• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان نے 1947ءمیں جس بے سروسامانی کے عالم میں اپنے دفاع کی بنیاد رکھی وہ آج دنیا کی قابل ذکر دفاعی قوت بن چکا ہے۔ جو ملک ایف 16کے پرزوں کے حصول کیلئے عالمی طاقتوں کی بلیک میلنگ کا شکار رہتا تھا وہ طیارہ سازی کا بڑا اسٹیک ہولڈر بن چکا ہے۔ جو ملک طیارے خریدنے کے لیے قرضے لیا کرتا تھا اب وہی ملک طیاروں کی تجارت کے ذریعے ملکی معیشت کو سنبھالا دے رہا ہے۔پاکستان کی دفاعی پیداوار نے نہ صرف بھارتی عزائم خاک میں ملا دیے ہیں بلکہ عالمی منظر نامے پر پاکستان کے وقار میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔دنیا کے تمام دارالحکومتوں میں پاکستان کی عسکری قیادت کی پذیرائی ہو رہی ہے۔پاک فضائیہ نے اپنی جنگی مہارت سے نہ صرف بھارت کو ناکوں چنے چبوائے ہیں بلکہ پاکستان کے دشمنوں کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ اب پاکستان کا دفاع نہ صرف مضبوط ہے بلکہ جارحانہ حکمت عملی بھی اختیار کر سکتا ہے۔پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے مہارت بہادری اور بہترین حربی صلاحیت کی ایک دنیا معترف ہوئی ہے۔معرکہ بنیانِ مرصوص 2025ء نے خطے میں طاقت کے توازن کو نئی جہت عطا کی۔ اس معرکے نے نہ صرف پاکستان کی عسکری صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور دفاعی تیاری کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا بلکہ اس کے بعد پاکستان کی دفاعی صنعت کو بھی چار چاند لگ گئے۔ اس معرکے کے بعد عالمی عسکری حلقوں میں پاکستان کو ایک سنجیدہ، منظم اور ٹیکنالوجی سے لیس دفاعی قوت کے طور پر تسلیم کیا جانے لگا۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر مشکل دور نے قوم کو خود انحصاری کی طرف دھکیلا۔ دفاعی پابندیاں، سیاسی دباؤ اور علاقائی کشیدگیاں اس حقیقت کو بار بار نمایاں کرتی رہیں کہ قومی خودمختاری کا تحفظ مضبوط مقامی دفاعی صنعت کے بغیر ممکن نہیں۔ آج پاکستان کی دفاعی صنعت، خصوصاً پاک فضائیہ سے جڑے شعبے اس دفاعی صنعت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایئر مارشل ظہیر بابر سدھو نے پاک فضائیہ میں جوہری تبدیلیاں کی ہیں۔اب پاک فضائیہ کا کردار محض فضائی حدود کے دفاع تک محدود نہیں رہا بلکہ جدید جنگی تصورات، تحقیق و ترقی، اور مقامی صنعت کے فروغ نے اسے دفاعی خود انحصاری کا ایک منظم ادارہ بنا دیا ہے۔ اس تبدیلی کے پس منظر میں موجودہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت اور وژن نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاک فضائیہ نے یہ واضح سمت اختیار کی کہ مستقبل کی جنگیں صرف تعداد سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، نظم و ضبط اور بروقت فیصلوں سے جیتی جاتی ہیں۔ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا وژن دفاعی تیاری کو جدید خطوط پر استوار کرنے، تحقیق و ترقی کو ادارہ جاتی سطح پر فروغ دینے اور دفاعی صنعت کو قومی معیشت کے ایک مضبوط ستون میں تبدیل کرنے پر مبنی ہے۔ انکی راہنمائی میں مقامی دفاعی اداروں، تعلیمی مراکز اور صنعتی شعبے کے درمیان ہم آہنگی بڑھی، جسکا براہِ راست فائدہ دفاعی پیداوار کے معیار اور برآمدات میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔ پاکستان کی دفاعی صنعت کی سب سے نمایاں اور کامیاب علامت جے ایف 17تھنڈر ہے۔ یہ طیارہ پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار ہوا، مگر اسکی اصل پہچان اس کی مقامی تیاری، اپ گریڈیشن اور عالمی منڈی میں پذیرائی ہے۔ جے ایف 17 کی پہچان صرف ایک لڑاکا طیارہ کے طور پر نہیں بلکہ یہ پاکستان کی دفاعی خودمختاری اور تکنیکی صلاحیت کا عملی اظہار ہے۔ اسکی جدید ایویونکس، بہتر ریڈار سسٹم، جدید ہتھیاروں کی ہم آہنگی اور بلاک تھری ورژن نے اسے عالمی دفاعی مارکیٹ میں ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد انتخاب بنا دیا ہے۔ اس کامیابی میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ کامرہ آج پاکستان کی فضائی دفاعی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے، جہاں جے ایف 17 کی تیاری، اسمبلنگ، مین ٹیننس اور اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ دیگر ہوابازی منصوبے بھی جاری ہیں۔ ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ نے مقامی انجینئرز اور ٹیکنیشنز کو عالمی معیار کی مہارت فراہم کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان جدید ہوابازی کی ٹیکنالوجی میں کسی سے پیچھے نہیں۔

معرکہ بنیانِ مرصوص کے بعد پاکستان کی دفاعی برآمدات میں غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ آذربائیجان، نائیجیریا، میانمار، لیبیا اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے اس بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہیں۔ ان معاہدوں میں جے ایف 17 طیاروں کے علاوہ تربیت، تکنیکی تعاون، اسپیئر پارٹس اور طویل المدتی دفاعی شراکت شامل ہے، جس سے پاکستان کا عالمی دفاعی تشخص مزید مضبوط ہوا ہے۔دفاعی صنعت کی ترقی صرف فضائی شعبے تک محدود نہیں۔ پاکستان آرمی کے لیے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں جدید ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپ خانہ، گولہ بارود اور چھوٹے ہتھیار تیار کئے جا رہے ہیں۔ الخالد ٹینک اور دیگر زمینی دفاعی نظام پاکستان کی زمینی قوت کی مضبوط مثال ہیں، جو ملکی دفاع کے ساتھ ساتھ برآمدی امکانات بھی رکھتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان نیوی کے لیے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں جنگی جہاز، فریگیٹس، میزائل بردار کشتیاں اور معاون بحری پلیٹ فارمز کی تیاری جاری ہے۔ بحری دفاع میں مقامی صلاحیت نے پاکستان کو سمندری خودمختاری کیساتھ ساتھ خطے میں ایک ذمہ دار اور باوقار بحری قوت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ بری، بحری اور فضائی افواج کا باہمی اشتراک پاکستان کی دفاعی طاقت کی اصل بنیاد ہے۔اس حقیقت کا اعتراف بے جا نہ ہوگا کہ معرکہ بنیان مرصوص 2025ء کے بعد پاکستان کی دفاعی صنعت ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا وژن، ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کی صلاحیت اور تینوں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ ہم آہنگی اس امر کی ضامن ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا رہا ہے بلکہ عالمی دفاعی منظرنامے میں بھی باوقار مقام حاصل کر چکا ہے۔ اگر یہی سمت برقرار رہی تو پاکستان کا دفاعی مستقبل مزید روشن اور مستحکم ہوگا۔

تازہ ترین