واصف علی واصف صوفیانہ سلسلے میں ایک منفرد اور معتبر مقام پر فائض ہیں۔ہمارے ہاں زیادہ تر صوفیا نے شاعری کے ذریعے اظہار کیا اور لوگوں کی اخلاقی اور باطنی رہنمائی کی، واصف علی واصف کا سب سے پہلا منفرد کمال یہ ہے کہ انہوں نے شاعری سے زیادہ لوگوں سے مکالمہ کرنے کو ترجیح دی، سوال و جواب کے نتیجے میں جو نتائج برآمد ہوئے وہ اقوال زریں کی شکل اختیار کر گئے ان اقوال زریں میں آفاقی دانش اور باطنی تطہیر کے ایسےسنہری اصول مضمر ہیں کہ جو فرد بھی ان سے لولگائے گا ہدایت اُس کا مقدر بنے گی۔ واصف علی واصف کے صوفیانہ نظریات میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے تصوف کو ظاہری رسوم تک محدود کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے باطن کی شفافیت ، دل کے نوراور نیت کے خالص پن کو انسان ، مذہب اور تصوف کا اصل جوہر قرار دیا۔ان کی نظر میں مذہبی عقائدکی بجا آوری ہو یا روز مرہ زندگی کے وظائف ، اگر ان میں نیک نیتی اور اخلاص نہ ہو تو عبادتیں اور رویے محض نمائشی عمل اور دکھاوا بن کر رہ جاتے ہیں۔یوں تو ہر صوفی شاعر کے کلام میں ظاہر پرستی کے خلاف بھرپور اظہار موجود ہے مگر واصف علی واصف اسے فکری اور فلسفیانہ سطح پر زیر بحث لا کر انسان کے مقصد حیات کی تشریح کرتے ہیں۔ اُن کے نزدیک ظاہر پرستی ایساروحانی اور فکری مرض ہےجس کا شکار انسان اچھائی اور نیکی کی چادر اوڑھ کر لوگوں اور خود کو وہ کچھ دکھاتاہے جو وہ ہوتا نہیں ۔ جھوٹ ، دھوکہ اور فریب نیکی کےدشمن ہیں۔یہ انسان کو اصل مقصد حیات سے دور کر کے بے وقعت کر دیتے ہیں۔صوفیا انسان کے باطن کو دریا اورسمندر سے تشبیہ دیتے ہیں ، جس میں جیون اور کائنات کے اصل راز پوشیدہ ہیں ۔انسان کی روح خالق سے جو احکامات وصول کرتی ہے اُن تک وجدان کی وساطت سے ہی رسائی ممکن ہے۔اس لئے باطن سے رجوع کرنا بہت ضروری ہے، باطن سے آپ کی علیک سلیک تبھی ممکن ہے جب آپ کے دل کا آئینہ آلائشوں، لالچ اور دکھاوے سے بے نیاز ہو۔’’دین کا حسن باطن میں ہے صرف لباس میں نہیں،،۔واصف علی واصف کے اس ایک قول اورفقرے میں پوری حیات کا لائحہ عمل پوشیدہ ہے۔دراصل وہ اپنے ارد گردظاہری وضع قطع، خوبصورت لباس اور پرہیزگار حلیے والے لوگوں کی توجہ باطن کی کیفیت کی جانب مبذول کراتے ہوئے اس سماجی رویےپر تنقید کرتے ہیں جس میں پاکیزگی کو صرف چند ظاہری رسوم و علامتوںتک محدود کر دیا گیا ہے اور کردار کی سچائی، دیانت اور انسانیت کو ثانوی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ واصف علی واصف ظاہری عبادات کے خلاف نہیں بلکہ وہ محبت ،سچائی، نیت اور خلوص کے بغیر محض رسم کے طور کی جانے والی عبادت کرنے والوں کے تکبر کے خلاف ہیں۔وہ ایسی عبادت کوبے روح اور جسمانی مشقت سمجھتے ہیں جو روحانی بالیدگی ،دلی لطافت اور شعوری بیداری عطا کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔اگر انسان کے باطن میں اجالا ہو اس کا دل صاف ہو تو اس کی گفتگو چہرے اور رویے میں اجلا پن صاف دکھائی دیتا ہے۔تمام صوفیا کی طرح واصف علی واصف کو بھی ظاہر پرستوں سے یہ گلہ ہے کہ وہ خود جھوٹ اور دکھاوے کی زندگی جیتے ہیں لیکن اصل راستے پر چلنے والوں کو جھٹلاتے ہیں کیونکہ ان میں روحانی بصیرت کا فقدان ہوتا ہے، ظاہر پرستی کے اسیر دوسروں کے ظاہر کو دیکھ کر ان کی اچھائی برائی کا اندازہ لگاتے ہیں اور ان پر فتوے صادر کرتے ہیں۔اگر ہم واصف علی واصف کی ظاہریت پرستی کی مخالفت اور باطنیت کی تاکید کو سمیٹنا چاہیں تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ انکے مطابق اگر انسان اپنے باطن کو صاف کر کے اسے روشن کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اس کا ظاہر ازخود سنورنا شروع ہو جاتاہے۔ کیونکہ ظاہری اصلاح باطنی طہارت کے بغیر ممکن نہیں ۔خود کو زبردستی زیادہ دیر کسی صورت میں نہیں ڈھالا جاسکتا ، لیکن جب اندر سے آواز اٹھتی ہے، روشنی ہوتی ہےتو اسے دبانا اور مٹانا ممکن نہیں ہوتا۔ آج جب مذہبی ٹچ زندگی کے ہر شعبے میں در آیا ہے واصف علی واصف کا ظاہری انداز کی بجائے اخلاص ، نیت اور دل کی کیفیت کو انسان کی اصل پہچان کہنا زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگرہم انسان نیک نظر آنے کی بجائے نیک بننے پر توجہ کریں تو یہ دنیا جنت بنائی جاسکتی ہے، صاحبزادہ کاشف محمود اپنے والد کی میراث کو نئی نسل تک پہنچانے اور معاشرتی رہنمائی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔