امریکا نے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے بھارت کو عارضی طور پر روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی ہے، یہ اجازت صرف اس تیل کے لیے ہے جو پہلے ہی جہازوں میں لدا ہوا سمندر میں موجود ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت امریکا کا بہترین فرمانبردار ملک ثابت ہوا ہے، جیسا امریکا نے کہا بھارت نے بالکل ویسا ہی کیا، بھارت نے امریکا کے کہنے پر اس سال روسی تیل کی خریداری کم کر دی تھی اور اس کی جگہ امریکی تیل خریدنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی سپلائی کے دباؤ کے باعث امریکا نے وقتی طور پر بھارت کو یہ رعایت دی ہے۔
اسکاٹ بیسینٹ کے مطابق سمندر میں روسی خام تیل کی کروڑوں بیرل مقدار موجود ہے، اس تیل کو فروخت کی اجازت دینے سے عالمی منڈی میں فوری سپلائی بڑھ سکتی ہے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے بھی کہا ہے کہ بھارت کو جنوبی ایشیاء کے قریب موجود روسی تیل خریدنے اور اسے اپنی ریفائنریوں میں پراسیس کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی تیزی سے بڑھ سکے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب پیدا ہونے والی کشیدگی اور ایران سے متعلق صورتِ حال کے باعث کیا گیا ہے جہاں سے گزرنے والی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارت کو 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے، اس کے تحت 5 مارچ 2026ء تک جہازوں میں لدا روسی تیل بھارت پہنچا کر فروخت کیا جا سکے گا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف عارضی ہے اور اس سے روس کو بڑا مالی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ اس میں صرف پہلے سے موجود ذخیرے کی فروخت شامل ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا تھا تاہم بعد میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی فریم ورک طے پانے کے بعد یہ ٹیرف ختم کر دیا گیا تھا۔