاب نے آتے ہی تودہ پارٹی کو بے رحمی سے کچل دیا۔تودہ پارٹی کم دلی کیساتھ ہی سہی، مگر موجودہ مزاحمت میں بھی موجود رہی۔ ٹرمپ کی دھمکیوں نے اب انکے آخری جذباتی کارکن کو بھی یہ پیغام دیدیا ہے کہ یہ انقلاب بھی وہیں سے آرہا ہے جہاں سے 71ء کا انقلاب آیا تھا۔ تب ہمارے نصیب میں پتھرآئے تھے تواب پھول کیوں آئینگے۔ یہ سوچ کرتودہ پارٹی کے کارکن قہوہ خانوں میں جاکر بیٹھ گئے ہیں۔ مگر کیا طاقت بھی کافی شاپ میں جاکر بیٹھ جائے گی؟ لگتا نہیں ہے۔ طاقت نے مخملی دوپٹہ اتارکر بال کھول لیے ہیں۔ڈس آرڈرکواس نے ورلڈ آرڈر قرار دیدیا ہے۔ اس نے ایک ملک کے صدر کو بیوی سمیت دن دہاڑے اٹھا لیا ہے۔ میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کے سربراہان کو بھی کان کروا دیئے ہیں۔ تم لوگ میرے لیے پیبلو ایسکو بار سے زیادہ کچھ نہیں ہو۔ ڈنمارک سے اس نے پورے کا پورا گرین لینڈ مانگ لیا ہے۔ہنسی خوشی دیدو ورنہ اپنے طریقے سے لینا تو مجھے آتا ہی ہے۔ ہر طرف ننگا ناچ ناچنے والی طاقت ایران کا رخ کیوں نہیں کرے گی؟ کیا اصفہان کے قہوے اورشجریان کے گیت پراس کا کوئی حق نہیں ہے؟ دوسری جنگ عظیم کے بعدطاقت نے مجبوری میں دلیل اورمنطق کا ریشمی نقاب ضرور اوڑھ لیا تھا مگرطاقت کا کھیل وہی تھا جو ہم اب دیکھ رہے ہیں۔ طاقت کے سامنے ہمیشہ سے ایک ہی سوال رہاہےکہ اپنے مفادات کو تحفظ کیسے دینا ہے۔ یہ تحفظ انسانی حقوق کے نعرے سے ممکن ہو تو طاقت افغانستان اور عراق پرحملہ کر دیتی ہے۔ مذہبی تصور سے ممکن ہو تو ایران کو پاسداران انقلاب، افغانستان کو طالبان اور شام کو القاعدہ کے حوالے کر دیتی ہے۔ مفادات کا تحفظ جہاد سے ممکن ہو تو جنرل ضیا زندہ باد۔ لبرل ازم سے ممکن ہو تو جنرل مشرف پائندہ باد۔ مفادات کی جنگ میں پیدا ہونیوالی ایسی ہر دو صورتحال میں مجھ جیسوں کو دو ہی آپشن دیے جاتے ہیں۔ ہمت ہے تو پاس کر ورنہ برداشت کر۔ پاس تو میں نہیں کرسکتا، کیونکہ جیب میں ایرانی تیل کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ برداشت کرنیکا البتہ فیصلہ کر لیا ہے۔ پوپ کارن کا ٹرک دروازے پر اتروا لیا ہے۔ مداخلت، مزاحمت اور انقلاب کے اس کھیل کو ہاوس آف کارڈز جیسے سیزن کے طور پر دیکھنا ہے۔ رجیم چینج کا منصوبہ کامیاب ہو جانے کی صورت میں اپنی خوشی پر قابو رکھنا ہے۔ اسکا ایک فائدہ ہے۔ سیاسی حالات بدلنے پر جب پاسداران انقلاب القاعدہ کی طرح ڈرائی کلینر سے گزر کر دوبارہ تہران کی سڑکوں پرنکلیں گے تو یہ منظر دیکھتے ہوئے تکلیف ذرا کم ہوگی۔

تازہ ترین