پچھلے سال آم کی سب سے خوبصورت قسم چونسہ اور الفا سانو قسم کے باغ کو اجاڑ کر، وہاں ایک رہائشی کالونی بنانے کے منصوبے پر کہیں عمل اور کہیں احتجاج ہوا، ایسے مظاہرے ہماری زندگی میں عام ہیں۔ اب دیکھیں نا سینکڑوں ایکڑ زمین پر کھڑے درختوں کو کچے شہتوت کی فصل کہہ کر زمین ہی سے فنا کر دیا گیا کہ یہ الرجی پیدا کرتی ہے، جب یہ شہر بسایا جارہا تھا امریکہ سے یہ ورائٹی لاکر موجود درختوں کے درمیان ڈال دی گئی تھی کسی کو خیال نہیں آیا کہ یہ کچا شہوت کے پودے اس قدر تکلیف دہ الرجی پیدا کرتے ہیں کہ نسلوں کی نسلیں نہ صرف بیمار رہی ہیں بلکہ اسکے پولن گرین ہوا میں شامل ہوکر، گھر گھر زکام، کھانسی اور ذہنی بیماریاں پھیلا رہے ہیں۔ پاکستان کے کسی بے عقل کے ذہن میں یہ آیا کہ اس سارے علاقے میں ہزاروں ایکڑ زمین کو بچالیا جائے اور پھر شکرپڑیاں کے علاقے میں ہر طرف ایسا ٹریکٹر چلایا گیا کہ سب درختوں کا جڑوں سمیت صفایا کر دیا گیا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا یہ آنکھوں کو ویسا سرسبز منظر دیکھنے کو کب ملے گا؟ پوری وادی کو اجاڑ بناکر، کہنے کو قوم کو ایک بڑی موذی بیماری اور الرجی سے نجات دیدی گئی۔ ملتان کی تناور فصل کو کاٹ کر یہی کہا گیا تھا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جنکا حکم چلتا تھا۔ انکے بنگلے بنے، فام ہاؤس بنے۔ اور سب چند سالوں کے اندر ان جنگلات کا حوالہ، تاریخ کی کتابوں میں پڑھیں گے۔ اسلام آباد جب آباد کرنا شرو ع کیا گیا تو سارے سفارت خانوں اور امیر کبیر لوگوں کو سات روپے گز زمین با آسانی مل جاتی تھی۔ یہیں پہ وہ 1948ء والا فارمولا استعمال کیا گیا۔ بڑے بڑے فارموں اور کئی منزلہ کوٹھیوں کا سلسلہ بنتا گیا۔ جو اب تک جاری ہے۔ اپنی ضرورت کے درخت محفوظ کئے گئے۔ بارہ کہو سے سنگ جانی تک آبادیاں اور کولو نیاں۔ بنتی چلی گئیں۔ یہ کہانی صرف ایک شہر یا علاقے تک محدود نہیں۔ ہم نے تو سمندر کو بھی پیچھے دھکیل دیا۔ اب تک یہ کاروبار جاری ہے۔ اسلام آباد کا شمار دس بڑے آباد شہروں میں ہوتا ہے۔ جہاں اب تک باقاعدہ نہ ہی لوکل گورنمنٹ ہے نہ اور کوئی قانون، انجام یہ آخری نہیں کہ یہ کچے شہتوت کہیں نہ کہیں پھر نکل آئیں گے اور وہ شہر جو اپنے جنگلوں، آبشاروں اور پہاڑیوں کے باعث، دنیا بھر میں اپنی یکتائی رکھتا تھا، وہ مٹادیے گئے۔، مت جاؤ اُدھر، صدر صاحب کا گھر ہے، مت جاؤ اُدھر، وزیراعظم صاحب اور پھر عدالتیں، خاص طور پر اڈیالہ جیل نے شہرت پائی۔ شروع شروع میں اسلام آباد میں شیخوں کے ملک سے آکر مسکین آفسروں نے ان سے سیکھا کہ ایک کے دس کیسے بنائے جاسکتے ہیں۔ اب یار لوگوں کو پتہ چلا کہ کہوٹہ ہو کہ واہ کہ ٹیکسیلا، یہ سارے علاقے نقاب پوش ہو جائیں گے، گندھارا میوزیم اور ٹیکسیلا کے سارے علاقے نقاب پوش ہو جائیں گے۔ گندھارا میوزیم اور ٹیکسلا کے سارے علاقے،پرانی یونیورسٹی کی منزلیں اور محرابیں۔ خدا کرے ہماری سرکار کی کارکردگی میں نہ پوشیدہ ہوجائے ورنہ ہمیں موہن جوداڑو اور تخت بائی کی شکل میںکھدائی میں، تاریخ کے چھپے ادوار دکھائی دیں گے۔
1960ء میں اسلام آباد آباد ہونا شروع ہوا اور ہر سیکٹر کو الگ نام دیا گیا، ۔ہر سیکٹر میںالگ ادارہ نہیں بنایا گیا۔ اب بہت پریشر کے بعد اسلام آباد کو عوامی فلاح کی اور لوکل گورنمنٹ کی شکل نظر آئیگی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اجاڑ جگہیں جہاں سے کچے شہتوت کہہ کر زمین میں اجاڑا پھیرا گیا ہے۔ وہاں ایک درخت کو بھی پرورش پانے میں صدیاں لگ جاتی ہیں ،ہمارے سامنے کی بات ہےکہ نتھیا گلی کے جھومر باغات، پہلے تو ایک مسلسل دیوار کی طرح درخت ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے تھے۔ جیسے جیسے آبادی بڑھی۔ اس وقت تک باقاعدہ مری کا نقشہ نہیں تھا۔ جس کا جہاں جی چاہا، مسجد بنالی، ریسٹورنٹ بنالیا اور لائبریری تو دراصل مری کے انچارج نے اپنے شوق سے بنائی تھی۔ ہم نے وہاں بہت مشاعرے اور مذاکرے کروائے اور اب تو نواز شریف، درمیان میں بیٹھے جو چاہتے ہیں وہ کروالیتے ہیں۔مجبوری یہ ہے کہ پنڈی کے بعد اور پورے پنجاب کی جھولی میں مری کا راستہ آسان اور کم خرچ ہے۔ ہر غریب سڑک پے ایک بھٹہ لیکر اور ایک پکوڑا لیکر منہ گرم کرلیتا ہے۔
ان سارے سیاحتی علاقوں میں سوات بھی کم خرچ جگہ تھی کہ روز بسیں چلتی تھیں۔ عام آدمی ڈھابے اور منجی پہ گزر کرلیتا تھا۔ اب تو سعودی عرب سے لیکر حسن ابدال اور مانسہرہ تک کی پرفضا جگہ پہ جانے کے لئے بچے، کتابوں میں ان جگہوں کے نام پڑھ کر ہی خود والدین کو بتادیتے ہیں کہ ہم نے فلاں جگہ سیر کیلئے جانا ہے۔ آج کل تو نواز شریف صاحب روز مریم کو بتاتے ہیں کہ یہاں الیکٹرک ٹرین چلاؤ، فلاں جگہ بچوں کا پارک اور سینما ہاؤس، دنیا بھر میں سیاح، بکنگ کرواکے، باقاعدہ پروگرام مرتب کرتے اور اس سلسلے میں گائیڈ، بہت تجزیہ کار اور اسمارٹ ہوتے ہیں۔
ہمارے ملک میں کسی جگہ جانا ہو تو سب سے پہلے تکیے کا غلاف سونگھنا پڑتا ہے۔ کیوں نہ بابوسر کےعلاقے میں لوگوں نے ایک کمرہ مہمانوں کے لئے رکھا ہوتا ہے گھر کا دودھ ، پراٹھا اور لوکل گائیڈ جو سستا بھی رہتا ہے۔ ان سارے افسانوی علاقوں میں خاندانوں کو سیر کیلئے اسلئے جانا آسان ہے کہ انکا رہن سہن بھی ہماری طرح کا ہے
پہلے تو ہم طے کرلیں کہ آخر یہ پورے پہاڑی علاقے کو گنجا کس نے کیا اور ان لوگوں کو سزا بھی دینی چاہئے ہماری چڑیوں کے گھر اور گھونسلے غائب ہوگئے۔ ہماری چھاؤں اور ہماری زمین پہ کون قابض ہونے والا ہے۔؟ سارے اسلام آبادی اور شور مچائیں۔ ہماری زمین کو آباد کرو۔