ایران میں جاری پُرتشدد مظاہروں کے دوران حکومت نے ملک میں ایلون مسک کے اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو بھی جام کردیا۔
مظاہروں میں شدت آنے کے بعد ’کِل سوئچ‘ کے نام سے پہچانی جانے والی حکمت عملی کے ذریعے عوام کی انٹرنیٹ تک رسائی کو مکمل طور پر منقطع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس حکمت عملی کو دنیا بھر کی قومیں بحرانوں کے دوران غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مقامی تناظر میں استعمال کرتی ہیں۔
ایران میں زمینی کیبلز کے ذریعے فراہم کیے جانے والی انٹرنیٹ سروس کا بلیک آؤٹ ساڑھے 3 دن تک جاری رہا لیکن اب بڑا اقدام یہ ہے کہ ایرانی حکومت اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس تک رسائی کو روکنے کےلیے کام کر رہی ہے۔
ایران اسٹار لنک انٹرنیٹ سروس کو کس طرح جام کر رہا ہے؟
ملک میں انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے دوران ایرانی عوام کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس کا استعمال ہی واحد راستہ تھا۔
تاہم جی پی ایس (گلوبل پوزیشننگ سسٹم) کے سگنلز میں مداخلت کرکے اس سروس کو بھی متاثر کیا جا سکتا ہے کیونکہ بیس اسٹیشنز کو سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ساتھ اپنی پوزیشن شیئر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ یہ قریب ترین گراؤنڈ اسٹیشن کی شناخت کرسکے۔
اس حوالے سے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ واشنگٹن تھنک ٹینک کے الیکٹرانک وارفیئر کے ماہر برائن کلارک نے میڈیا کو بتایا کہ سیٹلائٹ اور گراؤنڈ ٹرمینل کے درمیان ٹرانسمیشن کو روکنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں جیمنگ ڈیوائسز کی ضرورت پڑتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ موبائل فونز کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے جیمنگ ڈیوائسز مارکیٹ میں عام فروخت کیے جاتے ہیں اور درست تکنیکی معلومات کے ساتھ ان ڈیوائسز کو اسٹار لنک سسٹم کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔