• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ممالک کے اندرونی امور میں بیرونی مداخلت اور اسکے بار بار کے ایک جیسے نتائج روز روشن کی مانند سب پر عیاں ہیں اب اس مداخلت کی جس مرضی نعرے کے بیوٹی پارلر سے سج دھج کرالی جائے، حقیقت نہیں بدلے گی ۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی آخری کتاب ’’ری کنسیلیشن اسلام ، ڈیموکریسی اینڈدی ویسٹ‘‘ کے عنوان سے تحریر کی تھی ۔ اس میں انہوں نے جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر فواد عجمی کے معروف دانشور ہنٹنگ ٹن کے’’تہذیبوں کے تصادم ‘‘کے تصورات پر پروفیسر فواد عجمی کے محاکمہ، جو فارن افیئرز میں شائع ہوا تھا ،کو بیان کرتی ہیں کہ پروفیسر فواد عجمی نے اپنے تصورات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تہذیبوں کا تصادم ‘چند مخصوص علامتوں کے اثر کے تحت وجود میں آیا جن کا جائزہ زیادہ تشکیک کے ساتھ لیا جانا چاہئے تھا ۔ ریاستیں اپنے ذاتی مفاد کے تحت عمل کرتی ہیں لیکن ان ریاستوں کے رہنما اکثر اس کے متضاد جواز پیش کرتے ہیں ۔ خلیج فارس کی جنگ کی مثال پیش کرتے ہیں کہ جو انکے خیال میں تہذیبی بنیاد پر ہونے والی چپقلش کی کوئی عمدہ مثال نہیں ۔

ویسے تو اقوام متحدہ کے قیام کے بعد ایسے متعدد واقعات کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے کہ جس میں پروفیسر فواد عجمی کی اس رائے کو حرف بحرف درست دیکھا جا سکتا ہے کہ جس میں ریاستیں اپنے مفاد کے حصول کیلئے جھوٹا بیانیہ گھڑ کر پیش کر دیتی ہیں مگر وینزویلا میں جو کچھ ہوا وہ اس سے بھی ایک قدم آگے کی بات ہے۔ اب ایران میںمداخلت کی بات جس دھڑلے سے کی جا رہی ہے اسکے بعد رہی سہی عالمی اخلاقیات کا جو’’ درس ‘‘ دیا جاتا تھا، اس کا بھی تکلف بر طرف کر دیا گیا ہے ۔ ویسے اس تکلف کی برطرفی سے اور کھل کر یہ کہنے سے کہ ’موساد کے ايجنٹوں کا شکریہ ‘نے ایران میں موجودہ حکومت کے حامی طبقات کو بہت متحرک کر دیا ہے ۔ کیونکہ موجودہ صورتحال میں اگر کوئی تبدیلی وقوع پذیر ہوئی تو اسکے کیا اثرات مرتب ہونگے کوئی ڈھکا چھپا معاملہ نہیں اور ایرانی اس صیہونیت سے اور اس کے اہداف سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ ان حالات میں خانہ فرہنگ ایران لاہورکے ڈائریکٹر جنرل آقائے مسعودی میری دعوت پر میرے غریب خانے پر تشریف لائے ، دیگر کچھ ایرانی دوستوں اور عرب ملک کے اعلیٰ سفارت کاروں جن میں سے ایک پاکستان میں متعين عرب ملک کے سابق سفیر سے اس صورت حال پر گفتگو ہوئی ۔ مجھے محسوس ہوا کہ کچھ عرصہ قبل ایران اسرائیل جنگ کے بعد ایران نے آئندہ حالات کیلئے خود کو بہت حد تک تیاری کی حالت میں رکھا ہوا تھا ۔ان کو اچھی طرح سے یاد ہے کہ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی صدر ٹرمپ نےایرانیوں سے تہران خالی کرنے کی دھمکی آميز گفتگو کی تھی ۔

ایران نے اس دوران شط العرب میں اپنی فوجی تیاریوں کو بہت بڑھا دیا اور اپنے دفاعی آلات میزائل وغیرہ کو ممکن حد تک امریکی اثاثہ جات کے پاس لے گئے تا کہ فاصلہ کم سے کم رہ جائے اور وقت بھی بس تھوڑا ہی درکار ہو ۔ اب ایسا ہو پاتا ہے یا نہیں لیکن ایرانی بہت حد تک پر اعتماد ہیں کہ اگر امریکہ ان پر براہ راست بھی حملہ آورہو گیا تو وہ جواب ضرور دینگے۔پھر انکے سنجیدہ افراد میں یہ گفتگو بھی جاری ہے کہ ایسی فوجی مداخلت سے سوائے جہاں پر حملہ کیا جائے اس ملک کی تباہی اور خانہ جنگی کے اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ۔ جب سوویت یونین نے ظاہر شاہ کی حکومت سردار داؤد کے ہاتھوں برطرف کروائی پھر نور ترکئی اور جب حفیظ امین سے بھی کام نہ چلا تو حفیظ امین کو 27 دسمبر کو قتل کرا کے اس دن ہی افغانستان میں داخل ہو گئے اور اس دن سے آج تک بد امنی نے افغان قوم کا پیچھا نہیں چھوڑا ۔ عراق کی مثال سب کے سامنے ہے ، پھر ليبيا ، شام وغیرہ سب کچھ سامنے کی بات ہے کہ امن تہ و بالا ہی رہا ۔ اسلئے اگر ایران میں حکومت کو الٹا بھی دیا جاتا ہے تو سوائے خانہ جنگی کے اور کچھ ہاتھ نہیں آئیگا ۔ پاکستان اور ترکی کیلئے بھی سخت خطرے کا الارم بج جائیگا ، اگر صیہونی نواز حکومت ایران میں اپنی جگہ بنا لیتی ہے ۔ کیونکہ ان دونوں ممالک کی سرحدیں ایران سے جہاں سے ملتی ہیں وہاں پر فرقہ واریت کے نام پر فالٹ لائنز موجود ہیں اور انکو ابھارا جائیگا جوپاکستان و ترکی کیلئے انتہائی خطر ناک صورتحال ثابت ہو سکتی ہے ۔

عرب ممالک بھی اس صورت حال کو سمجھ اور اچھی طرح سے جان رہے ہیں کہ اگر صیہونیت نے ایران کو گرا لیا تو ایسی صورتحال میں عرب ممالک کےپاس آپشنز بہت محدود ہو جائیں گےبلکہ ادھر یہ خیال بھی پنپ رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرکے در حقیقت اس کی سپرميسی کو بڑھنے دیا گیا ہے اور اگر اس نوعیت کی کوئی تبدیلی رونما ہوتی ہے تو پھر تو بس خطے میں اسرائیل ہی اسرائیل ہوگا ۔ دعوے تو یہاں تک کئے جا رہے ہیں کہ کچھ عرب ممالک صرف ایران کی موجودہ حکومت کی خاموش حمایت ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ’’عملی اقدامات‘‘ بھی کر رہے ہیں کہ اس وقت خطرہ مشترکہ دشمن سے ہے ۔

تازہ ترین