ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی نے جمعرات کو جامعہ کراچی کی اراضی پر بننے والے غیر قانونی پیٹرول پمپ کو باقاعدہ سیل کر دیا، تین روز قبل پیٹرول پمپ کا این او سی منسوخ کر دیا گیا تھا۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے جنگ کو بتایا کہ پیٹرول پمپ کا این او سی منسوخ ہونے کے باوجود پمپ کا افتتاح کر دیا گیا اور پیٹرول کی فروخت شروع کردی گئی تھی۔
جس کے بعد اس کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دی گئی جس پر ڈپٹی کمشنر شرقی نے فوری کارروائی کی اور پیٹرول پمپ کو سیل کر دیا گیا، انھوں نے کہا جلد ہی جامعہ کراچی کی زمین پر قائم پیٹرول پمپ کو گرا کر زمین کو اصل حالت میں بحال کر دیا جائے گا۔
اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر شرقی کے دفتر سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دستخط سے باقاعدہ خط بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ جس کے مطابق پیٹرول پمپ کا این او سی محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے خط اور مختار کار کی رپورٹ کے ضمن میں منسوخ کیا گیا ہے۔
این او سی کی منسوخی کے خط میں کہا گیا ہے کہ سیکٹر 22 اسکیم 33 تعلقہ گلشن اقبال ڈسٹرکٹ ایسٹ حافظ پیٹرول پمپ کی این او سی جو اس سے قبل جاری ہوئی تھی اب منسوخ کر دی گئی ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کے مطابق ڈپٹی کمشنر شرقی نے پیٹرول پمپ کی این او سی منسوخ کر دی ہے اور یونیورسٹی روڈ پر قائم پیٹرول پمپ کو خالی کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
کیونکہ اس کی لیز کی 33 سالہ مدت پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے اور اب اس پر قبضہ ختم کرایا جا رہا ہے جب کہ محکمہ بورڈز و جامعات نے یونیورسٹی روڈ پر قائم پیٹرول پمپ بھی خالی کرنے کی ہدایت کرکے رپورٹ مانگ لی ہے۔