• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یکم جنوری کو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل، سلمان اکرم راجہ کو یہ مثبت پیغام دیا کہ ان کی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوئی ہے اور انہوں نے دورہ سندھ کے دوران ان کونہ صرف ہر طرح کے تعاون کی پیشکش کی ہے بلکہ پروٹوکول اور وزیر اعلیٰ ہاؤس میں آنے کی دعوت بھی دی ہے۔

یکم سے 8جنوری تک ’سب اچھا‘ کا تاثر گیا اور جس طرح سندھ کے وزیر سعید غنی نے آفریدی صاحب کا استقبال کیا اس سے سیاسی حلقوں میں عام تاثر یہ گیا کہ تمام تر ’غیر سیاسی‘ روکاٹوں کے باوجود،آنیوالے وقتوں میں ان دو بڑی جماعتوں کے درمیان ایک بہتر سیاسی ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو سکتی ہے، خاص طور پر مرکز اور پنجاب میں۔ پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ وہ سارا تاثر زائل ہوگیا اور سندھ حکومت اور پی پی پی اک جیتی ہوئی بازی اپنے ہی ہوم گراؤنڈ پر ہار گئی۔

مگر کہانی ابھی نامکمل ہے میرے دوست کیونکہ پنجاب میں نہ وہ جلسہ کر سکے اور نہ کوئی ریلی مگر دورہ سندھ کے دوران 8جنوری سے 11 جنوری تک آفریدی صاحب نے ریلی بھی نکالی، جلسہ بھی کیا اور آنے والے وقتوں میں شروع ہونیوالی ’اسٹریٹ مومنٹ‘ کیلئےکراچی کو محترک بھی کر دیا۔ ماسوائے اتوار کے روز کےجو کچھ باقی ’’سب اچھا رہا ‘‘بہتر ہوتا اگر سندھ حکومت غیر ضروری طور پر وہ روایتی ریاستی حربے استعمال نہ کرتی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ’مین اسٹریم‘ میڈیا یہ سب کچھ ایک خاص حد تک دکھا سکا ۔ اب لوگ سوشل میڈیا کا رخ کیوںنہ کریں جہاں سب’ Live ‘چل رہا تھا۔

آخر ایسا کیا ہوا کہ بنی بنائی بات بگڑ گئی۔ کیا سندھ حکومت یا وزیر اعلیٰ کی پالیسی سےکچھ حلقے ناراض ہو گئے یا پھر آفریدی صاحب کی صدر آصف علیٰ زرداری پر ذرا سے طنزیہ انداز میں تنقید کے بعد رائے بدل گئی حالانکہ میں ذاتی طور پر اس بات کا گواہ ہوں کہ سہیل آفریدی نے یہ بات بہت دھیمے انداز میں بھٹو اور بے نظیربھٹو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہی تھی۔ لگتا یہ ہے کہ خود پی پی پی کے اندر بھی کچھ لوگوں نے زرداری صاحب کے حوالے سے اس تنقید کو پسند نہیں کیا۔ مسلم لیگ (ن) کا جتنا اسٹیک لاہور میں ہے کراچی کی سیاست میں پی پی پی کا نہیں ہے اور باقی سندھ میں اب تک تحریک انصاف کوئی جگہ نہیں بنا پائی۔ لہٰذا کراچی میں پی ٹی آئی جتنا بھی بڑا جلسہ کرتی اس کا سیاسی نقصان یا تو ایم کیو ایم کو تھا یا جماعت اسلامی کو یا پھر ان کو جن سے بہرحال پی ٹی آئی کے معاملات ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑ رہے ہیں۔ کراچی ویسے بھی پشتو زبان بولنے والوں کا سب سے بڑا شہر ہے جس کی اکثریت کا جھکاؤ تحریک انصاف کی طرف ہے۔ 8فروری 2024 کے الیکشن میں سیاسی رحجان بھی ایم کیو ایم سے پی ٹی آئی کی طرف گیا اور اگر آخری بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف کے منتخب ٹاؤن ناظم کے ساتھ کوئی ’مڈنائٹ جیکال‘ والی صورتحال نہ بنائی جاتی تو آج مرتضیٰ وہاب بہرحال میئر نہ ہوتے۔ اب یہ بچارے حافظ نعیم صاحب کی بدقسمتی کہ اس وقت وہ بس غلطی سے عمران خان صاحب سے مل لیے۔

کراچی میں پی پی پی کیلئے پچھلے چند سال میں اگر کوئی سیٹ اپ پریشانی کا باعث ہے تو وہ ایک وقت میں اس کا مضبوط گڑھ لیاری ہے جہاں سے شائد اب بھٹو خاندان کے افراد باآسانی الیکشن نا جیت سکیں۔ اس کے سوا پی پی پی کیلئے پی ٹی آئی کی ریلی اور جلسے کو روکنے کی کوئی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آئی۔ البتہ ملکی سطح پر کراچی کا پیغام بڑا تاثر قائم کرتا ہے۔ جو کچھ پچھلے دو تین دنوں میں ہوا اس سے یہ پیغام واضح طور پر گیا ہےکہ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کمی نہیں آ رہی اور اگر اتنی ہی اجازت پنجاب میں مل جاتی تو وہ تمام تاثر زائل ہو جاتا ہے جو’سرکاری‘ طور پر میڈیا میں دیا جا رہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے لوگ سڑکوں پر نہیں آ رہے۔ اس لحاظ سے سہیل آفریدی کے دورے کا اصل مقصدضرور حاصل ہوگیا اور سندھ میں جہاں تحریک انصاف تنظیمی طور پر خاصی کمزور ہے اس دورے نےاس کے کارکنوں کو محترک کر دیا۔

دوسری طرف پی پی پی کیلئے سیاست میں آج بھی ایک بڑا سیاسی چیلنج ’پنجاب‘ ہے جہاں مسلم لیگ (ن) اس کو اسپیس دینے پر تیار نہیں اور خود صدر آصف زرداری برسوں سے اس مشن پرہیں کہ مسلم لیگ (ن) کو سیاسی طور پر کس طرح زیر کیا جائے۔ ویسے تو 8فروری کے بعدایک خاص حد تک ووٹر کا رحجان تحریک انصاف کی طرف گیا مگر اس سے پہلے پی پی پی اور مسلم لیگ (ق) میں ایک ورکنگ ریلیشن شپ پر اتفاق ہو چکا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی کو ایک ’فون کال‘ پر گاڑی کا رخ بنی گالہ کی طرف موڑنا پڑ گیا۔

’ونڈر بوائے‘ کی تھیوری کا تو پتا نہیں البتہ میں نے ذاتی طور پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سوال و جواب کی حد تک ،چاہے معاملہ تحریک طالبان کے حوالے سے ہو یا صوبہ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے حوالے سے، خاصہ کلیئر پایا۔ وہ وزیر اعظم سے بات چیت کو بھی تیار ہیں اور ٹی ٹی پی یا داعش کو دہشت گرد تنظیم کہنے کے حوالے سے بھی بہت واضح رائے رکھتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ انہوں نے اپنے دورہ کراچی کے دوران کراچی پریس کلب کی جمہوری تاریخ سن کر تقریباً وہی بات کی جوایک زمانے میں نامور شاعر فیض احمد فیضؔ نے کی تھی۔ جنرل ضیاء کے دور میں ’’جو کام پریس کا تھا وہ کراچی پریس کلب نے ادا کیا ۔‘‘ آفریدی نے کہا ، ’’مجھے اس پریس کلب کی تاریخ سن کر واقعی بہت خوشی ہوئی کہ یہاںنو منتخب باڈی حلف نہیں لیتی صرف حلف پر عمل کرتی ہے۔ کاش اس ملک میں بھی ایسی ہی جمہوریت آ جائے۔‘‘

تازہ ترین