پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شعبہ طب میں ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے، ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیلی میڈیسن سے علاج ممکن ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو غذائی قلت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جس کا حل نوجوانوں کی صلاحیتوں، مہارتوں اور علم میں پوشیدہ ہے۔۔
وہ منگل کو جناح سندھ میڈیکل کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کر رہے تھے جس کا انعقاد مقامہ ہوٹل میں کیا گیا۔
جلسہ تقسیم اسناد سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور شیخ الجامعہ ڈاکٹر امجد سراج میمن نے بھی خطاب کیا، جب کہ وزیر جامعات و بورڈ اسماعیل راہو، چیرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع، سکریٹری سندھ ایچ ای سی نعمان احسن، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر ڈاکٹر نگہت شاہ اور رجسٹرار اعظم خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔
جلسہ تقسیم اسناد میں طب اور صحت سے وابستہ مختلف شعبہ جات کے 570 سے زائد طلبہ و طالبات کو اسناد تفویض کی گئیں، جبکہ نمایاں تعلیمی کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو اسناد کے ساتھ مجموعی طور پر 30 تمغے دیے گئے، جن میں 11 طلائی، 10 نقرئی اور 9 کانسی کے تمغے شامل تھے۔
اس موقع پر 9 طلبہ و طالبات کو بیسٹ گریجویٹ کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ تقریب کے آغاز میں غزہ کے شہداء کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
تقریب سے خطاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج کا دن صرف تقسیم اسناد کا نہیں بلکہ ایک اہم سنگِ میل ہے۔
انھوں نے کہا فارغ التحصیل طلبہ نے صرف ادویات ہی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی، ذہنی صحت اور دیگر اہم شعبوں کے بارے میں بھی تعلیم حاصل کی ہے جو موجودہ دور کی بنیادی ضرورت ہے۔ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی ایک طاقتور نام کی حامل درسگاہ ہے جس کا تعلق بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سے جڑا ہوا ہے اور اس نام کے ساتھ نظم و ضبط اور ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادویات کا تعلق صرف علاج سے نہیں بلکہ انسانیت سے ہے، یہ غربت کے باعث بیمار ہونے والے بچوں، محروم طبقات اور کمزور افراد کی خدمت کا نام ہے، وہ معاشرے جو صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی عزت نہیں کرتے، انہیں مہذب معاشرے نہیں کہا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ہمیشہ برداشت، رواداری اور مزاحمت کی سرزمین رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو غذائی قلت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے جس کا حل نوجوانوں کی صلاحیتوں، مہارتوں اور علم میں پوشیدہ ہے۔ کچھ گریجویٹس تحقیق کے شعبے میں جائیں گے، کچھ اسپتالوں میں علاج اور سرجری کے فرائض انجام دیں گے اور کچھ بیرونِ ملک خدمات سرانجام دیں گے۔
تاہم وہ جہاں بھی ہوں، انہیں انسانیت کی خدمت کو مقدم رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقیات کے بغیر ٹیکنالوجی بے معنی ہے اور مستقبل کا صحت کا نظام مریض مرکوز ہونا چاہیے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ والدین کا بھی ہے جنہوں نے ان طلبہ کی تربیت کی، ان کے کردار کی تشکیل کی اور اپنی محنت و قربانی سے قوم کا مستقبل سنوارا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ جے ایس ایم یو کے جلسہ تقسیم اسناد میں موجود ہیں، جہاں ڈاکٹرز، محقق اور رہنمائے صحت ایک چھت تلے جمع ہیں۔ نوجوان گریجویٹس نے خدمت صحت کی نئی دنیا میں قدم رکھا ہے اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کو ترقی کرتا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی جبکہ صدر آصف علی زرداری کی کاوشوں سے اسے یونیورسٹی کا درجہ ملا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور ایمرجنسی ٹاور اسی دورِ حکومت میں مکمل کر لیا جائے گا۔ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں مہنگے سے مہنگا علاج عوام کو مفت فراہم کیا جا رہا ہے اور صوبے کے اسپتالوں میں بیرونِ ممالک سے بھی مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پورے سندھ میں ایس آئی سی وی ڈی اور این آئی سی وی ڈی کا جال بچھایا گیا ہے، جہاں ماضی کے مقابلے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت کے اداروں کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الجامعہ پروفیسر امجد سراج میمن نے کہا کہ یہ ادارہ ملک کو باصلاحیت اور باکردار طبی ماہرین فراہم کر رہا ہے جو عوامی خدمت میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ طلبہ کا سفر یہاں ختم نہیں بلکہ اب عملی زندگی کا آغاز ہو رہا ہے، انہوں نے مزید کہا حکومت سندھ کے تعاون سے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے جامعہ کو فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، جس سے تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔
کانووکیشن کے اختتام پر فارغ التحصیل طلبہ سے پیشہ ورانہ حلف لیا گیا، جس میں انہوں نے اخلاقی طبی عمل، دیانت داری اور انسانیت کی خدمت کے عزم کا اعادہ کیا۔