ایران پر حملہ ہوگا یا نہیں ہو گا! یہی رٹ ؤچند ہفتوں سے سن رہے ہیں۔ جب "شیطن یاہو" ملک سے فرار ہو گیا، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں سے غیر ضروری عملہ نکال لیا گیا ، خطے میں امریکی مفادات کو محفوظ بنا لیا گیا تو حیران کن طور پر صدر ٹرمپ نے پینترا بدل ڈالا۔ ایرانی حکومت کے مؤقف کی تائید میں کہا کہ ایرانی حکومت مظاہرین کو پھانسی دے رہی ہے نہ ثابت ہوا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو ہلاک کیا۔ دن رات ایران کے خلاف طبلِ جنگ بجایا جا رہا تھا، الزامات کی بوچھاڑ جاری تھی، ہزاروں مظاہرین کی اموات کا واویلا تھا،پھر اچانک اتنا بڑا یوٹرن کیسے اور کیونکر؟ کیا پھر ایران کو ماضی کی طرح دھوکا دیا جا رہا ہے؟
اقتدار سنبھالتے ہی صدر ٹرمپ نے آیت اللّٰہ خامنہ ای سے جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت کے لیے خط لکھا۔ جواباً ایران نے اپریل 2025 سے مذاکرات کے کئی دور مسقط، روم میں کیے۔ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی لیکن بظاہر ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے پسِ پردہ ولایتِ فقہی نظام ختم کرنا مقصود ہے جس کے لیے امریکہ، مغرب اور اسرائیل مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ مذاکرات نتیجہ خیز ہونے کے قریب آئے تو امریکہ نے 22 جون 2025 کو ایران پر بی۔ٹو بمباروں سے حملہ کر دیا ۔ 2015 میں جے سی پی او اے کے تحت امریکہ، فرانس، جرمنی، چین، روس، برطانیہ اور ایران کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام کو پُر امن رکھنے پر بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی اور رعایات کا معاہدہ سر انجام پایا تھا۔ آئی اے ای ائے ہر سال شرائط پر عمل درآمد کرنے پر ایران کو سرٹیفکیٹ جاری کرنا تھا۔ 8تا 10 سال معاہدے کی پابندی پر ایران پر بین الاقوامی پابندیاں ختم کی جانا تھیں۔ شومیٔ قسمت مئی 2018 میں اچانک صدر ٹرمپ نے معاہدے سے دست برداری کا اعلان کر دیا۔ تاہم باقی فریقین معاہدے پر قائم رہے اور یقین دہانی کراتے رہے کہ امریکہ جلد دوبارہ اس معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ یوں 20 سال تک ایران کو معاہدے کی پاسداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتا رہا۔ البتہ جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی ٹھانی تو آئی اے ای ائے نے سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا اور ایران پر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا شبہ ظاہر کر دیا تاکہ حملے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ 12 جون 2025 کو ادارے نے رپورٹ جاری کی اور اگلے روز 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ واضح تھا کہ رپورٹ اسرائیل اور امریکہ کی ایماء پر بنائی گئی تھی ۔ رپورٹ سے پہلے 11 جون کو ہی امریکہ نے عراق اور خلیجی ریاستوں سے اپنے شہری نکال لئے تھے۔ ایران نے بھی میزائلوں سے اسرائیل پر جوابی حملہ کر دیا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ایران کا مؤقف تھا کہ 12جون کی رپورٹ بدنیتی پہ مبنی تھی جبکہ ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے دباؤ پر ایران کے خلاف قرارداد پاس کروائی۔ اس پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے بلا جواز ایران کے پُر امن جوہری منصوبوں کے مقامات پر بمباری پر ادارے کی خاموشی کھلی جانبداری کے مترادف تھی ۔ ایران نے مزید الزام لگایا کہ ادارے کو ایران کی طرف سے فراہم کردہ حساس نوعیت کی ہزاروں دستاویزات کا اسرائیل کے پاس پایا جانا بھی ادارے پر سوالیہ نشان ہے۔ اسرائیل ڈیمونا میں اپنے جوہری پروگرام کو زور و شور سے چلا رہا ہے، جوہری ہتھیار بنا رہا ہے لیکن ادارے نے ایرانی شکایات کے باوجود جان بوجھ کر آج تک اس کا معائنہ کیا نہ اسرائیل کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی۔ تاحال ایران آئی اے ای اے کے ساتھ کسی قسم کے تعاون پر آمادہ نہیں تاوقتیکہ ادارہ باقاعدہ ایک طریقہء کار اور نظم وضع نہ کرے۔ 16/17 جون2025 کو صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر حملے کے اعادے سے ایران کو امریکی حملے کا پیشگی اندازہ ہوگیا۔ اثر زائل کرنے کے واسطے 20 جون کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ دو ہفتے تک ایران سے مذاکرات کے نتیجے میں حملے کا فیصلہ کریں گے لیکن پھر 22جون کو گوآم میں کھڑے بی۔ٹو بمباروں سے ایران پر بھرپور حملہ کر دیا۔ آج پھر، اسی ابلیسی گٹھ جوڑ پر ایران میں حکومت اور ولایتِ فقہی نظام تبدیل کرنے کا جنون سوار ہوا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق مہنگائی کے ہاتھوں شروع ہوئے حقیقی احتجاجات کو امریکہ اور اسرائیل نے موقع پا کر اچک لیا ۔ جبکہ راقمہ کے قیاس میں ان احتجاجات کے شروع کرنے میں وہی ابلیسی گٹھ جوڑ کار فرما تھا وگرنہ کمر توڑ مہنگائی عوام کی کمر توڑ دیتی ہے۔ گھر بار، دو وقت کی روٹی کی تگ و دو چھوڑ کر کوئی کیسے کئی کئی روز خالی پیٹ احتجاج کر سکتا ہے؟ یقیناً مسائل ہیں لیکن ایران میں 60 فیصد لوگ نہ صرف آیت اللّٰہ خامنہ ای کے حامی ہیں بلکہ ان حالات کے زمہ داروں اور حکومتی مجبوریوں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ باقی 40 فیصد میں 20 فیصد غیر جانبدار اور صرف 20 فیصد لبرلز ہیں۔ جس طریقے سے مقدس مقامات کو نذرِ آتش کیا گیا، سرکاری املاک کو تباہ کیا، وہ مہنگائی کے مارے لوگ نہیں بلکہ منہ پر ڈھاٹے باندھے انتشاری ایجنٹ منظم طریقے سے آگ لگا رہے تھے؟ جمہوریت کے جھوتے علمبردار امریکہ اور اسرائیل، رضا شاہ پہلوی جیسے شاہی نظام کے داعی کی حکومت ایران پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ جیسے ہی ایرانیوں کو ادراک ہوا کہ وہ شر پسندوں کے آلۂ کار بن رہے ہیں انہوں نے اپنے گھروں کا راستہ لیا۔ ٹرمپ دھوکہ سے دوبارہ 2025 کی طرح واردات کرے یا نہ کرے، حقیقت یہی ہے کہ ایرانی مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ ضرور ہیں نظامِ حکومت سے نہیں! وہ اسرائیل اور امریکہ کی جھوٹی لچھے دار باتوں میں نہیں آئیں گے! انہوں نے عراق، شام اور لیبیا کا حشر دیکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جو قومیں معاشی مفادات کے عوض اپنے نظریات اور ریاستی خود مختاری کا سودا کرتی ہیں وہ اپنی فکری اساس، اجتماعی وحدت، سالمیت، عزتِ نفس اور فیصلہ سازی کا حق بھی تج دیتی ہیں۔
اُدھر امریکہ اپنی ریفائنریوں کے لیے وینزولا کے بھاری تیل پہ قبضہ کرتا ہے تو کبھی ایران کے بھاری تیل پر نظریں گاڑے ہے لیکن ناکامی اس کے مقدر میں لکھی گئی ہے، سی آئی اے کا جعلی انقلاب ٹھس ہو چکا۔ اسرائیل کے دن گنے جا چکے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ صہیونی اپنے مجبور، لاچار اور ستائے ہوئے تشخص کھو کر اب بین الاقوامی ظالم، جابر، قاتل درندے ثابت ہو چکے ہیں۔ البتہ دنیائے اسلام کو ادراک ہو رہا ہے کہ ہم کچھ بھی کر لیں، الٹے لٹک جائیں یا ان کے قدموں میں بیٹھ جائیں یہ نہیں مانیں گے کہ ان کے غلیظ بد بو دار نظاموں کو مسلمان اور اسلام دونوں سے خطرہ ہے۔ جیسا کہ اقبالؒ فرماتے ہیں: تو کب تک دوسروں کے بال و پر کے نیچے (پناہ لیے) رہے گا، چمن کی فضا میں آزادانہ اُڑنا سیکھ۔
؎تا کجا در تۂ بالِ دگراں می باشی
در ہوائے چمن آزادہ پریندن آموز