وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ غلطیوں کو درست کرنے کے لیے انکوائری کریں گے، سانحہ گل پلازا میں جس کی غلطی ہوئی، انہیں سزائیں ہوں گی۔
گل پلازا میں لگنے والی آگ پر خصوصی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کی سربراہی میں اس واقعے کی انکوائری کروائیں گے، یہ انکوائری کسی کے پیچھے پڑنے والی نہیں ہو گی۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگر انکوائری میں تخریب کاری کے شواہد ملے تو اس پر ایکشن ہوگا، انکوائری میں اصل توجہ اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے پر ہو گی، اگر ضرورت پڑی تو انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی بنائیں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گل پلازا میں آگ بہت بڑا واقعہ ہے، گل پلازا میں آگ مکمل طور پر نہیں بجھ سکی ہے، فائر فائٹر اور ریسکیو کا عملہ تین جگہوں سے اندر جانے کی کوشش کر رہا ہے، شاید گل پلازا کی پوری عمارت کو گرانا پڑے۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہوگئی ہے، سانحہ گل پلازا میں 65 افراد لاپتہ ہیں، کوشش ہے لاپتہ افراد کا پتہ چل جائے۔ گل پلازا میں دکانداروں کے نقصانات پورے کرنے کے لیے اقدامات کریں گے، غلطیاں ہیں، بالکل ہیں، انکوائری میں سامنے آئے گا، ایسے واقعات کی صورت میں امدادی کام کے لیے رسائی آسان بنانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ہر کوئی اپنی ماہرانہ رائے دینا شروع کر دیتا ہے، ایسے واقعات کی صورت میں جس کا جو کام ہے اسے کرنے دیں، اس کے لیے رسائی مشکل نہ بنائیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سانحے کی جگہ کو فوری طور پر سیل کر دیا جاتا ہے تاکہ کام کیا جا سکے، دکانداروں کی بھی ذمے داری ہوتی ہے، لیکن اس وقت یہ باتیں ٹھیک نہیں۔ ہم سب کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، میں لوگوں کے سامنے جوابدہ ہوں۔
گل پلازا میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان
مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے ورثاء میں امدادی رقم کی فراہمی کل سے شروع ہو جائے گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 2024 میں 145 عمارتوں کا فائر آڈٹ ہوا تھا۔ فائر سیفٹی آڈٹ 2024 میں کیا تھا اس پر فوراً کام کریں، یہ بات درست ہے کہ کراچی کی کئی عمارتوں میں سیفٹی مسائل ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ہی فوری اقدامات کر رہے ہیں، لواحقین کے دکھ میں شریک ہونے کے لیے کابینہ اراکین ہر ایک کے گھر جائیں گے، سانحہ ہوا ہے تو اس کی ضرور وجوہات ہوں گی، جو انکوائری سے سامنے آئیں گی۔ ماضی میں ایسے سانحات کے ذمے داروں کو سزائیں بھی ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی جگہ غلطی صرف حکومت کی نہیں ہوتی، دکانداروں کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے، دکاندار اس وقت تکلیف میں ہیں، ان کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں چاہتا، جو ادارے خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں، وہ بھی اپنے گریبان میں جھانکیں۔
انہوں نے کہا کہ صورت حال کا تقاضا ہے کہ انتشار پھیلانے سے گریز کیا جائے، میں کسی کا نام نہیں لوں گا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے تھا، بس یہی کہوں گا کہ میری غلطی ہے، دنیا بھر میں ایسے واقعات ہوتے ہیں، ہمیں اپنی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آگ بجھانے کی بات کریں، مزید آگ لگانے کی بات نہ کریں، میرا قائد حزب اختلاف سے کوئی مقابلہ نہیں، ان کا تو کام ہی یہی ہے، میں ان کو جوابدہ ضرور ہوں، اصل میں جعلی کون ہے یہ دنیا جانتی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر وہ مجھ سے پوچھتے کہ لوگوں کو کیسے بحال کر رہے ہیں تو مجھے خوشی ہوتی، میں کسی سی ناراض نہیں، بس اتنا کہتا ہو کہ سب تعمیری کردار ادا کریں، کے ایم سی کی رپورٹ پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا میئر صاحب سے پوچھیں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے تاجر رہنما جاوید بلوانی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی تمام باتوں سے اتفاق کرتے ہیں، انسانی جانیں بچانے کے لیے سب سے ضروری فائر الارم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر تمام مارکیٹوں میں فائر ڈرل کرائے گا، ہم وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھے ہیں اور ضروری فیصلے کیے بغیر نہیں جائیں گے، اب مستقبل میں سانحات سے بچنے کی کوشش کریں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی مصیبت میں ہو اور اس سے تفتیش شروع کردی جائے تو الجھن ہوتی ہے۔