اسلام آباد کے صدر ہاؤس میں گزشتہ جمعرات کے روز بلاول بھٹو زرداری کا خطاب محض ایک رسمی تقریب سے خطاب نہیں تھا بلکہ یہ دراصل پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری اور عوامی فلاح کے اس ماڈل کا بھرپور دفاع تھا جس کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی اور جسے شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دے کر زندہ رکھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے نہ تو جذباتی نعروں پر انحصار کیا اور نہ ہی کسی دوسرے صوبے یا ادارے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی، بلکہ اعداد و شمار، پالیسی اور عملی نتائج کی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ سندھ کی کارکردگی محض دعویٰ نہیں بلکہ ایک قابلِ تقلید حقیقت ہے۔
پاکستان میں طویل عرصے سے یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ صوبے وسائل خرچ کرنا تو جانتے ہیں مگر جمع کرنا نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں اسی مفروضے کو چیلنج کیا۔ سندھ ریونیو بورڈ کی مثال دے کر انہوں نے واضح کیا کہ اگر صوبوں کو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مالی اختیارات دیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھا سکتے ہیں بلکہ وفاقی اداروں سے بھی بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ آج یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ سندھ نے سروسز پر سیلز ٹیکس کی وصولی میں ایسی استعداد دکھائی ہے جس کا موازنہ براہِ راست فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے کیا جا سکتا ہے، بلکہ کئی حوالوں سے سندھ کی کارکردگی اس سے بہتر نظر آتی ہے۔ یہ سب کچھ کسی جادو کی چھڑی سے نہیں بلکہ شفاف نظام، ڈیجیٹل اصلاحات اور سیاسی عزم کے نتیجے میں ممکن ہوا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ سندھ نے کتنا ریونیو جمع کیا، اصل سوال یہ ہے کہ اس ریونیو کو کہاں اور کیسے خرچ کیا گیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں پیپلز پارٹی کا ماڈل دیگر صوبوں سے واضح طور پر مختلف نظر آتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے صرف عمارتوں یا بجٹ کا حوالہ نہیں دیا بلکہ انسانی جانوں کو بچانے کے نتائج سامنے رکھے۔ آج سندھ میں ایسے سرکاری ادارے موجود ہیں جہاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک سے لوگ علاج کے لیے آتے ہیں اور انہیں علاج کے اخراجات کے بارے میں سوچنا نہیں پڑتا۔ یہ وہ ریاستی تصور ہے جس کا خواب بھٹو نے دیکھا تھا، جہاں علاج امیروں کا حق نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہو۔
بچوں کی اموات کی شرح کسی بھی معاشرے کی اخلاقی اور انتظامی صحت کا پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں اس پہلو کو اجاگر کر کے یہ پیغام دیا کہ سندھ میں حکمرانی کا محور محض سیاسی فائدہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔ ماں اور بچے کی صحت کے لیے مستقل سرمایہ کاری، دیہی علاقوں تک طبی سہولیات کی فراہمی، لیڈی ہیلتھ ورکرز کا مؤثر نیٹ ورک اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام وہ عوامل ہیں جنہوں نے سندھ کو اس قابل بنایا کہ وہ بچوں کی اموات میں کمی کے حوالے سے دیگر صوبوں سے بہتر کارکردگی دکھا سکے۔ یہ اعداد محض رپورٹوں میں قید نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں میں حقیقی فرق کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا خطاب دراصل اس بحث کو بھی آگے بڑھاتا ہے کہ پاکستان میں ترقی کا راستہ مرکزیت نہیں بلکہ مضبوط صوبوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ جب وسائل اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے تو احتساب بھی ممکن ہو گا اور عوامی ضروریات کے مطابق فیصلے بھی۔ سندھ کی مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی خودمختاری کسی کمزوری کا نام نہیں بلکہ وفاق کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ این ایف سی ایوارڈ، اٹھارہویں ترمیم اور صوبائی حقوق کی بات کرتی ہے، کیونکہ یہی وہ اصلاحات ہیں جنہوں نے سندھ جیسے صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع دیا۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ سندھ نے اپنی کارکردگی کو صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں رکھا۔ دیہی سندھ، جو ماضی میں مسلسل نظرانداز ہوتا رہا، آج صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے کئی پروگراموں کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ سب اس سیاسی فلسفے کا نتیجہ ہے جس میں ریاست کو محض نگران نہیں بلکہ خدمت گزار سمجھا جاتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں اسی فلسفے کو نئے عہد کی زبان میں پیش کیا، جہاں نوجوان قیادت تجربے اور وژن کے امتزاج کے ساتھ سامنے آ رہی ہے۔
آج جب پاکستان کو شدید معاشی دباؤ، سماجی بے چینی اور اعتماد کے بحران کا سامنا ہے، ایسے میں بلاول بھٹو زرداری کا یہ خطاب ایک متبادل راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ راستہ کٹوتیوں، نجکاری اور اعداد کے کھیل کا نہیں بلکہ انسانی ترقی، صحت، تعلیم اور منصفانہ ٹیکس نظام کا ہے۔ سندھ نے اگر محدود وسائل اور مسلسل تنقید کے باوجود بہتر نتائج دیے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نیت اور ترجیح کا ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بلاول بھٹو زرداری کا صدر ہاؤس میں دیا گیا خطاب دراصل ایک سیاسی دفاع نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر تھی۔ یہ دعوت اس بات پر غور کرنے کی کہ پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے کن پالیسیوں کی ضرورت ہے اور کن نعروں نے ہمیں پیچھے رکھا۔ سندھ کی کارکردگی کوئی دعویٰ نہیں بلکہ ایک عملی مثال ہے، اور پیپلز پارٹی اسے فخر سے پیش کرتی ہے کیونکہ یہ کارکردگی عوام کے خون پسینے اور شہیدوں کی قربانیوں سے جڑی ہوئی ہے۔