• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران پر حملوں کے بعد برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کا جائزہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جہاں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، وہیں برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ایران پر حملوں کے بعد برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی ریاست خطے میں اندھا دھند کارروائیاں کرے اور سویلین اور فوجی اہداف کو نشانہ بنائے تو حفاظتی اقدامات میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات برطانوی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ برطانیہ کے اندر بھی سیکیورٹی اور نگرانی کے اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں، دہشت گردی کے خطرے کی سطح میں کسی ممکنہ تبدیلی کا اعلان وزیر داخلہ کریں گی۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی موجودہ سطح ’سبسٹینشل‘ ہے، جس کا مطلب ہے کہ حملے کا امکان موجود ہے، یہ سطح فروری 2022 سے برقرار ہے، جب اسے ’سیویر‘ سے کم کیا گیا تھا، خطرے کی سطح کا تعین جوائنٹ ٹیرر ازم اینالیسز سینٹر کرتا ہے، جو برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے تحت کام کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے اور آئندہ چند روز اس حوالے سے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید