اسپتال یا صحت کے دیگر ادارے انسانی زندگی کی حفاظت کے بنیادی مراکز ہیں، جب کہ اِن مراکز میں انفیکشن کنٹرول کا نظام وہ بنیاد ہے، جس پر مریضوں کی صحت، علاج کی کام یابی اور اسپتال کی مجموعی کارکردگی کا انحصار ہوتا ہے۔ اسپتال میں صفائی محض ظاہری ترتیب نہیں، بلکہ ایک سائنسی، منظّم اور ذمّے دارانہ عمل ہے، جس کا مقصد جراثیم، وائرس، بیکٹیریا اور فنگس کا خاتمہ ہے تاکہ علاج کے دَوران مریض ایسی بیماریوں کا شکار نہ ہوں، جو اُنہیں اسپتال سے لاحق ہوں۔
اِن بیماریوں کو عالمی سطح پر’’اسپتال سے حاصل شدہ جراثیم‘‘(Health Care Associated Infections / HCAIs) کہا جاتا ہے اور یہ وہ انفیکشنز ہیں، جو مریض کو اسپتال میں داخل ہونے کے بعد متاثر کرتے ہیں، نہ کہ وہ، جو وہ پہلے سے ساتھ لاتا ہے۔
اِسی پس منظر میں کچھ رہنما اصول ہیں، جو عملی طور پر اسپتالوں میں صفائی، جراثیم کُشی، فضلے کو تلف کرنے کے انتظام، اسپِل مینجمنٹ، Personal Protective Equipment / PPE) کے درست استعمال کی تیکنیک اور روزانہ، ہفتہ وار یا ماہانہ ایس او پیز کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔
(1) اسپتال میں صفائی کی اہمیت اور عملے کا کردار: اسپتال میں صفائی، محض صفائی نہیں، یہ علاج کا بنیادی حصّہ ہے۔ مریض ایسے ماحول میں رہتے ہیں، جہاں جراثیم اُن کی کم زور قوّتِ مدافعت پر آسانی سے حملہ کر سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسپتال میں صفائی کے عملے کا کردار نہایت اہم ہے۔ اُنہیں صرف جھاڑو پونچھا نہیں کرنا بلکہ مکمل انفیکشن کنٹرول نظام، عملی سطح پر نافذ کرنا ہوتا ہے۔ بیڈ، میز، دروازوں کے ہینڈلز، بیڈ ریلز، الیکٹرانک آلات اور مریض کی ذاتی اشیاء، یہ تمام مقامات جراثیم کے لیے حسّاس ہیں اور اِن کی باقاعدہ صفائی، اسپتال سے لاحق ہونے والے جراثیم(HCAI) کو کم کرتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اسپتال میں صفائی، صحت کے نظام کا ایک مضبوط ستون ہے۔ ایک اچھی تربیت رکھنے والا صفائی کا عملہ، اسپتال پر جراثیم کا بوجھ نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے، جب کہ ناقص صفائی انفیکشن کو کئی گُنا بڑھا سکتی ہے۔ اِسی لیے عملے کو نہ صرف صفائی بلکہ جراثیم کُشی، فضلے کو ٹھکانے لگانے کے انتظام، پی پی ای کے استعمال اور اسپِل مینجمینٹ کی جدید تیکنیکس میں مکمل مہارت ہونی چاہیے۔
(2)جراثیم کا پھیلاؤ اور HCAI: اسپتال میں جراثیم ہر سطح پر موجود ہوتے ہیں۔ بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور دیگر مائیکرو آرگنزم مریضوں، طبّی آلات اور عملے کے ہاتھوں کے ذریعے پھیلتے ہیں۔’’ High-Touch surfaces‘‘ اِس پھیلاؤ کے سب سے بڑے مراکز اور ذرائع ہیں، کیوں کہ اُنہیں دن بَھر درجنوں بار چُھوا جاتا ہے۔
جراثیم پھیلنے کے بنیادی ذرائع میں براہِ راست رابطہ، آلودہ اشیاء، اسپِل اور جسمانی رطوبتیں یعنی خون، پیشاب، فضلہ، بلغم، پیپ، تھوک، جنسی رطوبتیں وغیرہ شامل ہیں۔ اگر عملہ ہاتھ دھوئے بغیر مریض کے بیڈ یا کسی اور جگہ کو چُھوتا ہے، تو جراثیم چند سیکنڈز میں دوسرے مریض تک منتقل ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات اسپتال سے لاحق ہونے والے جراثیم (HCAI) کے خطرات بڑھاتے ہیں، جس کے نتیجے میں علاج مزید پیچیدہ، منہگا اور طویل ہو جاتا ہے اور بعض مرتبہ یہ مریض کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔
(3)معیاری احتیاطیں اور ذاتی حفاظتی تدابیر: اسٹینڈرڈ پریکاشنز وہ عالمی رہنما اُصول ہیں، جن پر عمل ہر اسپتال کے لیے لازمی ہے۔ یہ اصول ہر مریض اور ہر خون یا جسمانی رطوبت کو ممکنہ انفیکشن کا ذریعہ سمجھ کر عمل کرنے پر زور دیتے ہیں۔
جیسے، ہاتھوں کی صفائی: ہاتھ دھونا، HCAI سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ مریض کے رابطے سے پہلے اور بعد میں، جسمانی رطوبت کے اخراج کے بعد، دستانے پہننے یا اُتارنے کے بعد اور آلودہ سطحیں چُھونے کے بعد ڈبلیو ایچ او کی گائیڈ لائنز کے مطابق ہاتھ دھونا ضروری ہے۔
نظامِ تنفس کی حفاظت: کھانسی اور چھینک کے دَوران مناسب طریقے سے منہ اور ناک ڈھانپنا، ٹشو فوراً ضائع کرنا اور ہاتھ دھونا ضروری ہیں۔ نیز، حسّاس وارڈز میں ماسک پہننا لازمی ہے۔ پی پی ای کا درست استعمال: اِس بات کا خیال رکھنا ہے کہ پی پی ای استعمال کرنے کے اصول، یعنی ہاتھ دھونے کے بعد گاؤن پہننے، ماسک لگانے، چشمہ پہننے، دستانے پہننے اور اُتارنے، ہاتھ دھونے، چشمہ اُتارنے، گاؤن ہٹانے، ماسک اُتارنے اور آخر میں ہاتھ دوبارہ دھونے کے مراحل عالمی اصولوں پر مبنی ہیں۔ یہ ترتیب انفیکشن سے زیادہ سے زیادہ حفاظت فراہم کرتی ہے۔
(4)ماحولیاتی صفائی اور جراثیم کُشی: ماحولیاتی صفائی میں مختلف مقامات سے دھول، خون، رطوبت یا آلودگی ہٹانے کے بعد جراثیم کُشی شامل ہے۔ یہ عمل طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوتا ہے اور High-Touch Surfaces پر خصوصی توجّہ دی جاتی ہے۔ اِس ضمن میں استعمال ہونے والے محلول درست تناسب سے تیار کرنا ضروری ہیں تاکہ جراثیم مؤثر طریقے سے ختم ہو سکیں۔
(5)خون اور جسمانی رطوبتوں کی صفائی: مریض کے خون اور دیگر رطوبتوں کے رساؤ سے انفیکشن پھیلنے کا فوری خطرہ ہے، اس لیے اس کی صفائی کے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا لازمی ہے۔ اسپتال کا عملہ پہلے پی پی ای پہنتا ہے، پھر متعلقہ وارڈ یا حصّے کو محفوظ کرتا ہے۔
آلودہ رطوبت، جذب کرنے والے مواد میں جمع کرتا ہے، اس جگہ پر مؤثر جراثیم کُش محلول لگاتا ہے اور پھر اُسے مناسب وقت تک چھوڑ دیتا ہے۔ بعدازاں، رطوبت اور نشانات صاف کر کے فضلہ ایس او پیز کے مطابق تلف کیا جاتا ہے۔ آخر میں دستانے اُتار کر ہاتھ دھونا ضروری ہیں۔
(6)اسپتال کا فضلہ تلف کرنے کا انتظام: مضر(Infected) اور غیر مضر(Non-Infected) فضلے کی علیٰحدگی اسپتال سے لاحق ہونے والے جراثیم کنٹرول کا بنیادی حصّہ ہے۔ خون آلود مواد، Sharps، کیمیکلز اور آلودہ لیبارٹری مواد، مضر فضلے میں شمار ہوتے ہیں، جب کہ خوراک اور غیر آلودہ پلاسٹک، غیر مضر فضلے میں آتے ہیں۔ Sharps ہمیشہ سخت کنٹینر میں ڈالے جاتے ہیں، مضر فضلہ سُرخ یا پیلے تھیلوں میں رکھا جاتا ہے اور غیر مضر فضلہ عام کنٹینر میں جمع ہوتا ہے۔ فضلہ منتقل کرتے وقت پی پی ای پہننا لازمی ہے اور مضر فضلے کو ہمیشہ محفوظ طریقے سے تلف کیا جاتا ہے۔
(7) جراثیم کُش محلولوں کی تیاری: جراثیم کُش محلول تیار کرتے وقت تناسب کی درستی بہت ضروری ہے کہ بہت زیادہ طاقت نقصان دہ اور کم طاقت غیر مؤثر ہوتی ہے۔ 0.5فی صد کلورین محلول بنانے کے لیے1 لیٹر پانی میں14.3 گرام کیلشیم ہائپوکلورائٹ شامل کیا جاتا ہے۔محلول کی تاریخ، طاقت اور تازگی چیک کی جاتی ہے اور صرف تربیت یافتہ عملہ اسے تیار کرتا ہے۔
(1) یومیہ بنیاد پر کیے جانے والے ضروری اقدامات: روزانہ کی صفائی اور جراثیم کُشی کے لیے عملے کو سب سے پہلے مریض کے کمروں کی باقاعدہ صفائی کرنی ہوتی ہے، جس میں بستر، فرش، کرسی، ٹیبل اور دروازوں کی صفائی شامل ہے۔ اس کے بعد High-Touch Surfaces جیسے بیڈ کی ریلنگ، دروازوں کے ہینڈلز، بجلی کے سوئچز، کھانے کی ٹرے اور مریض کے ذاتی استعمال کی اشیاء، جراثیم کُش محلول سے اچھی طرح صاف کی جاتی ہیں۔
عملے کو ہر صفائی کے عمل سے پہلے اور بعد، نیز جسمانی رطوبت کے کسی بھی ممکنہ اخراج کے بعد اپنے ہاتھ ضرور دھونے چاہئیں۔ صفائی کے دوران پی پی ای کا درست استعمال بھی لازمی ہے۔ خون یا کسی بھی جسمانی رطوبت کے اخراج کی صُورت میں عملہ فوری طور پر علاقے کو محفوظ کرتا ہے، گندے مواد کو مناسب طریقے سے ختم کرتا ہے اور جراثیم کُش محلول استعمال کرتا ہے۔
اسپتال میں پیدا ہونے والے ہر طرح کے فضلے کو اس کی نوعیت کے مطابق علیٰحدہ کیا جاتا ہے، Sharps کو سخت کنٹینر میں ڈالا جاتا ہے، مضر فضلہ مخصوص رنگ کے تھیلوں میں اور غیر مضر فضلہ عام ڈبّے میں جمع کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عملہ روزانہ استعمال کے لیے جراثیم کُش محلول تیار کرتے وقت اس کی طاقت، مقدار اور درست تناسب کا خاص خیال رکھتا ہے۔
(2)ہفتہ وار کیے جانے والے ضروری اقدامات: ہفتہ وارایس او پیز کے تحت عملے کو فرش، کمروں اور وارڈز کی گہرائی سے صفائی کرنی ہوتی ہے تاکہ وہ گرد اور جراثیم سے مکمل طور پر پاک رہیں۔ اسپتال میں موجود تمام الیکٹرانک آلات، جیسے کمپیوٹر، مانیٹر اور بعض طبّی مشینز کی بیرونی سطح بھی جراثیم کُش محلول سے صاف کی جاتی ہے تاکہ ان پر جراثیم کے جمع ہونے کا امکان کم ہو۔ ہفتہ وار شیڈول میں High-Touch Surfaces کی اضافی اور خصوصی جراثیم کُشی بھی شامل ہے تاکہ ان پر موجود خطرناک جراثیم مکمل طور پر ختم ہوں۔
عملے کے استعمال میں موجود پی پی ای کا معیار بھی ہر ہفتے جانچا جاتا ہے تاکہ ان کے حفاظتی ساز و سامان میں کوئی کمی نہ رہے۔ اسی طرح Sharps اور بائیو ہیزرڈ کنٹینرز کا معائنہ کیا جاتا ہے اور اگر وہ بَھر چُکے ہوں، تو اُنہیں فوری تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
ہفتہ وار ایس او پیز کا ایک لازمی حصّہ یہ بھی ہے کہ جراثیم کُش محلول کی طاقت اور تیاری کی تاریخ چیک کی جائے تاکہ غیر مؤثر یا پرانا محلول استعمال نہ ہو۔ عملے کی مہارت برقرار رکھنے کے لیے ہفتہ وار تربیتی سیشنز بھی ضروری ہیں، جن میں اُنہیں صفائی اور انفیکشن کنٹرول کے تمام اصولوں کی یاد دہانی کروائی جاتی ہے۔
(3)ماہانہ کیے جانے والے ضروری اقدامات: ماہانہ ایس او پیز میں اسپتال کے پورے انفیکشن کنٹرول پروگرام کا بھرپور جائزہ لیا جاتا ہے۔ اِس مقصد کے لیے آڈٹ ٹیم ہر وارڈ اور کمرے کا تفصیلی معائنہ کرتی ہے اور یہ دیکھتی ہے کہ صفائی یا جراثیم کُشی کے اصولوں پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے۔ ماہانہ آڈٹ کے دَوران پچھلے مہینے کی HCAI رپورٹس کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ مریضوں میں انفیکشنز کے کتنے کیسز سامنے آئے اور ان کی وجوہ کیا تھیں۔
پی پی ای، جراثیم کُش مواد اور دیگر ضروری آلات کا اسٹاک بھی ماہانہ بنیاد پر چیک کیا جاتا ہے تاکہ کسی اہم چیز کی کمی پیدا نہ ہو۔ فضلے کے انتظام کا بھی خصوصی جائزہ لیا جاتا ہے، جس میں فضلے کی مقدار، فضلے کی علیٰحدگی کے طریقے اور مضر فضلے کی تلفی کے معیارات کی جانچ شامل ہوتی ہے۔
اس عمل کے ساتھ، صفائی کے عملے کی مجموعی کارکردگی بھی دیکھی جاتی ہے، یعنی یہ جانچا جاتا ہے کہ وہ روزانہ اور ہفتہ وار ایس او پیز پر کس حد تک عمل کرتے رہے۔ عملے کی مہارت مزید مضبوط بنانے کے لیے ماہانہ تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں نئے ایس او پیز اور انفیکشن کنٹرول پالیسیز سے متعلق آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔
(4)اقدامات کے عملی فوائد: یہ اقدامات، یعنی ایس او پیز اور چیک لسٹس، اسپتال میں انفیکشن کے خطرات کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان پر مستقل عمل درآمد کے ذریعے مریضوں میں HCAI کی شرح نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے، جب کہ عملے کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے۔
صفائی کے عملے کی تربیت اور روزانہ کی نگرانی اُنہیں اپنے کام میں زیادہ توجّہ اور باریکی سے کام کے قابل بناتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جراثیم کُش محلولوں اور پی پی ای کے درست استعمال کی ضمانت ملتی ہے، جس سے انفیکشن کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
مناسب ویسٹ مینجمنٹ کی وجہ سے ماحول بھی زیادہ محفوظ رہتا ہے اور اس کا براہِ راست فائدہ ڈاکٹرز، نرسز، مریضوں اور تیمارداروں، یعنی سب کو ملتا ہے۔ اس طرح ایس او پیز اسپتال میں ایک ایسا ماحول بناتے ہیں، جو صحت مند، محفوظ اور جراثیم سے پاک ہوتا ہے۔
اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے اقدامات کی اہمیت کسی بھی طبّی ادارے کی بنیاد اور معیارِ حفاظت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسپتال صرف مریضوں کے علاج کا مقام نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول ہے، جہاں مختلف نوعیت کی بیماریاں اور جراثیم موجود ہوتے ہیں۔
ہر دن ہزاروں مریض، بعض اوقات مختلف متعدّی اور غیر متعدّی بیماریوں کے ساتھ، اسپتال میں داخل ہوتے ہیں اور اگر انفیکشن کنٹرول کے سخت اقدامات نہ کیے جائیں، تو یہ جراثیم تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ اسپتال میں غیر محفوظ ماحول میں بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور دیگر جراثیم وغیرہ مریضوں، طبّی عملے اور یہاں آنے والے دیگر افراد کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ اسپتال سے منسلک انفیکشنز (Hospital Acquired Infections) ایک عام مسئلہ ہے، جو مریض کی صحت، علاج کی مدّت اور خرچ پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر کسی سرجری کے بعد انفیکشن ہو جائے، تو مریض کی شفایابی میں تاخیر ہوتی ہے، اضافی ادویہ اور ٹیسٹس کی ضرورت پڑتی ہے اور بعض اوقات مریض کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ پھر یہ کہ انفیکشن کنٹرول اقدامات صرف مریضوں کی حفاظت تک محدود نہیں بلکہ یہ اسپتال کے عملے، جیسے ڈاکٹرز، نرسز، لیبارٹری اسٹاف اور صفائی کے اہل کاروں کی حفاظت میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر عملے کو مناسب حفاظتی اقدامات جیسے دستانے، ماسک، ہینڈ ہائیجین اور جراثیم کُشی کی تربیت نہ دی جائے، تو وہ بھی بیمار ہو سکتے ہیں، جس سے اسپتال کی سروسز متاثر ہوتی ہیں اور مریضوں کا علاج متاثر ہوتا ہے۔ مزید برآں، انفیکشن کنٹرول کے مؤثر اقدامات اسپتال کا معیار بلند کرتے ہیں اور عالمی سطح پر صحت کی ایجنسیز کے معیار کے مطابق اسپتال کو محفوظ اور قابلِ اعتماد بناتے ہیں۔
انفیکشن کنٹرول کی اہم وجوہ:
(1)مریضوں کی حفاظت: اسپتال میں انفیکشن کا پھیلاؤ روکنا، مریضوں کی زندگی اور صحت کی حفاظت کے لیے سب سے اہم وجہ ہے۔
(2)طبّی عملے کی حفاظت: ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر اسٹاف کو متعدّی بیماریوں سے محفوظ رکھنا تاکہ وہ مؤثر طریقے سے مریضوں کا علاج کر سکیں۔
(3)علاج کی مدّت میں کمی: انفیکشن کے بغیر مریض جَلد صحت یاب ہوتا ہے اور اسپتال میں قیام کی مدّت کم ہوتی ہے۔
(4)اخراجات کی کمی: اسپتال سے منسلک انفیکشنز سے بچنے سے اضافی ادویہ، ٹیسٹس اور علاج کے اخراجات کم ہوتے ہیں۔
(5)اسپتال کے معیار میں بہتری: انفیکشن کنٹرول اقدامات اسپتال کے مجموعی معیار اور حفاظت کو بہتر کرتے ہیں اور اسے عالمی معیار کے مطابق بناتے ہیں۔
(6)وبائی امراض کی روک تھام: مؤثر انفیکشن کنٹرول مستقبل میں ممکنہ وبائی امراض اور جراثیم کا پھیلاؤ روکنے میں مددگار ہوتا ہے۔
اسپتال میں انفیکشن کنٹرول کے اہم پہلوؤں میں صفائی اور جراثیم کُشی، مناسب فضائی و پانی کی صحت، طبّی فضلے کو ٹھکانے لگانے کا محفوظ انتظام، مریضوں کی قرنطینہ پالیسی اور عملے کی تربیت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف موجودہ انفیکشنز کی روک تھام کرتے ہیں، بلکہ ممکنہ وبائی امراض سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اسپتال میں انفیکشن کنٹرول صرف ایک ضابطہ یا ہدایات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک لازمی ضرورت ہے، جو انسانی زندگی کی حفاظت، اسپتال کے معیار اور نظامِ صحت کی کارکردگی کو یقینی بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ (مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، سروسز اسپتال کراچی، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سندھ ہیں)