• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رحیم یار خان: انتہائی نایاب طبی کیس، 5 سالہ بچے کے سینے سے نامکمل بچہ برآمد

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

رحیم یار خان میں ایک نہایت غیر معمولی طبی واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 5 سالہ بچے کے سینے سے نامکمل بچہ برآمد ہوا ہے۔

شیخ زاید اسپتال کے ترجمان کے مطابق ماہر ڈاکٹروں نے سرجری کے بعد پانچ سالہ بچے کے سینے سے ایک نامکمل بچے کو نکال لیا ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق یہ پیچیدہ سرجری سینے کے امراض کے ماہر ڈاکٹر سلطان محمود اویسی کی قیادت میں ماہر سرجنز کی ٹیم نے انجام دی۔

تھوراسک سرجن ڈاکٹر سلطان محمود اویسی کے مطابق نکالے گئے قبل از وقت بچے کو فیٹس اِن فیٹو (Fetus in Fetu) کہتے ہیں، جو ایک انتہائی نایاب حالت ہے، جس میں جڑواں بچوں میں سے ایک نامکمل بچہ اپنے بھائی یا بہن کے جسم کے اندر نشوونما پاتا رہتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق فیٹس اِن فیٹو کے اس کیس میں یہ فیٹس 5 سالہ بچے کے دل کی مرکزی شریان کے قریب موجود تھا۔ نامکمل بچہ قبل از وقت تھا اور زندہ رہنے کے قابل نہیں تھا۔

شیخ زید ہسپتال کے ترجمان نے جیو نیوز کو بتایا کہ آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے اور سرجری کے بعد بچے کی حالت تسلی بخش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مریض کو بہترین ممکنہ طبی امداد فراہم کی جا رہی ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سلطان نے بتایا کہ اس طرح کے کیسز عام طور پر پیٹ میں پائے جاتے ہیں، یہ کیس خاص طور پر نایاب ہے کیونکہ فیٹس بچے کے سینے میں موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ فیٹس کے کئی اعضاء بن چکے تھے لیکن پانچ سال تک اس کی تشخیص نہیں ہوسکی تھی۔

سرجن کے مطابق پانچ سالہ بچے کو صرف 18 دن کی عمر سے ہی سانس لینے میں دشواری، سینے میں انفیکشن، کھانسی اور بار بار بخار کی شکایت رہتی تھی۔ کئی سالوں میں متعدد ڈاکٹروں سے رجوع کرنے کے باوجود مرض کی درست تشخیص نہیں ہوسکی تھی، حال ہی میں سی ٹی اسکین کرائے جانے کے بعد ہی حالت کی درست تشخیص ہوئی۔

ڈاکٹر سلطان نے مزید کہا کہ فیٹس کی ریڑھ کی ہڈی، بال، دانت اور جسم کے دیگر حصے تھے، مگر سر موجود نہیں تھا، جبکہ اس کا وزن تقریباً 1 کلو گرام تھا۔

قومی خبریں سے مزید