محکمۂ موسمیات پاکستان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کسی بھی قسم کے ماحولیاتی یا تابکاری خطرے سے محفوظ ہے، جبکہ ایران میں جاری بمباری کے باوجود کوئی منفی اثرات سامنے نہیں آئے۔
ترجمان انجم نذیر کے مطابق محکمۂ موسمیات ایران کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ڈیٹا کا تبادلہ جاری ہے تاکہ صورتِ حال پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ایرانی ڈیٹا کے مطابق بالائی فضا میں کسی قسم کے خطرناک آلودہ ذرات یا زہریلی گیسوں کے شواہد نہیں ملے، جبکہ اب تک کی مانیٹرنگ میں تابکاری کے بھی کوئی آثار سامنے نہیں آئے۔
انجم نذیر کا کہنا ہے کہ اگر خدانخواستہ کوئی تابکاری واقعہ پیش آتا ہے تو ہواؤں کے رخ کے باعث اس کے ممکنہ اثرات ترکمانستان کی جانب جا سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران میں بمباری زیادہ تر شمال مغربی علاقوں میں ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان کا سرحدی علاقہ ایران کے جنوبی حصے سے ملتا ہے جہاں صورتِ حال معمول کے مطابق ہے۔
ترجمان کے مطابق ایران کی حالیہ صورتحال 1992ء کی خلیجی جنگ جیسی نہیں جہاں بڑے پیمانے پر تیل کے کنوؤں کو آگ لگائی گئی تھی۔
انجم نذیر کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات بلوچستان، پنجاب اور بالائی سندھ میں ہونے والی بارش میں کوئی منفی اثرات نہیں دیکھے گئے، بارش فضا کو ہر قسم کی گرد اور آلودگی سے صاف کردیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات بارش کے پانی کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے کہ پانی میں غیر معمولی ذرات تو شامل نہیں، 1992ء کے برعکس آج ہمارے پاس جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی موجود ہے، سیٹلائٹ فضا میں کسی بھی زہریلے مادے یا دھوئیں کے بادل کو فوری ٹریس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اب تک کی سیٹلائٹ تصاویر پاکستان کی فضائی حدود کو بالکل صاف ظاہر کر رہی ہیں، عوام افواہوں پر کان نہ دھریں حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔