• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران میں دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا

ایران میں دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا، حالات معمول پر آنے لگے، انٹرنیشنل کالز بحال، انٹرنیٹ سروس ابھی بند ہے۔

ایرانی انٹیلی جنس نے متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ پکڑ لیا۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا نے ملٹری آپریشن کی کوشش کی تو ایران تیار ہے، نہيں سمجھتے کہ امریکا منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

 عباس عراقچی نے جرمن چانسلر کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ برلن انسانی حقوق کے لیکچر کے لیے سب سے بدترین مقام ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمن چانسلر وینزویلا کے صدر کے اغوا پر مسلسل خاموش رہے، غزہ میں 70 ہزار شہادتوں پر خاموش رہنے والے جرمنی کو شرم آنی چاہیے۔

واضح رہے کہ ایران میں فسادات کے خاتمے اور حالات معمول پر آنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانیوں کو دوبارہ احتجاج کرنے کی ترغیب، ایران میں فساد برپا کرنے والوں کی کھلم کھلا پشت پناہی، کہا مظاہرین ایرانی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں، امریکی مدد جلد پہنچنے والی ہے ، مظاہرین کو پھانسی دی تو انتہائی سخت ردعمل ہوگا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید