کراچی میں محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی اہم کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر سہیل بلوچ سمیت 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں خفیہ اطلاع پر کی گئی۔
سی ٹی ڈی کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ بارودی مواد کے ساتھ گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے تھے، جن کی بنیاد پر مشتبہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا گیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر کے مطابق جیسے ہی اہلکاروں نے گھر کا محاصرہ کیا، اندر موجود دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی۔
جوابی کارروائی میں 1 دہشت گرد موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ 3 زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے جا رہے تھے تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
ہلاک دہشت گردوں میں جلیل، نیاز، حمدان اور سہیل بلوچ شامل ہیں۔
ان میں سہیل بلوچ کی شناخت بعد ازاں انٹیلیجنس تحقیقات کے ذریعے کی گئی۔
سی ٹی ڈی کے حکام کے مطابق سہیل بلوچ کالعدم بی ایل اے کا ایک اہم کمانڈر تھا اور 50 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے قتل میں ملوث رہا۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ کی ٹارگٹ کلنگ کا بھی ماسٹر مائنڈ تھا۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے لیے 5 خودکش بمبار بھی سہیل بلوچ نے بھیجے تھے، اس کے علاوہ وہ دہشت گردوں کو اسلحہ، لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور مختلف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں بھی سرگرم رہا تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران ٹھکانے سے بارودی مواد، 5 ہینڈ گرنیڈ اور 1 سب مشین گن (ایس ایم جی) بھی برآمد ہوئی ہے، ہلاک دہشت گرد کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مقابلے کے دوران 2 پولیس اہلکار، ہیڈ کانسٹیبل محمد یوسف اور سپاہی راجہ جنید زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شجیل انعام میمن نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سی ٹی ڈی نے بہت بڑی کارروائی کی، ہماری بہادر فورسز نے مقابلے کے بعد 4 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گرد بھارت سے ٹریننگ اور فنڈنگ لیتے ہیں۔