امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی، سائبر اور نفسیاتی آپشنز سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
امریکی میڈیا نے محکمہ دفاع کے دو عہدے داروں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایران کے خلاف فضائی طاقت اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کسی بھی ممکنہ فوجی ردِعمل کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے منصوبہ سازوں نے صدر ٹرمپ کو سائبر آپریشن اور نفسیاتی مہم کے آپشن بھی پیش کیے ہیں جن کا مقصد ایرانی کمانڈ کے ڈھانچے، مواصلات اور سرکاری میڈیا کو کمزور کرنا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی عہدے داروں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور سفارتی راستے کھلے ہیں۔
اسی دوران امریکی جنگی طیاروں کی قطر کے العدید ایئر بیس پر سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں، وہاں سے اتوار کی رات کو کئی امریکی جنگی طیاروں کی پروازیں ہوئیں۔
دوسری جانب نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی زیرِ قیادت سینئر معاونین نے ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ ایران کے خلاف حملے سے پہلے سفارت کاری کو موقع دینا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سفارت کاری پہلا آپشن ہے، لیکن اگر ضروری ہوا تو وہ فوجی طاقت استعمال کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔
ترجمان وائٹ ہاوس نے مزید کہا کہ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی جانتے ہیں کہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔