ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کیا یہ آخری سانحہ ہوگا؟ یہ نسل کشی کا مسئلہ ہے، یہ اس شہر کے رہنے والوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، اللّٰہ تعالیٰ سانحہ گل پلازا کے شہداء کی مغفرت فرمائے۔
کراچی میں بہادرآباد آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کتنا خون دیں اور کتنے حادثات برداشت کریں، یہ شہر ایسا نہیں تھا، یہ نہ دیکھیں کہ کس لہجے میں کہہ رہا ہے یہ دیکھیں کیا کہہ رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انسانوں کی تسلیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، ایم کیو ایم بڑی جماعتوں میں سے ایک ہے اور ہم اپنی ذمہ داری اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کتنے حادثات اور برداشت کریں، کتنی لاشیں اور اٹھائیں، کتنے اور لوگ جل کر مریں، کتنے مزید بچےگٹر میں گر کر مریں، ہماری داد رسی کب ہوگی؟ لوگوں کو کیا تسلی دیں؟
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ حکومت سے جب شکایت کریں تو جواب آتا ہے بلدیہ فیکٹری کی آگ کا جواب دو، بھتا خوری کا جواب دو، کیا اس کا جواز یہ ہے؟
انہوں نے کہا کہ بے نظیر جس روز شہید ہوئیں، اس روز پورے صوبے میں آگ ایم کیو ایم نے لگائی تھی؟ 27 دسمبر 2007 کو پورے صوبے میں آگ ایم کیو ایم نے لگائی تھی؟
ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ آپ 18 سال سے ہیں، آپ ہمیں پھانسی پر کیوں نہیں لٹکاتے، سزا کیوں نہیں دیتے، آپ گل پلازا میں معصوم لوگوں کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ آپ حق بولنے والوں کو بلیک میل کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ 18 سال سے آپ لوگوں کی حکمرانی ہے، آپ اس طرح کے سانحات کا انتظار کرتے ہیں، آپ سے جواب مانگو تو آپ کہتے ہیں ایم کیو ایم نے بلدیہ فیکٹری جلائی، بوری بند لاشیں دیں، کیا یہ جواب ہے؟ جس ایم کیو ایم کے برے ہونے کا آپ ہمیں طعنہ دیتے ہیں، اس دور میں آپ کے وفاقی وزراء لندن پہنچے ہوتے تھے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاق اور ریاست کے اداروں سے کہتا ہوں یہ شہر اور کتنی قربانی دے، وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی شہر کے لیے کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ پیپلز پارٹی ناراض ہو جاتی ہے، اس حکومت کو چلانے میں پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے اور مر ہم رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی ٹائم بتادیں، بتادیں کہ آپ کے شہر میں اتنے لوگ مزید مریں گے، ہمیں صبر آ جائے، دنیا چاند پر جارہی ہے کراچی میں بچے گٹر میں گر کر مر جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جو چاہیں کریں، ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں، ریاست سے دو باتیں کہتا ہوں، اب بہت ہوچکا ، یہ نہیں سدھریں گے، کراچی کو فیڈریل ٹیریٹری کا حصہ بنایا جائے، کراچی کو وفاق کا حصہ بنایا جائے، کراچی کو وفاق کے انڈر میں لیا جائے، کراچی اب ایسی ایڈمنسٹریشن کے حوالے رہنے کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔