• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ نوٹی فکیشن صرف محمود خان اچکزئی کے بارے میں نہیں ہے ۔ اچکزئی صاحب کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کا مطلب یہ ہےکہ موجودہ حکومتی بندوبست کو کسی اہم چہرے کی تبدیلی کے بغیر ہی چلانے کی کوشش کی جائیگی ۔ تحریک انصاف کے دوست یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اچکزئی صاحب کا اپوزیشن لیڈر بننا اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی ایک اہم کامیابی ہے کیونکہ انہیں اپوزیشن لیڈر کیلئے قیدی نمبر 804 نے جیل سے نامزد کیا تھا ۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے صاحبان اختیار بند کمروں میں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے تو ہمارا کام آسان کر دیا کیونکہ اگر اپوزیشن لیڈر تحریک انصاف سے آتا تو اُس نے وہی کچھ کرنا تھا جو عمر ایوب خان کیاکرتے تھے ۔ عمر ایوب خان اور حکومت کے درمیان صرف کمیونیکیشن گیپ نہیں بلکہ ایک دوسرے کیلئے سخت ناپسندیدگی پائی جاتی تھی ۔ وجہ یہ تھی کہ عمر ایوب خان مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے والد اور دادا کے سابق ادارے کی سیاست میں مداخلت پر بہت بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے تھے اور یہ تنقید صاحبان اختیار کو اس لئے زیادہ تکلیف دیتی تھی کہ عمر ایوب خان پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کے پوتے ہیں اور ایک سال قبل جنرل ایوب خان کے اسلام آباد والے گھر میں ہی تحریک تحفظ آئین تشکیل دی گئی تھی۔ اس گھر میں محمود خان اچکزئی نے تحریک انصاف والوں کو بار بار سمجھایا تھا کہ آئین کے تحفظ اور بحالی کیلئے آصف زرداری اور نواز شریف سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کا راستہ نکالنا ہوگا ۔ اچکزئی صاحب نے تحریک تحفظ آئین کے پلیٹ فارم سے بار بار گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی بات کی اوریہ بھی کہا کہ نواز شریف ایک بڑے کی حیثیت سے کوئی کردار ادا کریں ۔ اچکزئی صاحب نواز شریف کو اپنا بڑا قرار دیکر عمران خان کے متوالوں کو ناراض کرتے رہے لیکن مسلم لیگ (ن) والوں کو محسوس ہوا کہ اچکزئی صاحب اُن کے ساتھ چلیں نہ چلیں لیکن حکومت کبھی کبھی ان کے ساتھ تھوڑی سی واک تو کر سکتی ہے ۔ نواز شریف اور شہباز شریف پرانی رفاقت کے باعث آج بھی ان کی بہت عزت کرتے ہیں ۔ نواز شریف یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے لندن میں جو سیاسی اتحاد بنایا تھا اُس میں اچکزئی صاحب نہ صرف شامل ہوئے بلکہ بعد میں بھی نواز شریف کے ساتھ کھڑے رہے ۔ 2014ء میں جب عمران خان نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر قبضہ کر کے طویل عرصے تک دھرنا دیا تو اس دھرنے میں خان صاحب اکثر محمود خان اچکزئی کی چادر کا مذاق اڑایا کرتے تھے ۔ وجہ یہ تھی کہ اچکزئی کے بڑے بھائی محمد خان اچکزئی بلوچستان کے گورنر تھے۔ عمران خان کو اپنی اس غلطی کا احساس دس سال بعد ہوا ۔ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔ 2024ء میں عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو اپنا صدارتی امیدوار بنایا۔سب جانتے تھے کہ آصف علی زرداری آسانی سے دوبارہ صدر پاکستان بن جائیں گے لیکن عمران خان نے اچکزئی صاحب کو صدارتی امیدوار بنا کر دراصل اپنی اُس غلطی کا کفارہ ادا کیا جو اُنہوں نے 2014ء میں ڈی چوک میں کی تھی۔ اچکزئی 2014میں بھی آئین کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی آئین کیساتھ کھڑے ہیں۔ اُن کے ساتھ کئی معاملات پر اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن جبر کے ہر دور میں وہ اپنی استطاعت سے زیادہ استقامت دکھاتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد اُنکی سیاسی زندگی کا مشکل ترین امتحان شروع ہو چکا ہے ۔ حکومت کوشش کرےگی کہ انہیں اپوزیشن لیڈر بنا کر8فروری کے احتجاج کی کال کو واپس کرائے ۔ واضح رہے کہ 8فروری کو پہیہ جام ہڑتال کی کال تحریک انصاف نے نہیں بلکہ تحریک تحفظ آئین نے دی ہے ۔ اس کال کو واپس لئے جانے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ جس پارلیمنٹ کے اندر محمود خان اچکزئی کو ایک عہدہ دیا گیا ہے وہ پارلیمنٹ اپنی ساکھ پر 26نہیں بلکہ 27 وار کر چکی ہے ۔ سیاست پارلیمنٹ سے نکل کر اب سڑکوں کی طرف جا رہی ہے۔ تیزی سے بدلتی عالمی صورتحال نے بھی حکومت کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کیلئے مجبور کیا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے تک امریکی صدر ٹرمپ اور ہمارے صاحبانِ اختیار یک جان دو قالب نظر آ رہے تھے ۔ شرم الشیخ میں تو ہم نے ٹرمپ کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے ایسے قلابے ملائے کہ فرط جذبات سے مغلوب ہو کر کئی امریکیوں کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے البتہ ان تعریفوں پر بہت سے پاکستانی خون کے آنسووں سے روئے ۔پھر پاکستان نے دو ایسے فیصلے کئے جنہوں نے ٹرمپ کو باقاعدہ سیاسی جھٹکے دیئے ۔ پہلا فیصلہ پاکستانی فوج کو غزہ بھیجنےسے انکار کا تھا۔ دوسرا فیصلہ ونیزویلا کے صدر کی گرفتاری پر اقوام متحدہ میں مذمتی بیان جاری کرنا تھا ۔ جواب میں امریکا نے پاکستان کو ان 75 ممالک میں شامل کر دیا جنکے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا پراسس کو روک دیا گیا ہے۔ پاکستان کے فیصلہ ساز ایران میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ کردار کا ہر زاویے سے جائزہ لے رہے ہیں ۔ انہیں خدشہ نہیں بلکہ یقین ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اگلا نشانہ پاکستان ہو گا ۔امریکا پاکستان میں زیادہ سیاسی گڑبڑ نہیں چاہتا لیکن اسرائیل کی کوشش ہوگی کہ پاکستان اور امریکا کو آمنے سامنے لایا جائے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ طویل عرصے سے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو محدود کرنے کے راستے تلاش کر رہی ہے ۔ آجکل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کوشش کر رہے ہیں کہ ٹرمپ اور نریندر مودی میں تعلقات کو بہتر بنایا جائے ۔ یہ کوشش کامیاب ہو گئی تو نیتن یاہو اور مودی کی کوشش ہوگی کہ ٹرمپ کو پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف استعمال کیا جائے۔ یہ کوئی راز نہیں رہا کہ ایران میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ادارہ موساد تھا ۔ اسلام آباد کی سازشی فضاؤں میں یہ اندیشہ زیر گردش ہے کہ جس قسم کی سیاسی افراتفری ایران میں پھیلائی گئی ویسی ہی افراتفری پاکستان میں بھی پھیلائی جا سکتی ہے تا کہ پاکستان کی حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ کم از کم ایران کے معاملے پر تو امریکا کا ساتھ دے۔ گزشتہ ہفتے پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری نے ایوان صدر میں غیر ملکی سفارتکاروں اور صحافیوں کے سامنے سندھ کا مقدمہ پیش کیا ۔ یہ صرف سندھ کا نہیں بلکہ 18 ویں ترمیم کے تحفظ کا مقدمہ بھی تھا ۔ یہ پروگرام ختم ہوا تو چائے کے دوران ایک سفارت کار نے مجھے پوچھا کہ کیا پاکستان میں کبھی ویسے مظاہرے ہوئے ہیں جیسے آجکل ایران میں ہو رہے ہیں ؟ میں یہ سوال سُن کر حیران ہوا اور استفسار کیا کہ آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں ؟ سفارتکار نے کہا کہ کیا کبھی پاکستان میں رجیم چینج کیلئے سیاسی مظاہروں سے مدد لی گئی ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا کہ آپ ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب IF I AM ASSASSINATED (اگر مجھے قتل کر دیا گیا) پڑھیں جس میں انہوں نے جیل میں بیٹھ کر لکھا تھا کہ 1977ء میں انکی حکومت کے خلاف جو تحریک چلی اُس کے پیچھے امریکی ڈالر تھے ۔ انہوں نے کتاب میں کچھ ثبوت بھی پیش کئے۔ سفارتکارنے پوچھا کہ یہ کتاب کہاں سے ملے گی ؟ میں نے اُسے اسلام آباد کے ایک بک سٹور کا نام بتا دیا لیکن یہ بھی گوش گزار کر دیا کہ پاکستان میں رجیم چینج اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک سیاسی قیادت اور فوجی قیادت ایک دوسرے سے بدظن نہ ہوں۔ اچکزئی صاحب کا امتحان اب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو حکومت کے دام اُلفت سے بھی بچانا ہے اور اپوزیشن کی تحریک کو غیر ملکی ایجنڈے سے بھی دور رکھنا ہے۔پاکستان کا آئین صرف غیر جمہوری قوتوں کا نہیں کچھ غیر ملکی طاقتوں کا بھی نشانہ ہے جسکی تفصیل اچکزئی صاحب کو ضرور بیان کرنی چاہئے۔

تازہ ترین