گل پلازہ کی سلگتی چنگاریاں، راکھ ،ملبہ، جگرکے ٹکڑوں کے ٹکڑے ،خاک شدہ آرزوئیں، عرش کی طرف لپکتی آہیں، ماؤں کی سسکیاں ،بہنوں کے بین ،بھائیوں کے نوحے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں:’’شہر اصلی انجینئرنگ سے چلتے ہیں سیاسی انجینئرنگ سے نہیں‘‘ ہم تو شہر چلانے کے بھی اہل نہیں ہیں دعوے کرتے ہیں ملک چلانے کے۔گل پلازہ جیسے المیے واضح کرتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں میں 21ویں صدی کے چیلنجوں کے مقابلے کی اہلیت ہے نہ تربیت اور یہ بھی کہ خود کو عقل کل سمجھنا حکومتی عہدوں ،اداروں اور خزانوں کو مال غنیمت سمجھنا خود فریبی ہے اور لاکھوں کروڑوں جیتے جاگتے انسانوں کو کھلونے جاننا ایک عظیم ملی گناہ۔گل پلازہ کی آگ ہو، گلشن اقبال کے مین ہول میں گرنیوالے بچے کی ہولناک کہانی، مری میں برفباری میں پھنسنے والوں کی اموات، 'سوات کے ہوٹل میں سیلاب میں بہہ جانے والے سیاحوں کے خاندان، ریلوے حادثے ٹریفک کے المیے کیا ظاہر کرتے ہیں کہ اس عظیم مملکت پاکستان کے منصب دار چاہے وہ کسی بھی عہدے پر ہوں وہ ایسی ذمہ داریوں کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ وقت للکار رہا ہے کہ ہمارے کونسلر سے لے کر صدر مملکت تک کو اچھی گورننس کی تربیت چاہیے۔’’الناس علی دین ملوکہم‘‘ یعنی عام لوگ اپنے حکمرانوں کے راستے پر چلتے ہیں۔ جب خود حکمران قانون ساز اپنے آئین اور قانون کی پروا نہیں کرتے تو عام لوگ بھی قائدےضابطے بھول جاتے ہیں۔
ہم تو سقوط مشرقی پاکستان جیسے عظیم المیے اور اسکے اسباب کو یکسر فراموش کر چکے ہیں تو گل پلازہ کی آگ کو کیوں یاد رکھیں گے ۔وہ دکھی مائیں ضرور اس ہفتہ اتوار کو یاد رکھیں گی جنکے 12 ، 14 اور 16 سال کے بیٹے بھتیجے بھانجے اب گل پلازہ سے کبھی گھر نہیں لوٹیں گے۔ ہے وہ سہاگنیں ضرور کرب میں مبتلا رہیں گی جن کے سہاگ 2026 کے آغاز میں ہی اجڑ گئے ان کی چوڑیوں کی کرچیاں ان کے آنگنوں میں بکھری رہیں گی۔ جدید ترین ٹیکنالوجی بھی کام نہیں آئی آڈیو میسج آتے رہے۔ موبائل فون لوکیشن بتاتے رہے ۔تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ہم شہر چلانے کیلئے اتنے فکر مند نہیں ہوتے جتنےمیگا پروجیکٹس سے اپنا کک بیک لینے کی جدوجہد کرتے ہیں۔دنیا بھر میں شہروں کے بازار، فلائی اوور ، شاہراہیں انسانوں کی سہولت کیلئے تعمیر کی جاتی ہیں لیکن پاکستان میں ایسے منصوبوںسےحکمرانوں، ٹھیکیداروں افسروں کے بیٹے بیٹیوں کی شادیوں میں پانی کی طرح بہانےکیلئے دولت اکٹھی کی جاتی ہے۔ منصوبوں کے وقت ذمہ داروںکے سامنے دوسروں کی اولادوں کی آسانیاں اور خوشحالی نہیں ہوتی صرف اپنی اولادوں کی بیرون ملک منتقلی کے اسباب ہوتے ہیں ۔شہر قائدکے قلب پر جو بھی قیامت گزری ہے۔ اس کا منطقی اور تاریخی تقاضا یہ ہے الزام تراشی کا جواب دینے کے بجائے وزیراعلیٰ صوبے کے ہر شہر کو محفوظ اور مامون بنانے کیلئے منصوبہ بندی کریں ۔سابق میئرز ،ایڈمنسٹریٹرز ،تاجروں صنعت کاروں کے ساتھ بیٹھیں شہروں میں جہاں جہاں زیادہ تعداد میں لوگ کام کرتے ہیں خریداری کیلئے آتے ہیں انکے سربراہوں کو بلائیں۔ یونیورسٹیاں، جہاں ہمارا مستقبل پرورش پا رہا ہے ہزاروں طلبہ و طالبات جہاں ہوتے ہیں ان کے وائس چانسلروں سے رہنمائی لیں۔
اس تبادلہ خیال سے سارے شہروں کے ہر زبان بولنے والے کو احساس ہوگا کہ حکمران احساس زیاں رکھتے ہیں ۔گلشن اقبال کے مین ہول سانحے میں جیسے ذمہ داروں کا تعین کیا گیا تھا۔ کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز 'اسسٹنٹ ایگزیکیوٹو انجینئر میونسپل سروسز اسسٹنٹ ایگزیکٹوانجینئرٹاؤن اور اسسٹنٹ کمشنر کو معطل کیا گیا تھا اسی طرح گل پلازہ کے متعلقہ ٹاؤن کے ان افسروں کے خلاف بھی کارروائی ناگزیر ہے ۔صرف کراچی ہی نہیں سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں جتنے انسان بھی سانس لیتے ہیں ۔ سب کی جان کی حفاظت صوبائی حکومت کا اولین فرض ہے ۔کیا وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کبھی تنہائی میں بھی اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہے کہ سندھ کے سب اضلاع میں رہنے والے کیا واقعی آفات ناگہانی کی صورت میں محفوظ ہیں ۔کیاکبھی کوئی ریہرسل کی گئی کہ ہنگامی صورتحال میں از خود حفاظتی اقدامات کیا کیا ہونے چاہئیں ۔ وزیراعلیٰ اپنی پریس کانفرنس میں 2024 کے جس فائر آڈٹ کی بات کر رہے ہیں کیا ان دو سو سے زیادہ بلڈنگوں میں گل پلازہ شامل تھا اور اگر تھا تو اس کا فائر آڈٹ کیا تھا اس پر کوئی کارروائی کی گئی تھی یا نہیں ۔سب کچھ چھوڑیے یہ بتائیے کہ کیا وزیراعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس،سندھ سیکرٹریٹ، کے ایم سی بلڈنگ 'مارکیٹیں اور دوسرے اضلاع میں ایسی عوامی عمارات میں کوئی اقدامات کیے گئے کیا ان عمارتوں کے نقشے متعلقہ اداروں کے پاس ہیں ۔انگریز نے یہاں حکمرانی کیلئے جو سسٹم بنایا تھا جس میں روزانہ کی انسپیکشن شامل تھی۔ ہم آزاد ہونے کے بعد ان سارے سسٹموں سے بھی ازاد ہو چکے ہیں۔ میرے خیال میں سب سے اہم نظام تھا: انسپیکٹریٹ کا ۔شاپ انسپیکٹراوزان اور پیمائش کے انسپیکٹر ٹرانسپورٹ کے انسپیکٹر گوشت کے انسپیکٹر ۔اور یہ ہر روز اپنے اپنے علاقے میں اپنے متعلقہ محکمے کے قوانین پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے اور رپورٹ تیار کرتے تھے ان کی رپورٹوں پر کارروائی بھی ہوتی تھی۔ انسپیکٹریٹ نظام کو فوری طور پر فعال کیا جائے۔ایسے سنگین واقعات اور ہولناک سانحوں کے بعد سرکاری طور پر ایک جامع اور واضح پریس نوٹ جاری ہوتا تھا جس میں ہلاک شدگان زخمیوں کے اعداد و شمار دیے جاتے تھے اس پریس نوٹ کی دستاویزی مرکزی حیثیت ہوتی تھی ۔اب جو بے شمار ترجمان چینلوں پر بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہیں۔ ان سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی ہے اس کی نسبت بہت چھان پھٹک اور احتیاط کے بعد تیار کردہ جامع پریس نوٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کی طرف سے ترجمانوں کی گفتگو سے زیادہ با مقصد ہو سکتا ہے ۔دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اب انسانی جان نہیں صرف زر کی ہوس مرکز توجہ ہے ۔شہروں کے ماسٹر پلان لاکھوں کروڑوں لے کر برباد کیے جا رہے ہیں۔ ہم پھر یہی عرض کریں گے کہ جہاں انسان زیادہ تعداد میں مصروف کار ہوں ایسی عمارتوں کے تازہ ترین نقشے ہنگامی حالات میں کام کرنے والے فائر فائٹرز امدادی کارروائیاں کرنے والوں اور دہشت گردی کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے رضاکاروں کے پاس ہونے چاہئیں۔ شہر کے سیوریج سسٹم، صاف پانی کی فراہمی، گیس بجلی کے پائپوں کے نقشے کیا تازہ ترین ہوتے ہیں یا نہیں ۔ کیا ناگہانی آفت میں ایمبولینسوں، فائر بریگیڈوںکیلئے راستہ بنانے کی بھی کوئی صورتحال ہے۔ کیا ہمارے حکمرانوں کو ایسا ضابطہ ہر شہر کیلئے تیار نہیں کرنا چاہیے کہ آتشزنی، دہشت گردی، زلزلہ سیلاب اور دوسری ہنگامی صورتحال میں کس کو کیا کرنا ہے اوروقت آنے پر یہ ضابطہ از خود حرکت میں آ جائے ۔ہمارے شہر یار ان کے سیاسی غیر سیاسی سرپرست آج یہ بھی سوچیں کہ اگر سیاسی انجینئرنگ سے ملک نہیں چل رہا تو اصلی انجینئرنگ سے رجوع کیوں نہ کیا جائے ۔