راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا فیصلہ جاری کر دیا۔
جج امجد علی شاہ نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10 سال قید اور 5، 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
ملزمان میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، کنول شوذب، راشد شفیق، شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ، شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرا اور اعجاز خان جازی شامل ہیں۔
عدالت نے ملزمان کی جائیداد بھی ضبط کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سزا پانے والے ملزمان 9 مئی کے واقعات کی سازش میں ملوث پائے گئے ہیں، جے آئی ٹی رپورٹ نے ملزمان کو پُرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی میں ملوث قرار دیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سزا پانے والے ملزمان جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ اور آرمی میوزیم پر حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں، جے آئی ٹی نے سزا پانے والے ملزمان کو 9 مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی میں مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ ملزمان پر 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے، مقدمے میں بانئ پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سمیت 118 ملزمان پر دسمبر 2024ء میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کہا کہ مقدمے میں اب تک استغاثہ کے کل 44 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں، 118 ملزمان میں 18 ملزمان دورانِ ٹرائل عدالت سے مسلسل غیر حاضر پائے گئے، 29 ملزمان مقدمے کے اندراج کے بعد کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا گیا، پراسیکیوشن نے رواں سال 6 جنوری کو اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دائر کی، عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست پر انکوائری تشکیل دی، رواں سال 8 جنوری کو 47 مفرور ملزمان کا اشتہار جاری کیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ اشتہاری ملزمان کو 7 دن کے اندر عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کا موقع دیا، عدالتی احکامات اور اشتہار جاری ہونے کے باوجود کوئی ملزم عدالت پیش نہیں ہوا، عدالت نے اشتہاری ملزمان کا اسٹیٹ کونسل مقرر کر کے چارج فریم کیا۔
جج امجد علی شاہ نے فیصلے میں کہا کہ پراسیکیوشن نے 19 گواہان کے بیانات عدالت میں ریکارڈ کروائے، اسٹیٹ کونسل نے استغاثہ کے گواہان پر جرح کی، 47 اشتہاری ملزمان کا ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ جاری کیا۔