• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حالیہ مہینوں میں ایک خاص سیاسی حلقے کی جانب سے ایک منظم اور مسلسل بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست کے بعد پاکستان سے ’’برین ڈرین‘‘ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ اس بیانیے کو سوشل میڈیا، ٹاک شوز اور جذباتی نعروں کے ذریعے اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے ملک کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ ڈھانچہ تیزی سے خالی ہو رہا ہو اور اہل، قابل اور تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہوں۔

یہ تاثر نہ صرف مبالغہ آمیز ہے بلکہ حقائق کے منافی بھی ہے۔ چند روز قبل فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسی غلط فہمی کو واضح انداز میں رد کیا اور بتایا کہ پاکستان سے بیرونِ ملک جانے کا رجحان کوئی اچانک پیدا ہونے والا بحران نہیں بلکہ ایک منظم، دستاویزی اور عالمی معاشی تناظر سے جڑا ہوا عمل ہے۔

سوشل میڈیا پر جس انداز سے یہ موضوع پیش کیا جا رہا ہے، اس سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لوگ ہاتھوں میں پاسپورٹ لے کر ایئرپورٹس پر قطاریں بنا کر کھڑے ہوں، ٹکٹ خریدیں اور بس کی طرح جہاز میں سوار ہو جائیں،نہ ویزا درکار ہو، نہ ورک پرمٹ، نہ میزبان ملک کی ضرورت، نہ کسی مہارت کی جانچ۔ حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی نقل مکانی دنیا کے سب سے زیادہ ریگولیٹڈ شعبوں میں سے ایک ہے، جہاں ہر قدم ریاستی قوانین، ویزا پالیسیوں اور میزبان ممالک کی لیبر ڈیمانڈ سے مشروط ہوتا ہے۔

حقائق کیا کہتے ہیں؟

اعداد و شمار کا غیرجانبدارانہ جائزہ لینے سے صورتحال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ سن 2025ءمیں تقریباً 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانی قانونی اور دستاویزی طریقے سے بیرونِ ملک روزگار کے لیے گئے۔ ان میں سب سے بڑی تعداد سعودی عرب جانے والوں کی تھی، جہاں 5 لاکھ 30 ہزار سے زائد پاکستانی کارکن مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس کی بڑی وجہ سعودی وژن 2030 کے تحت تعمیرات، صحت، ٹرانسپورٹ اور خدمات کے شعبوں میں افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی ضرورت ہے۔مزید تفصیل میں جائیں تو یہ بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اسے محض ’’برین ڈرین‘‘ کہنا حقائق کے ساتھ زیادتی ہے۔یہ اعداد و شمار صاف بتاتے ہیں کہ بیرونِ ملک جانے والوں کی اکثریت مزدور اور ہنرمند طبقے پر مشتمل ہے، نہ کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اشرافیہ پر۔ اگر چند ہزار ڈاکٹر یا انجینئر بیرونِ ملک جاتے ہیں تو یہ رجحان دہائیوں سے موجود ہے اور دنیا کے تقریباً ہر ترقی پذیر ملک میں پایا جاتا ہے۔

برین ڈرین اور لیبر مائیگریشن میں فرق

یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ ’’برین ڈرین‘‘ سے مراد وہ صورتحال ہوتی ہے جب کسی ملک کے انتہائی تعلیم یافتہ اور تحقیق و اختراع سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں ملک چھوڑ دیں، جس سے اندرونی صلاحیت متاثر ہو۔ اسکے برعکس ’’لیبر مائیگریشن‘‘ ایک وسیع معاشی عمل ہے جس میں ہنرمند، نیم ہنرمند اور غیر ہنرمند افراد بہتر روزگار کیلئے بیرونِ ملک جاتے ہیں۔پاکستان کے معاملے میں غالب رجحان لیبر مائیگریشن کا ہے، نہ کہ خالص برین ڈرین کا۔ یہی رجحان ہمارے خطے کے دیگر ممالک میں بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر 2025ءمیں 11 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی بیرونِ ملک روزگار کیلئے گئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 11 تا 12 فیصد اضافہ ہے۔ بھارت، جو تیزی سے ترقی کرتی معیشت ہے، آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ بیرونِ ملک مقیم شہریوں والا ملک ہے۔

بیرونی منڈیوں کی ضرورت، نہ کہ ملکی ناکامی

یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ پاکستانی محنت کش اور پیشہ ور افراد جن ممالک کا رخ کر رہے ہیں، وہ معاشی مجبوری کے تحت انہیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ جرمنی کا ای یو بلیو کارڈ، کینیڈا کا ایکسپریس انٹری سسٹم، جاپان کا اسپیشل اسکلڈ ورکر پروگرام،یہ سب اسکیمیں میزبان ممالک کی افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنےکیلئے بنائی گئی ہیں، نہ کہ کسی ملک کو خالی کرنے کیلئے۔

ترسیلاتِ زر: نظر انداز کیا گیا سچ

’’برین ڈرین‘‘ کے شور میں ایک حقیقت کو دانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے، اور وہ ہے ترسیلاتِ زر۔ مالی سال 2025 میں پاکستان کو 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 26.6 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ رقم آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ملنے والی رقوم سے بھی زیادہ ہے۔یہ ترسیلات زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتی ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرتی ہیں، روپے پر دباؤ کم کرتی ہیں، لاکھوں گھرانوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرتی ہیں اور غربت میں کمی کا ذریعہ بنتی ہیں۔

اصلاح کی ضرورت، پروپیگنڈے کی نہیں

اس سارے تجزیے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہمیں اپنے ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد کو ملک میں روکنے کیلئے کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بہتر تنخواہیں، تحقیقی سہولیات، شفاف نظام اور پیشہ ورانہ عزت وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک میں ٹیلنٹ کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔ مگر مبالغہ آرائی اور سیاسی پروپیگنڈا مسائل کا حل نہیں ہوتا۔

نتیجہ

پاکستان اس وقت کسی غیر معمولی برین ڈرین سے دوچار نہیں بلکہ ایک منظم لیبر مائیگریشن کے عمل سے گزر رہا ہے، جو عالمی معیشت کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر کی بلند ترین سطح یہ ثابت کرتی ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی ملکی معیشت کیلئے بوجھ نہیں بلکہ سہارا ہیں۔سنجیدہ قومیں نعروں سے نہیں، اعداد و شمار اور حقیقت پسندانہ پالیسی سے فیصلے کرتی ہیں۔ ہجرت کے موضوع پر ہمیں جذبات نہیں بلکہ دانش کو رہنما بنانا ہوگا۔

تازہ ترین