پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ اوپن اسکائی پالیسی کی وجہ سے قومی ایئرلائن کو تاریخی نقصان ہوا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شازیہ مری نے کہا کہ پرائیویٹائزیشن پر بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے، پی پی نے نجکاری کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق بار بار نجکاری کا نعرہ لگانے کے بجائے نجی شعبے کی شراکت کے ساتھ چلانے کا منصوبہ بنائے، حکومت اہم ادارے کی نجکاری کرے اور اثاثوں اور ملازمین کا تحفظ نہ ہو، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ماڈل ہونا چاہیے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کامیابی سے سندھ میں چل رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے نجکاری کے عمل کو سنجیدگی سے دیکھا ہے، قومی ایئرلائن کی نجکاری کرتے ہوئے ملازمین اور اثاثوں کا خیال رکھنا چاہیے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایک ماڈل ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ خزانہ نے کئی بار تسلیم کیا کہ سندھ کا پبلک پرائیویٹ ماڈل اچھا ہے اور اختیار کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم کابینہ کو ہدایت کریں کہ جو ادارے حکومت نہیں چلا سکتی انہیں شراکت سے چلانا چاہیے۔
شازیہ مری کا کہنا تھا کہ غلام سرور کے بیان سے گزشتہ 4 سال میں قومی ایئرلائن کو 600 ملین ڈالر نقصان ہوا، غلام سرور کی وجہ سے نقصان کی پوچھ گچھ ہونی چاہیے، اس بیان سے پائلٹس سمیت عملے کی نوکریاں چھن گئیں، قومی ایئرلائن کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب کرنا چاہیے، قومی ایئرلائن کو نقصان پہنچا کر نجکاری کی راہ ہموار کی گئی، قومی ایئرلائن کے نقصانات پر تحقیقات کریں، نجکاری حل نہیں۔
شازیہ مری نے کہا کہ قومی ایئرلائن کی عمارتیں اربوں کی ہیں، دس ارب روپے میں پی آئی اے کا سودا ہوا، 135 ارب کی فروخت بتائی گی، قومی ایئرلائن کے منافع کی نجکاری جبکہ نقصان حکومت کو دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں درختوں کو کاٹا جا رہا ہے، درختوں کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی آ رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے وجہ سے سیلاب آئے، موسمیاتی تبدیلی کے نقصان کا ازالہ پاکستان کر رہا ہے۔
رہنما پی پی نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی ہو رہی ہے، ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سب دیکھ رہے ہیں، پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، 30 ہزار کے قریب درخت کاٹے گئے ہیں، تمام پارلیمنٹیرین کو تحفظات تھے، پی پی نے درختوں کی کٹائی کا معاملہ ایوان میں اٹھایا ہے۔
شازیہ مری کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ نے ایسے جواب دیے کہ نئے سوال پیدا ہو گئے، درختوں کی کٹائی ایسا عمل ہے جو شفافیت پر سوال اٹھا رہا ہے، ہمیں بتایا جائے کہ کتنے درخت لگائے گئے، ہمیں درخت کٹتے نظر آرہے ہیں مگر لگنے والے درخت نظر نہیں آرہے، اگر شفافیت ہے وہ شئیر کریں اور بتائیں، ہر بات پر پریس کانفرنس ہو جاتی ہے، کیوں درختوں کی کٹائی پر بات نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، سانگھڑ میں 20 ، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، آپ جو ناجائز بلنگ کر رہے ہیں وہ کون سا قانونی ہے۔
شازیہ مری نے کہا کہ سردی میں بجلی کی صورتحال یہ ہے گرمیوں میں کیا صورتحال ہوگی، گرمیوں میں آپ لوگوں کی چینخیں نکال دیں گے، گیس کی بھی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، 70 فیصد گیس سندھ سے پیدا ہو رہی ہے، بلوچستان کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے اب سندھ کا یہ حال کرنے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کیوں امپورٹڈ گیس استعمال کرے؟ سب سے پہلا حق اس علاقے کے رہنے والے لوگوں کا ہے جہاں سے گیس نکل رہی ہے، کراچی میں بھی گیس نہیں ہے، دیہی علاقوں کا آپ سوچ سکتے ہیں کیا صورتحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے مطالبہ ہے کہ وہ نوٹس لیں، حکومت نے وعدہ کیا تھا قانون سازی کے لیے اعتماد میں لیا جائے گا۔ صدر مملکت کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ہونا کریمنل اقدام ہے۔ آرڈیننس سے متعلق ہم سے مشورہ کیا جائے، وفاقی وزیرقانون کو اپنے بارے میں خود سوچنا چاہیے، دو دو وزیر وزارتیں سنبھال رہے ہیں، نہیں بتا رہے کہ مسئلہ کیا ہے؟
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ کسی قانون سازی میں اپوزیشن اپنا کام نہیں کر رہی، اپوزیشن صرف شور شرابا کرنے میں مصروف ہے۔