• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران سے تجارت کرنے پر عائد نئی امریکی پابندیاں بھارت کو کیسے متاثر کر سکتی ہیں؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔

ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا جائے گا اور اس اقدام کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

اگرچہ ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار چین کو سمجھا جاتا ہے لیکن اس اقدام سے بھارت، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور ترکیہ بھی متاثر ہوں گے کیونکہ یہ تمام  ممالک بھی ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔

تہران میں موجود بھارتی سفارت خانے کے مطابق بھارت نے 25- 2024ء میں ایران کو 1.24 بلین ڈالرز کی اشیاء برآمد کیں جبکہ اس نے 0.44 بلین ڈالرز کی اشیا درآمد کیں جس سے کل تجارت 1.68 بلین ڈالرز تک پہنچ گئی۔

ٹریڈنگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے ایران سے جو تجارت کی اس میں سب سے زیادہ حصّہ 512.92 ملین ڈالرز کے اورگینک کیمیکلز کا تھا، دوسرے بڑا حصّہ 311.60 ملین ڈالرز کے خوردنی پھلوں، گری دار میوں، لیموں کے چھلکوں اور خربوزوں کا تھا جبکہ تیسرا بڑا حصّہ 86.48 ملین ڈالرز کے معدنی ایندھن، تیل اور کشید کرنے والی مصنوعات کا تھا۔

امریکا پہلے ہی روسی تیل کی خریداری سے منسلک بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد سے زیادہ کا ٹیرف عائد کر چکا ہے اور اب ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد ہونے کے بعد بھارتی مصنوعات پرعائد ٹیرف 75 فیصد تک جا سکتا ہے اور اس طرح تجارت میں مزید رکاوٹ پیش آ سکتی ہے۔

گزشتہ کئی مہینوں سے امریکا اور بھارت ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں جو بھارت کو طویل عرصے تک ٹیرف میں ریلیف فراہم کرے گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید