بنگلادیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے آدھے سے زائد امیدوار قرض کے بوجھ تلے دبے ہیں، جبکہ اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ٹرانسپیرنسری انٹرنینشل بنگلادیش (ٹی آئی بی) کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں سے 36 فیصد سے زائد کا تعلق اسلامی جماعتوں سے ہے، جو گزشتہ پانچ انتخابات کے مقابلے میں سب سے زیادہ شرح ہے۔
ادارے نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے 59.41 فیصد امیدوار قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 51 سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، جن کے 1,981 امیدوار ہیں، 249 امیدوار آزاد حیثیت میں (13 فیصد) جبکہ 1,732 امیدوار پارٹی ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔
25.5 فیصد سے زائد امیدوار کسی نہ کسی قسم کے قرض یا واجبات رکھتے ہیں، امیدواروں پر مجموعی قرضہ 18,868.52 کروڑ ٹکا ہے، جس میں 17,471.67 کروڑ ٹکا کے بینک قرضے شامل ہیں۔
قرض دار امیدواروں کی تعداد اگرچہ کم ترین ہے، تاہم قرض کی مجموعی مالیت گزشتہ پانچ انتخابات میں سب سے زیادہ ہے۔
ٹی آئی بی کے مطابق قرض دار امیدواروں میں سب سے زیادہ شرح 59.4 فیصد بی این پی امیدواروں کی ہے، آزاد امیدوار: 32.79 فیصد جبکہ جاتیا پارٹی کے 26.97 فیصد امیدوار ہیں۔
اثاثوں کے حوالے سے 891 امیدوار کروڑ پتی جبکہ 27 امیدوار ارب پتی ہیں۔
خواتین امیدواروں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ کوئی بھی جماعت 5 فیصد خواتین امیدواروں کا ہدف حاصل نہ کر سکی۔ پیشہ وارانہ اعتبار سے 48 فیصد سے زائد امیدوار تاجر ہیں، جبکہ وکالت (12.61 فیصد)، تدریس (11.56 فیصد) اور سیاست (1.56 فیصد) بطور پیشہ درج کی گئی۔
530 امیدواروں کے خلاف اس وقت مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جبکہ 740 امیدوار ماضی میں مقدمات کا سامنا کر چکے ہیں۔
ٹی آئی بی کے مطابق تمام امیدواروں کے اعلان کردہ انتخابی اخراجات 463.7 کروڑ ٹکا ہیں، اوسطاً 22.5 لاکھ ٹکا فی امیدوار ہے۔
بی این پی نے سب سے زیادہ 119.5 کروڑ ٹکا جبکہ جماعت اسلامی بنگلادیش نے 80.6 کروڑ ٹکا کے اخراجات ظاہر کیے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کئی امیدواروں کے شریکِ حیات یا زیرِ کفالت افراد کے اثاثے خود امیدواروں سے زیادہ ہیں، جن میں منقولہ جائیداد، عمارات اور زمین شامل ہیں۔