مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیر اعلیٰ کے والد فاروق عبداللّٰہ نے گفتگو کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مکالمہ کی واپسی کی ضرورت پر زور دیاہے ۔ میں فاروق عبداللّٰہ کے ساتھ سنٹر فار پیس اینڈ پراگریس انڈیا کے زیر اہتمام امپروونگ پاکستان ، انڈیا ریلیشنز میں بطور مقرر شریک تھا ۔ فاروق عبداللّٰہ نے درست کہاکہ دونوں ممالک کو سارک کانفرنس کی بحالی کی جانب بڑھنا چاہئے کیوں کہ پاکستان اور انڈیا کے پاس یہ ایک اچھا موقع ہوا کرتا تھا کہ دونوں ممالک کی قیادت آپس میں ملاقات کرلیتی تھیں بغیر اس بحث مباحثہ کے کہ کس نے اس کیلئے پہل کی تھی ۔ میں نے اپنی گزارشات پیش کرتے ہوئے اس نقطہ نظر کا اظہار کیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ " کٹی " کرکے بیٹھے رہنے سے مسائل مزید گھمبیر ہوتے جائینگےاسلئے دونوں ممالک کو غیر حقیقی یا ثانوی حیثیت کے امور کی بجائے حقیقی مسائل کو زیر بحث لانا ہوگا ۔ اور بغیر کسی شرط کے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہوگا ۔ گزشتہ مئی کے پاک انڈیا تصادم سے قبل انڈیا میں یہ تصور بہت پنپ گیا تھا کہ انڈیا خطے کی ایک بالا دست قوت بن چکا ہے اور اس کو اب پاکستان سے بات کرنے کی سرے سے ضرورت نہیں رہی ہے مگر یہ خیال تار عنکبوت ثابت ہوا اور اب انڈیا کے دانش ور صاحبان کے ساتھ ساتھ ان کے سفارتی حلقوں میں بھی بات چیت کی خواہش واضح طور پر نظر آتی ہے اور یہ گفتگو اس وقت تک قطعی طور پر سود مند ثابت نہیں ہو سکتی ہے کہ جب تک اس میں کشمیر کا مسئلہ اصل موضوع بحث نہیں ہوگا ۔ پانی کے مسائل ہو ںیا دہشت گردی کے دونوں اطراف سے عائد کئے جانے والے الزامات سب پر کھلے دل سے بات کرنی چاہئے ۔
ہم یہ اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں کہ ان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی تلخی کی وجہ سے پورا خطہ ایک مصیبت زدہ کی کیفیت اختیار کر چکا ہے اور ہر جگہ پر اس کے اثرات ہیں بنگلا دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت تھی تو اس پر انڈیا میں خوشی کے شادیانے بج رہے تھے ، حالات نے پلٹا کھایا تو سب بدل گیا ۔ اس لئے باہمی مکالمہ اس پورے خطے کی تقدیر پر مثبت اثرات کا حامل قرار پائے گا ۔ میں نے فاروق عبداللّٰہ کی اس بات سے مکمل اتفاق کیا کہ سارک کے پلیٹ فارم کو بحال کرنا ہی عقل مندی ثابت ہوگی کہ کہیں پر تو گفتگو کا موقع ميسر
آ سکے ویسے دونوں ممالک ایس سی او کے بھی اراکین ہیں مگر وہاں پر بھی بس مخالفت یا کم از کم ناراضگی کا ہی مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس ویبی نار سے انڈین رکن پارلیمنٹ پروفیسر منوج جھا ، سوشلسٹ پارٹی انڈیا کے سیکرٹری جنرل سندیپ پانڈے ، او پی شاہ ، فرحت الله بابر اور شکیل چوہدری نے بھی گفتگو کیں ۔
اسی طرح انڈونیشیا کی براویجیا یونیورسٹی نے مسلم دنیا کو درپیش مسائل خاص طور پر مشرق وسطیٰ و ایران کی حاضر صورت حال پر ویبی نار سے تقریر کرنے کی دعوت دی ۔ انڈونیشیا سے عبدالله سوس ، ڈاکٹر دینا سلطان ،ملیشیا سےڈاکٹر عبدالله ساواف اور ایران سے ڈاکٹر یحییٰ جہانگیری شریک گفتگو تھے ۔میں نے اپنی معروضات عرض کرتے ہوئے کہا کہ جب سے ابراہم اکارڈ کا معاملہ درپیش ہوا ہے اس وقت سے مسلمان ممالک پر یہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ اس کی ایک بالا دست طاقت کے طور پر حیثیت قائم کی جائے ۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ عرب ممالک ایران کی عملی طور پر مدد کر رہے ہیں ۔ سامعین میں میرے کالم کا ترجمہ تقسیم کیا گیا تھا ، ایک طالب علم نے سوال پوچھا کہ عرب ممالک ایران کی عملی طور پر مدد کیوں کر رہے ہیں تو میں نے عرض کی کہ عرب ممالک کے حافظوں سے شاہ ایران کا دور ابھی محو نہیں ہوا ہے اور وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس وقت ایران میں جس تبدیلی کیلئے کوشش کی جا رہی ہے اس کا منطقی نتیجہ ایران میں اسرائیل کی بالا دستی کی صورت میں برآمد ہوگا جس کی وجہ سے عرب ممالک بالکل ہی سینڈوچ بن کر رہ جائینگے ، اس صورت حال کی گرمی سے پاکستان و ترکی کے ساتھ ساتھ چین بھی متاثر ہوگا ۔ اگر سعودی عرب پاکستان دفاعی معاہدہ ہوا ہے اور ترکی اس جانب بڑھ رہا ہے تو اس وقت یو اے ای انڈیا سے دفاعی معاہدے کی جانب رواں دواں ہے ۔ مسلم ممالک کی اسی باہمی ناچاقی کا فائدہ با آسانی اٹھالیا جاتا ہے ۔ان حالات میں پاکستان ، انڈونیشیا ، ملیشیا ، ترکی ، ایران غرض کے ڈی ایٹ ممالک کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اور مشترکہ حکمت عملی طے کریں۔ جی سی سی ممالک اگر آپس میں اسی طرح سے مناقشات میں پڑے رہے تو آہستہ آہستہ بالکل ہی ترنوالہ ثابت ہونگے ۔ انڈیا سے قریبی دفاعی تعلقات سے جی سی سی میں سے کسی بھی ملک کو برے وقت میں کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکے گا کیوں کہ انڈیا کے پاس دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں جس کا تازہ مشاہدہ ہم چاہ بہار بندر گاہ سے اس کے ہٹتے قدم دیکھتے ہوئے کر رہے ہیں ۔ جب تک یہ ممالک مشترکہ میڈیا پالیسی کو تشکیل نہیں دیتے باالفاظ دیگر اپنا بین الاقوامی سطح کا میڈیا قائم نہیں کر لیتے اس وقت تک موجودہ دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی استطاعت حاصل نہیں کرسکیں گے۔