وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ شہر کے لیے اہم ہے، کراچی کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کا اجلاس ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ای چالان متعارف کرانے کے بعد اب سیف سٹی کا پہلا فیز لانچ کرنے والے ہیں۔
اجلاس میں وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ میں 1300 کیمرے اور 300 پول سائٹس پر نصب کیے جا چکے ہیں۔ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے کیمروں اور ٹیکنالوجی کی تنصیب مکمل ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ دو ماہ کے اندر کراچی سیف سٹی پروجیکٹ فعال کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ شہر میں 254 کلومیٹر فائیبر کیبل بچھا چکے ہیں، 18 پوائنٹس آف پریزنس اور 23 ایمرجنسی ریسپانس گاڑیاں فیز ون کا حصہ ہیں۔
ترجمان کے مطابق اجلاس میں سیف سٹی پروجیکٹ کے لیے 34 ماہر تکنیکی و انتظامی افسران کی بھرتی اور 200 ملین روپے کا نظرثانی شدہ بجٹ کی منظوری دی گئی ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیف سٹی اتھارٹی عارضی طور پر سینٹرل پولیس آفس سے کام کرے گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ حیدرآباد اور سکھر میں بھی سیف سٹی منصوبہ لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔